185

جوبائیڈن نے مسلمانوں پر عائد سفری پابندیاں ختم کردیں

امریکی صدر جوبائیڈن نے عہدہ سنبھالتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلم اکثریت رکھنے والے چند ممالک پر لگائی گئی سفری پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق جوبائیڈن نے امریکا کے 46ویں صدر کی حیثیت سے عہدے کا حلف لیتے ہی مسلمانوں پر عائد پابندی ختم کرنے سمیت 15 صدارتی حکم ناموں پر دستخط کردیے، ان میں اکثر حکم نامے ڈونلڈ ٹرمپ کی پناہ گزین مخالف پالیسی سمیت دیگر متنازہ پالیسیوں کو ختم کرنے کیلئے جاری کیے گے ہیں۔جوبائیڈن کی جانب سے جن صدارتی حکم ناموں پر دستخط کیے گئے ہیں ان میں مسلمانوں پر سفری پابندیوں کا خاتمہ، پیرس ماحولیاتی معاہدہ میں شمولیت اور کرونا بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کے حکم نامے سرفہرست ہیں۔امریکی صدر نے نے اپنے ابتدائی حکم نامے میں عالمی ادارہ صحت میں واپس جانے کا اعلان بھی کیا ہے، جس سے ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہہ کر علیحدگی اختیار کردی تھی کہ یہ ادارہ کرونا وائرس کے دوران چین سے سخت باز پرس نہیں کررہا۔اس موقع پر امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ حکم نامے اور ہدایات جاری کرنے کیلیے وقت ضائع نہیں کرسکتے، ہم کورونا بحران کو کنٹرول کریں گے، کرونا سے متاثرہ معیشت کی بحالی کیلئے امداد کی فراہم کریں گے، ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کریں گے اور نسلی مساوات کو فروغ دیں گے۔امریکی صدر کی جانب سے دیگر صدارتی حکم ناموں میں، وفاقی املاک پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا، کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے وائٹ ہاؤس میں نئے دفتر کا قیام شامل ہے۔بائیڈن نے صدارتی حکم نامے کے ذریعے میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کا کام بھی معطل کردیا ہے اس کے علاوہ  آرکٹک ریجن میں تیل وگیس کی دریافت سے متعلق لیز منسوخ کردی گئی ہیں واضح رہے کہ ہر آنے والا امریکی صدر ابتدائی دنوں میں پچھلے صدر کی جانب سے عائدہ کردہ پالیسیز کو روکنے کے لیے بہت سارے حکم نامے جاری کرتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہی کیا تھا لیکن ان کے متعدد حکم ناموں کو عدالت میں چیلنج کر دیا گیا تھا۔