28

حکومت کا مثبت فیصلہ

حکومت نے 18جنوری سے ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میںمئی اور جون میں بورڈ امتحانات کے انعقاد ، موسم سرما و گرما کی چھٹیوں میں کمی اور تعلیمی سال22-2021اگست سے شروع کرنے کی تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت صحت کی سفارش کی روشنی میں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نویں سے بارہویں تک تعلیمی ادارے 18جنوری، پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے تعلیمی ادارے 25جنوری جب کہ یونیورسٹیز یکم فروری سے کھولی جائیں گی۔ بین الصوبائی وزارت تعلیم کا اجلاس 14 یا 15 جنوری کو دوبارہ طلب کیا جائے گا جس میں کورونا کیسز کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد 18جنوری سے تعلیمی اداروں کو کھولنے کی توثیق کی جائے گی مارچ میں ہونے والے بورڈ امتحانات اب مئی اور جون میں منعقد کیے جائیں گے 'کورونا کی دوسری لہر کے پیش نظر ملک بھر کے تعلیمی ادارے چھبیس نومبر سے بند تھے۔ چوبیس دسمبر تک اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز میں گھر سے تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔تعلیمی سلسلے کے انقطاع کو ختم کر کے دوبارہ آغاز خوش آئند ہے کیونکہ پہلے ہی طلباء کا بہت تعلیمی نقصان ہو چکا ہے'یہ امر بھی غور طلب ہے کہ سب کچھ کھلا ہے جلسے جلوس ہو رہے ہیں مگر کرونا کا خطرہ نہیں' کیا کرونا صرف تعلیمی اداروں سے پھیل رہا ہے؟ حالانکہ تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پر عمل کیا جاتا ہے'  پہلے ہی پڑھائی کا اتنا حرج ہو چکا ہے  پاکستان جیسے ملک میں جہاں شرح تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کے سکول جانے کا رجحان بھی کافی کم ہے، بچے سکول کی عادت ہی نہ بھلا دیں۔یہ سلسلہ جاری رہا کہ تو بچوں میں تعلیم کے لیے رغبت ختم ہو جائے گی۔ اس کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ وائرس ختم ہو جائے گا؟ تو کیا تعلیم دینا بند کر دیں۔ بند کرنا حل نہیں بلکہ اس کے ساتھ جینا ہے۔اس لیے جہاں ایس او پیز پر عمل نہیں کیا جا رہا وہاں انتظامیہ کو جواب دہ بنایا جائے، جرمانے کیے جائیں، گرفتار کیا جائے یا کوئی بھی سزا دی جائے۔ بچوں کے مستقبل کے تناظر میں صورتحال اتنی سادہ نہیں ہے۔ سکول سے بہتر کوئی بھی تعلیم نہیں دے سکتا ہے۔ بچے کسی بھی جماعت میں ہوں ان کی سیکھنے کی صلاحتیوں پر اس تعطل سے فرق تو پڑے گا۔ پرائمری اور مڈل پر تعلیمی سلسلہ رک جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ مرحلے تو بچوں کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مفروضہ رکھنا کہ بورڈ کے امتحان اصل امتحان ہوتے ہیں غلط ہے۔ بچے بورڈ کے امتحانات بھی تبھی اچھے دے پائیں گے جب ان کی بنیاد اچھی ہو گی۔ پاکستان میں براہ راست ڈیجیٹل لرننگ صرف دس لاکھ بچوں تک ہے جبکہ ڈھائی کروڑ سے زائد بچے کسی نہ کسی توسط سے اس سہولت کا استعمال کر پاتے ہیں۔ اس کے لیے بھی بچے انہیں یہ سہولت دینے والوں کے محتاج ہیں۔ ان حالات میں بچوں پر سلیبس کور کرنے اور امتحانات دینے کے لیے دبائو نہیں ڈالا جانا چاہیے کیونکہ اس سے بچوں میں ذہنی دبائو میں اضافہ ہو رہا ہے۔اگرچہ بچوں کی سیکھنے کی صلاحیتوں پر کسی حد تک فرق ضرور پڑا ہے لیکن اگر اساتذہ بچوں کے ساتھ رابطے میں رہیں جیسے کے آج کل آن لائن تعلیم کی وجہ سے ہو رہا ہے کسی نہ کسی شکل میں تو اس سے کلاس روم سے زیادہ ربط بڑھ رہا ہے۔ اور طلبہ اور اساتذہ میں دوستی ہو گئی ہے۔لیکن اس تعطل سے بچے کی سیکھنے کی صلاحیت کسی حد تک تو خسارے میں جائے گی تاہم والدین نے اس لاک ڈائون کے دوران بچوں کے ساتھ بہت تعاون کیا۔ایسے بچے جو اس تعلیمی سال میں پوری روح سے علم کا حصول ممکن نہیں بنا پائے یا جو سکول جانا ترک بیٹھے ہیں ان کا مستقبل خطرے میں ہے جو بچہ ایک سال کسی بھی وجہ سے تعلیمی سلسلے جاری نہیں رکھ پایا وہ اس خلا کو پر نہیں کر پائے گا اس مفروضہ میں کوئی وزن نہیں ہے۔  بچوں کو ایک یا دو سال کے لیے اگر سکول سے ہٹا بھی لیا جائے تو اس سے ان کا مستقبل خطرے میں ہرگز نہیں پڑتا کیونکہ پاکستان میں دینی تعلیم کے لیے اکثر والدین ایسا پہلے سے ہی کرتے ہیں۔ بچوں کا تعلیمی سلسلہ کسی نہ کسی طور جاری ہے، اگرچہ گریڈز نہیں آ رہے۔ اس جز وقتی تعطل سے بچوں کی تعلیم متاثر ضرور ہو گی لیکن یہ ان کا مستبقل تباہ کرنے کا سبب ہرگز نہیں بنے گا۔ سکول بند نہیں ہونے چاہیں کیونکہ یہی بچے گھر میں کونسا احتیاطی تدابیر اپنائیں گے اگر حالت زیادہ خراب ہو رہے ہوں تو ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ حکومت نے ٹیلی سکول بھی قائم کیا ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی لیکچرز اور اسائنمنٹ کا کام ہو سکتا ہے بلکہ یہ ایک نئے ماڈل کو ٹیسٹ کرنے کا اور ڈیجیٹلائیزیشن کی طرف جانے کا ایک نادر موقع ہے۔ یہ صورتحال دنیا بھر کو در پیش ہے۔ ہم جو ماہر تعلیم ہیں یا جو ہم تعلیم کے علمبردار بنتے ہیں ہمیں سیکھنا پڑے گا کہ اس ایک سال میں بچوں کا جو تعلیمی حرج ہوا ہے، یا بچوں کے تصورات جو کمزور پڑ گئے ہیں اس کے لیے ہم کیا کیا کر سکتے ہیں؟ یہ نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ پوری دنیا میں تعلیم سے متعلق افراد کے لیے وقت ہے کہ وہ اکھٹے ہو جائیں۔ نصاب کے معاملے میں چنیدہ مضامین اور ابواب کا انتخاب کیا جانا ضروری ہے۔اس طرح سلیبس کم نہیں ہوتا۔ اس میں ذہانت کا استعمال ضروری ہے۔ اس میں آسان اور مشکل چیزوں کا تناسب رکھا جاتا ہے۔ جس میں ماضی اور مستقبل میں ایک ربط قائم رکھا جاتا ہے۔  بچوں کے نصاب میں تبدیلیاں اس وقت ناگزیر ہیں اس میں مدد کے لیے ٹیلی وژن کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسے پروگرام نشر ہونے چاہیے جن میں سائنس، ریاضی پر گفتگو ہو اور سوال حل کیے جائیں۔ اور والدین جتنے چاہے غریب ہوں ان کے گھر میں کسی نہ کسی طور ٹیلی وژن ضرور ہوتا ہے۔ یا ایف ایم ریڈیو کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بچوں کا کسی بھی چیز کے لیے توجہ کا دورانیہ اب چھ منٹ سے بھی کم رہ گیا ہے۔ اس لیے نصاب ترتیب دینے والوں کو سوچنا ہو گا کہ مضامین کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا جائے۔ بچوں کو مطالعے کی عادت ہونی چاہیے وہ مطالعہ کرے گا تو سلیبس کور کر لے گا۔`کئی والدین کے لیے گھر اور دفتر کے کام کے ساتھ ساتھ بچوں کو پڑھانا ایک مسئلہ ہے تو کئی کے خیال میں تحفظ زیادہ ضروری ہے۔  شہری اور کسی حد تک دیہی آبادی میں بھی آن لائن تعلیم کے ذریعے یہ سلسلہ جاری رکھا گیا۔ تاہم کئی والدین کے لیے اس وقت اور طویل المدتی قابل عمل طریقہ نہیں ہے۔پاکستان میں آن لائن ایجوکیشن کے کوئی اہمیت ہی نہیں ہے ،نہ ٹیچرز کا تجربہ ہے نہ سٹوڈنٹس کا اور نہ ڈیویلپ سٹیٹ ہے کہ ہر سٹوڈنٹ کو فیسیلیٹیٹ کرسکے،  صرف ایجوکیشن مسئلہ نہیں سیاسی جماعتوں پر نظر ثانی کرنا چاہیے ،بازاروں پر ،شادی ہالز پر اجتماعات پر تاکہ محفوظ رہیں۔تعلیمی ادارے بند نہیں کرنا چاہیں۔ یہ طلبہ کے لیے نقصان ہے  پچھلے چھ مہینے کے تلخ تجربے سے یہ ثابت ہوا کہ خاص طور پر چھوٹے بچوں کے حوالے سے آن لائن تعلیم محض ایک خام خیالی ہے۔ یہ بچے تو سکول میں اساتذہ کی موجودگی میں بمشکل تعلیم پر آمادہ ہوتے ہیں۔ چہ جائکہ آن لائن۔ زیادہ تر بچوں نے اس بہانے والدین سے موبائل فون ہتھیا لیے ہیں اور کلاسز کے دوران وہ ویڈیو گیمز اور ویڈیوز انجوائے کررہے ہوتے ہیں۔ والدین کا مخمصہ یہ ہے کہ یہ سب جانتے ہوئے بھی آن لائن کلاسز کے نام پر بچوں کو موبائل اور نیٹ مہیا کرنے پر مجبور ہیں۔آن لائن تعلیم ایک معیاری نظام تعلیم نہیں ہے۔ پاکستان میں آن لائن تعلیم یونیورسٹی لیول پر معیاری نہیں ہے تو سکولوں میں کیسے آن لائن ممکن ہے؟ خاص کر پرائمری لیول پر آن لائن نا ممکن سے بات ہے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے اور سکول کھول دیے جائیں ۔بچوں کا تعلیمی سال بڑھا کر اگست تک لے جائیں تاکہ وقت مل سکے آن لائن کلاسز بالکل کامیاب نہیں رہیں بچوں کو بہت سی الجھنیں پریشان کر رہی ہیں اور اسا تذہ بھی بہت الجھن کا شکار ہیں کورس بار بار ریوائز ہو رہا ہے اور سوائے الجھن کے کچھ نہیں ملا، والدین پک اینڈ ڈراپ،سکول فیس اور ٹیوشن اکیڈمیز کی فیسیں بھر بھر کے بیزارہو رہے ہیں۔ سب سکولوں کو بند کیے جانے کے بجائے سکولوں کیلئے بھی سمارٹ لاک ڈائون کا لائحہ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔جن علاقوں میں کورونا وائرس نہ ہو یا بہت کم ہو ان علاقوں میں سکول، کالج کھلنے چاہیں۔