43

خالصہ سرکار قانون کے تحت سکردو میں 28ہزار کنال اراضی پر سکردو ایئرپورٹ تعمیر کیا گیا،مجد حسین ایڈووکیٹ

گلگت (خصوصی رپورٹ) قائد حزب اختلاف امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ 1974ء میں گلگت بلتستان سے راجگی نظام کا خاتمہ ہوا جس کے نتیجے میں علاقے کی اراضی عوام کی ملکیت قرار دی گئی مگر1978ء میں علاقے میں خالصہ سرکار کا قانون لاگو کیا گیا جس کے تحت گلگت بلتستان کی زمینوں کی بندربانٹ ہوئی اور بکروال بڑی بڑی زمینوں کے مالک بن گئے جبکہ علاقے کے زمیندار غریب بن گئے، اس قانون سے سب سے زیادہ متاثر گلگت اور سکردو کے عوام ہوئے، اس قانون کے خاتمے کیلئے ہم نے شاملات دیہہ کا بل اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرادیا ہے مگر چار ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود یہ بل اب بھی سپیکر کے چیمبر میں پڑا ہوا ہے، اس بل کو سپیکر کے چیمبرز سے اسمبلی میں پیش کیا جائے کسی کو اعتراض ہے تو ہم اعتراض دور کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے منگل کے روز ایک قرارداد پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ کے دور حکومت میں لیگی حکومت نے عوام کی ملکیتی ہزاروں کنال اراضی لوگوں کو الاٹ کرنا شروع کردی جس کی وجہ سے علاقے میں ایک تحریک شروع ہوئی تحریک کے  نتیجے میں لینڈ ریفارمز کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ کمیشن نے 80فیصد اراضی عوام کی ملکیت جبکہ 20فیصد اراضی سرکار کی ملکیت قرار دیتے ہوئے فارمولا طے کیا مگر عوام نے اس فارمولے کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ خالصہ سرکار قانون کے تحت سکردو میں 28ہزار کنال اراضی پر سکردو ایئرپورٹ تعمیر کیا گیا اورعوام کی ملکیتی اراضی پر ایئرپورٹ بنایاگیا، اس طرح گلگت ایئرپورٹ کے متاثرین کو محتسب کے فیصلے کے بائوجود معاوضہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1986ء میں اراضی کی الاٹمنٹ پر پابندی عائد کی گئی مگر پابندی کے باوجود پٹواری بااثر افراد کی ملی بھگت سے روزانہ کی بنیاد پر الاٹمنٹ کررہے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی الاٹمنٹ اور خالصہ سرکار کے خاتمے کیلئے ہم نے بل اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرادیا ہے مگر اس بل پر روزانہ کی بنیاد پر اعتراضات لگائے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس بل کو ایک دفعہ سپیکر کے دفتر سے اس اسمبلی میں پیش ہونے کا موقع دیں یہ ممبران کا حق ہے کہ اس بل کو مسترد کر دیں یا منظور کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ گلگت بلستان کے عوام کا مسئلہ ہے ، کسی فرد واحد کا مسئلہ نہیں، اس حوالے سے ہم نے ایکٹ  نہیں بنایا تو لوگوں کی زمینوں پر قبضے کا سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ جاری رہے گا۔ نواز خان ناجی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں کوئی خالصہ سرکار اراضی نہیں ہے، خالصہ سکھوں کو کہتے ہیں یہاں پر نہ تو کوئی سکھ ہے نہ ہم نے سکھوں کو دیکھا ہے، اگر گلگت بلتستان کے بنیادی حقوق پر کسی وجہ سے ڈاکہ پڑا تو علاقے میں بڑا فساد ہوگا، انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی اراضی عوام کی ملکیت ہے یہاں پر کوئی خالصہ سرکار نہیں ہے۔