44

خوبانی کی کمائی

احسان علی دانش 

2020 کا سال نکلتا جا رہا ہے، اسے چپکے سے نکلنے دو اور آنے والے سال کے لئے دعا کرو کہ وہ سال یہ سال جیسا نہ ہو۔ وہ سال اس سال کی طرح دنیا والوں کو مزید نہ ڈرائیں جیسے اس سال کرونا نے دنیا کو جام کر دیا اور دنیا کا سارا کاروبار ٹھپ ہوگیا۔دنیا سے بڑی تعداد میں غیر معتبر کے ساتھ ساتھ بڑے معتبر لوگ کرونا کے بچھائے گئے جال میں پھنس گئے اور ملک عدم سدھار گئے۔کرونا کے علاوہ اس سال گلگت بلتستان کے سیاسی میدان میں ایسے ایسے اپ سیٹ ہوئے کہ جن کے ساتھ رونما ہوا وہ خود حیرت میں ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ انہونا واقعہ کیوں پیش آیا۔ جن کو خیال تھا کہ ہم سیاسی میدان کے پرانے کھلاڑی ہیں اور کوئی ہمیں ہرا نہیں سکتا مگر نئے آنے والوں نے ایسی اننگز کھیلیں کہ ان کے ہاتھ کے کیچز ہی چھوٹ گئے اور کیچز کے ڈراپ ہونے کے بعد ہار کی صورت یقینی ہوجاتی ہے۔ بعض کو ان کی اپنی قابلیت کا گھمنڈ کھا گیا چونکہ عوام کو اپنے چھوٹے بڑے مسائل حل کرنے والے چاہئے ہوتے ہیں جلسوں میں فلسفہ جھاڑنے والے نہیں۔ بعض سیاستدانوں سے لوگ تنگ تھے جو نہ جلسے میں اچھی تقریر کر سکتے ہیں نہ اچھی تحریر، بعض سیاستدان ووٹرز کو کسی طرح شیشے میں اتار کر ووٹ حاصل کرجاتے تھے مگر ووٹر نے کہا کہ ہم ذرا شیشے کو ہی تبدیل کر کے دیکھتے ہیں۔ اور حکومت بالکل نئی بن گئی بس جیسی بن گئی اب ٹھیک ہی ہے۔اس بار بعض نو آموز سیاستدان کامیابی کے سٹینڈ پر کھڑے ہوچکے ہیں انہیں ابھی تک یقین کامل نہیں ہو رہا ہے ارے ہمارے ساتھ یہ کیا ہوگیا اور گاڑی کے ساتھ لہراتی سبز ہلالی جھنڈی دیکھتے ہیں تو گویا کبھی وہ خود کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں۔ بہرحال  موجودہ نو منتخب ممبران اور وزرا  کے لئے اچھے مشیروں کی ضرورت پیش آئے گی جن کا بندوبست یہ سارے کر چکے ہوں گے۔ پھر بھی حال گزشتہ سے پیوستہ رہا تو چار سال کے بعد انہی عوام سے ان کا پھر سامنا ہونا ہے جہاں ان کا بھی حال وہی کرنا ہے جو ابھی والوں کے ساتھ کیا ہے ۔ مجھے ذاتی طور پر سیاست سے  لگائو کم الیکشن سے زیادہ ہے۔ الیکشن ایک شہری ذمہ داری کے ساتھ ایک نئی تفریح کا بھی نام ہے۔ ہاں مجھے گلگت بلتستان کی مضبوط معیشت سے دلچسپی ضرور  ہے۔میں روز سوچتا ہوں کہ کیسے اس علاقے کے کسی پہاڑ سے تیل کا چشمہ پھوٹے  اور روز ہزاروں بیرل تیل پیدا ہوں،  یا کیسے ایک پہاڑ سے سونے کی کان نکل آئے اور راتوں رات کویت، سعودیہ، جاپان یا امریکہ والے ہم سے غریب ہوجائیں، سونا نہ سہی کہیں نمک کا ہی پہاڑ ہوں، یا ہمارے سارے درختوں کو ایک سال کوئی ایسا پھل لگ جائے جن کی عالمی مارکیٹوں میں قیمت ڈالروں میں ہو اور ہم غریب سے غریب بھی ارب پتی بن جائیں یا کم از کم ہمارے پالتو جانور گوبر کے ساتھ دن میں ایک بار ایک اشرفی بھی دے بس جاپان یا امریکہ والے سے بات چیت کرتے وقت بول سکیں یار اپنی اوقات دیکھ کر ہم سے بات چیت کریں۔ سنا گیا ہے کہ اس سال خوبانی اور سیب کے پیڑوں پر ضرورت سے زیادہ پھل لگے اور زمیندار پھلوں کو جمع کرتے کرتے تھک گئے۔ گئے وقتوں میں بلکہ آج تک پھلوں کو اتارنے، جمع کرنے اور سکھانے کا طریقہ دقیانوسی رہا۔ وہی درخت کا ایک بھی حصہ لال پیلا ہوگیا تو ایک لمبا ڈنڈا مار مار کے اتارا ۔ منشائے قدرت میں درخت کی زبان ہوتی اور یہ بول سکتے تو انسان کی یہ وحشیانہ حرکت دیکھ کر چیختے چلاتے اور بستی سے کہیں دور بھاگ جاتے جہاں انسان کی شکل کیا آواز تک نہ سنی جائے۔مگر اب تک یہ بے زبان انسان کی ساری بدمعاشی سہہ رہے ہیں۔ بلتستان کی حد تک کسی بھی زمیندار نے کسی درخت سے کوئی پھل نرمی اور پیار سے نہیں اتارا البتہ ہنزہ وغیرہ میں یہ سلیقہ آیا ہوا ہے ۔اب حکومت یہ شعور دینے کی کوشش میں ہے کہ خوبانی، سیب، چیری، سمیت دیگر درختوں کا بھی کوئی ایک پھل ضائع نہ ہو اور یہ پھل شاخ سے علیحدہ ہوتے ہی تازہ تازہ اندرون ملک اور بیرون ممالک مارکیٹ میں پہنچے اور منہ مانگے دام ملیں یوں گلگت بلتستان کی عوام کے پاس پیسے اتنے آئیں کہ چائنا والے قرضہ لینے پہنچ جائیں۔ سنا گیا ہے کہ کھرمنگ کے بعض گائوں جہاں خوبانی کے پھل کثرت سے پیدا ہوتے ہیں اور سلیقہ مندی کا فقدان  اور جدید طریقہ کار سے نا آشنائی کے سبب پھلوں کا نصف حصہ خراب ہو جاتا ہے جبکہ نصف حصہ زمیندار کے گودام تک پہنچ جاتا ہے اور زمیندار اس کے زرمبادلہ سے زندگی کے دن سکون سے گزارتے ہیں ۔ ای ٹی آئی نے کھرمنگ الدینگ،  غا سینگ، مہدی آباد اور سرمیک میں زمینداروں کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں کہ 30 فیصد حصہ زمیندار ڈالیں گے 70 فیصد ای ٹی آئی کا ادارہ دے گا۔ اس طرح کروڑوں کی رقم بنتی جاتی ہے۔ اس رقوم سے زمینداروں کو اپنے اپنے گھروں کی چھتوں پر المونیم ، لکڑی اور پلاسٹک کے شیڈ بنا کر دیں گے جن میں خوبانی سیپ اور چیری کے بھی پھل سکھائے جا سکیں گے جو مٹی، سمیت دیگر آلودگی سے پاک و صاف رہیں گے۔ یہ خشک میوہ جات دنیا کی تمام مارکیٹ میں قابل قبول ہوں گے۔ چونکہ دنیا کی لذیذ ترین خوبانی گلگت بلتستان میں پیدا ہوتی ہے  مگر پھلوں کو سلیقے سے خشک کر کے اچھی پیکنگ کے ساتھ پیش کرنے کا ہنر اب تک نہیں  آیا ہے۔ جس دن اپنی پروڈکٹ کو خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کرنے کا ہنر آجائے گا اس دن سے اپنے مال کا منہ مانگا دام مل جائے گا۔ پھلوں کے حوالے سے دلچسپی کی بات یہ بھی ہے کہ جس خوبانی کا پھل زیادہ میٹھا ہوتا ہے اور خشک کر کے کاروبار بھی کیا جاتا ہے اسے خلمن کہتے ہیں جو بلتستان کے چند خاص گائوں میں  بکثرت پائے جاتے ہیں ان میں شگر، چھورکا، حشوپی،  خوبانستان، الچوڑی،  سکردو، رگیایول، خپلو براہ،  سلینگ،  غورسے،  اور کھرمنگ الدینگ شامل ہیں۔ ان میں سے اکثر مقامات پر عام درخت کو خلمن بنانے کے لئے پیوند کرنا پڑتا ہے جبکہ براہ اور کھرمنگ الدینگ میں خلمن خود رو ہوتا ہے ۔ بغیر کسی پیوند کے کلر فل اور لذیذ پھل ملتے ہیں۔ ان گائوں میں خوبانی کے ہزاروں درخت موجود ہیں اور بعض گائوں میں  ای ٹی آئی کی مدد سے خشک میوہ جات بھی تیار ہو گئے ہیں جہاں لاکھوں کی آمدنی بھی ہوئی ہے اور اگر یہ سارے گائوں میں مجوزہ منصوبے پر مکمل عمل درآمد ہو جائے تو یہ لوگ لاکھوں نہیں  کروڑوں میں زراعت مبادلہ کما سکیں گے چونکہ اب سے پیشتر خوبانی کے پھل کا ایک بڑا حصہ ضائع کیا جارہا تھا۔