26

دنیا کے 92غریب ممالک کی کرونا ویکسین تک رسائی ہو اور اس کی قیمت ڈونرز ادا کریں، عالمی ادارہ صحت

برن(آئی این پی )کل دنیا بھر میں صحت کا عالمی دن منایا گیا، رواں برس اس دن کا مرکزی خیال ایسی دنیا تشکیل دینا ہے جس میں تمام افراد کو منصفانہ اور صحت مند ماحول حاصل ہو،7اپریل 1948 میں جب عالمی ادارہ صحت قائم کیا گیا، تو ادارے نے پہلی ہیلتھ اسمبلی کا انعقاد کیا، اس اسمبلی میں ہر سال 7اپریل، یعنی عالمی ادارہ صحت کے قیام کے روز کو صحت کا عالمی دن منانے کی تجویز پیش کی گئی، اس دن کو منانے کا مقصد ایک طرف تو اس ادارے کے قیام کے دن کو یاد رکھنا ہے، تو دوسری طرف اس بات کا شعور دلانا ہے کہ دنیا کی ترقی اسی صورت ممکن ہے جب دنیا میں بسنے والا ہر شخص صحت مند ہو اور بہترین طبی سہولیات تک رسائی رکھتا ہو۔عالمی میڈیا کے مطابق  عالمی ادارہ صحت نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں منصفانہ طبی سہولیات کی اہمیت آج جس قدر محسوس ہورہی ہے، اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی، گزشتہ سال کی کرونا وائرس وبا نے اب تک دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس موقع پر بھی معاشرتی و طبقاتی تفریق کا بھیانک چہرہ سامنے آیا ہے،عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈنہم مستقل ان خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ کرونا وائرس ویکسین کی تقسیم نہایت غیر منصفانہ ہوسکتی ہے جس میں غریب ممالک محروم رہیں گے،کچھ عرصہ قبل انہوں نے کہا تھا کہ ابھی تک دنیا کے 36ممالک ایسے ہیں جہاں تاحال کرونا ویکسی نیشن شروع نہیں کی گئی، ان میں سے 16ممالک کو کویکس (ویکسین کی تقسیم کی اسکیم)کے تحت ویکسین کی فراہمی کا پروگرام ہے، اس کے باوجود باقی 20ممالک ویکسین سے محروم رہیں گے،دوسری جانب امیر ممالک اپنے شہریوں کے لیے پہلے ہی ویکسین کی کروڑوں ڈوزز حاصل کرچکے ہیں،عالمی ادارہ صحت امیر ممالک سے اپیل بھی کرچکا ہے کہ وہ غریب اقوام و ممالک کو کرونا ویکسین کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر ایک کروڑ خوراکیں عطیہ کریں،عالمی ادارہ صحت کی کویکس ویکسین شیئرنگ اسکیم بھی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ دنیا کے 92غریب ممالک کی کرونا ویکسین تک رسائی ہو اور اس کی قیمت ڈونرز ادا کریں۔