26

دورئہ جنوبی افریقہ، قومی ویمنز ٹیم کا اعلان، قیادت جویریہ خان کے سپرد

پی سی بی ویمنز سلیکشن کمیٹی نے دورہ جنوبی افریقہ کے لیے 17 رکنی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا اعلان کردیا ہے۔بسمہ معروف کی عدم دستیابی کے باعث قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی قیادت جویریہ خان کے سپرد کی گئی ہے۔عروج ممتاز کی سربراہی میں قائم کردہ سلیکشن کمیٹی نے بائیس سے یکم نومبر تک راولپنڈی میں جاری رہنے والی نیشنل ٹرائنگولر چیمپئن شپ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ کراچی میں لگائے گئے ہائی پرفارمنس کیمپ میں خواتین کھلاڑیوں کی فٹنس جانچنے کے بعد سترہ خواتین کھلاڑیوں کے ناموں کو حتمی شکل دی۔ تین رکنی سلیکشن کمیٹی کی دیگر دو اراکین میں مرینہ اقبال اور اسماویہ اقبال شامل ہیں۔اعلان کردہ اسکواڈ کے مطابق عائشہ ظفر، کائنات امتیاز، ناہیدہ خان اور نشرہ سندھو کی قومی خواتین کرکٹ ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ  میںجویریہ خان (کپتان)، ایمن انور، عالیہ ریاض، انعم امین، عائشہ نسیم، عائشہ ظفر، ڈیانا بیگ، فاطمہ ثناء ، کائنات امتیاز، منیبہ علی، ناہیدہ خان، نشرہ سندھو، ندا ڈار، عمیمہ سہیل، سعدیہ اقبال، سدرہ نواز (وکٹ کیپر) اور سیدہ عروب شاہ. شامل ہیں۔سترہ کھلاڑیوں پر مشتمل قومی خواتین کرکٹ ٹیم گیارہ جنوری کو کراچی سے جنوبی افریقہ روانہ ہوگی، ٹیم میں شامل کھلاڑی فی الحال کراچی میں بنائے گئے بائیو سیکیور ماحول میں لگائے گئے کیمپ میں اپنی تیاریوں کا سلسلہ جاری رکھے گی۔20 جنوری کو ڈربن میں شیڈول سیریز کا پہلا ایک روزہ انٹرنیشنل میچ قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کوویڈ 19 کے باعث دس ماہ بعد انٹرنیشنل میدان میں واپسی کا سبب بنے گا۔23 جنوری کو اسی گراؤنڈ پر دوسرا ایک روزہ انٹرنیشنل میچ کھیلنے کے بعد قومی خواتین کرکٹ ٹیم پیٹرزمیرٹزبرگ روانہ ہوجائے گی جہاں وہ 26جنوری کو میزبان ٹیم کے خلاف تیسرا ایک روزہ بین الاقوامی میچ اور پھر پہلے دو ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے گے، یہ دونوں ٹی ٹونٹی میچز 29 اور 31 جنوری کو کھیلے جائیں گے۔تین فروری کو شیڈول آخری ٹی ٹونٹی میچ کھیلنے کے لیے قومی خواتین کرکٹ ٹیم ایک بار پھر ڈربن پہنچے گی۔نیشنل ویمنز سلیکشن کمیٹی کی سربراہ عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ ہائی پرفارمنس کیمپ اور نیشنل ویمنز ٹی ٹونٹی ٹرائنگولر چیمپئن شپ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی سترہ رکنی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا انتخاب کیا گیا ہے، گزشتہ تین ماہ میں ہماری کھلاڑیوں کی انفرادی سوچ اور حکمت عملی میں بہتری کے آثار واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اسکواڈ بہت متوازی ہے اور اس میں سینئر اور جونیئر کھلاڑیوں کا امتزاج شامل کیا گیا