112

دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا

 پاک فوج بلاشبہ دنیا کی سخت جان فوج ہے 'جسمانی تربیت ، پیشہ وارانہ جنگی مہارت و اہلیت کے اعتبار سے پاک فوج دنیا بھر میں بہترین فوج مانی جاتی ہے۔اس کے افسر اور جوان ہر طرح کے خطرات کا بے خوفی سے مقابلہ کرتے ہیں ۔ پاکستان کی بہادر مسلح افواج اپنی سرحدوں اور عوام کی حفاظت کرنا جانتی ہیں اور دشمن کو عبرت ناک شکست سے دو چار کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتی ہیں۔پاک فوج ہندوستانی جارحیت کا ہر اعتبار سے جواب دینے کی اہلیت رکھتی ہے' وطن کی حفاظت کیلئے اپنی زندگیاں نچھاور کرنے والے قوم کے ہیرو ہیں اور پوری قوم کو اپنے ان بہادر ہیروز کی عظیم قربانیوں پر فخر ہے'کچھ عرصہ قبل امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بھارتی عسکری صلاحیت کی قلعی کھول کر رکھ دی اور کہا تھاکہ جنگ کی صورت میں بھارت کے پاس اپنے فوجیوں کو فراہم کرنے کے لیے صرف دس دن کا اسلحہ ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں پاک فضائیہ کے مقابلے میں بھارتی فضائیہ کی پسپائی کو شکست سے تعبیر کیا اور کہا تھاکہ بھارتی فوج کی اہلیت تشویشناک حد تک متاثر ہے۔ بھارتی فوج کا 68فیصد جنگی ساز و سامان اتنا قدیم ہے کہ اسے باضابطہ طور پر ناقابل استعمال سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کی فضائی حدود میں دونوں فوجوں کے طیاروں کی  ڈاگ فائٹ بھارت کی عسکری صلاحیت اور بھارتی فوج کی کارکردگی کا امتحان تھا، جس میں پاکستان نے کامیابی سے بھارتی فضائیہ کے سوویت دور کا مگ اکیس طیارہ مار گرایا۔بھارتی فوج کو لاحق چیلنجز کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں، گزشتہ پانچ دہائی میں دونوں ممالک کے درمیان یہ پہلی فضائی جھڑپ تھی جو بھارتی فورسز کا امتحان تھا اور بھارت کو ایک ایسی فوج کے مقابلے میں پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جو سائز میں آدھی اور جس کا دفاعی بجٹ بھارت کے مقابلے ایک چوتھائی ہے۔ عالمی سطح پر افواج کی صلاحیت اور کارکردگی کے اعتبار سے جاری ہونے والی درجہ بندی میں پاک فوج ٹاپ ٹین میں شامل ہوگئی۔ دنیا کی طاقتور افواج کی2021کی جو رینکنگ جاری کی گئی ہے اس کے مطابق پاک فوج دنیا کی طاقتور ٹاپ ٹین افواج میں شامل ہے۔افواج سے متعلق جاری ہونے والی گلوبل فائر پاور کی رینکنگ میں پاک فوج کا دسواں نمبر ہے۔  اس سے پہلے پاک فوج کی رینکنگ پندرہ تھی۔رینکنگ کی بنیاد پچاس سے زائد فیکٹرز کو مد نظر رکھ کر کی جاتی ہے۔  ان فیکٹرز میں ملٹری حجم سے لے کر ملک کی فنانشل پوزیشن، جغرافیائی حیثیت جیسے عوامل شامل ہیں۔فوجی لحاظ سے طاقتور ممالک میں امریکا پہلے، روس دوسرے، چین تیسرے نمبر پر ہے رینکنگ میں بھارت بدستور چوتھے، جاپان پانچویں نمبر پر ہے۔دنیا کی پہلی پندرہ فوجی طاقتوں میں پاکستان کے علاوہ کسی کی رینکنگ میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ گزشتہ سالوں میں صرف پاکستان کی فوجی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا۔درجہ بندی میں مختلف شعبوں سے متعلق فراہم کی گئی تفصیلات کے مطابق پاکستان میں فوج کی افرادی قوت چھ لاکھ چون ہزار ہے اور اس اعتبار سے پاکستان دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے۔ جبکہ ہر سال ملک میں فوج میں بھرتی کی عمر کو پہنچنے والے افراد کی تعداد تنتالیس لاکھ ستائیس ہزار620 بتائی گئی ہے اور اس میں پاکستان دنیا کے چوتھے نمبر پر ہے۔رینکنگ کے لیے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاک فوج مالی وسائل میں دنیا کئی دیگر ممالک سے پیچھے ہونے کے باوجود صلاحیتوں اور کارکردگی میں دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک  میں شامل ہے۔ گزشتہ برسوں میں صرف پاکستان کی فوجی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا پاکستان نے ایران ، انڈونیشیا، اسرائیل اور کینیڈا کو پیچھے چھوڑ دیا۔رینکنگ میں ترکی، اٹلی، مصر، ایران، جرمنی ، انڈونیشیا، سعودی عرب، سپین، آسٹریلیا ، اسرائیل اور کینیڈا پاکستان سے پیچھے ہیں۔2021 میں مصر، جرمنی، اسرائیل، شمالی کوریا، جنوبی افریقہ، میانمار، کولمبیا، رومانیا، میکسیکو، پیرو، ڈنمارک، عراق، شام، انگولا، بلغاریہ کی دنیا کے طاقتور ترین ممالک کی فہرست میں تنزلی ہوئی ہے۔پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جن کا عالمی سیاست میں بہت اہم کردار رہتا ہے۔ اسی وجہ سے مغربی ممالک اور امریکہ کبھی پاکستان کے بہت قریب آ جاتے ہیں اور کبھی اس پر پابندیاں لگا دیتے ہیں۔ پاکستان کی عالمی سیاست میں کیا اہمیت ہے اور بائیس کروڑ آبادی سے زائد آبادی کا یہ وطن کتنا طاقتورہے؟ سب سے بڑی طاقت پاکستان کا زبردست جغرافیہ ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ پاکستان ایشیا میں واقع ہے جو تیزی سے عالمی معیشت کا محور و مرکز بنتا جا رہا ہے۔پاکستان کے مشرق اور شمال میں دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک بھارت اور چین ہیں۔ چین کو افریقہ اور عرب ریاستوں سے تجارتی کیلئے اور بھارت کو مغرب میں وسط ایشیا تک تجارت کیلئے پاکستان سے بہتر راستہ میسر نہیں ہے۔ جبکہ شمال مغرب میں واقع افغانستان کو سمندر تک رسائی کیلئے بھی پاکستان کا ساتھ چاہیے۔ مستقبل کے منظرنامے میں ایشیا کا یہ خطہ اتنا اہم ہے کہ امریکہ بھی نائن الیون کے بعد سے افغانستان میں ڈیرے ڈال چکا ہے۔دفاعی اعتبار سے دیکھیں تو پاکستان کے پاس دنیا کی پانچویں سب سے بڑی فوج ہے جس کی تعداد چھ لاکھ چون ہزار ہے۔ عالمی رینکنگ میں پاکستان کی فوج کو دنیا کی گیارہویں سب سے طاقتورفوج مانا جاتا ہے حالانکہ دفاع پر خرچ کرنے کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں 23ویں نمبر پر ہے۔ پاک فوج کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشتگردی کے اندرونی نیٹ ورک کو دس سال سے بھی کم عرصے میں کچل کر رکھ دیا۔ یہی چیلنج شام، لیبیا، یمن اور عراق کو بھی درپیش تھا لیکن یہ تمام ممالک ان خطرات کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے اور خانہ جنگی کا شکار ہو گئے۔ اسی طرح افغانستان میں امریکہ اور ستر ملکوں کا فوجی اتحاد سترہ سال میں بھی مسلح گروہوں کو شکست نہیں دے سکا۔ پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے۔ پاکستان دنیا کے ان طاقتور ممالک میں شامل ہے جو تھرڈ اور فورتھ جنریشن کے لڑاکا طیارے، آبدوزیں، جنگی بحری جہاز اور سیٹیلائٹس بھی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا، نوجوان آبادی کے لحاظ سے پانچواں اور رقبے کے لحاظ سے پینتیسواں بڑا ملک ہے۔معاشی میدان میں دیکھا جائے تو پاکستان پرچیزنگ پاور کے لحاظ سے دنیا کی چوبیسویں اور جی ڈی پی کے لحاظ سے اکتالیسویں بڑی اکانومی ہے۔ یعنی پاکستان کی مالی صورتحال دنیا کے ڈیڑھ سو ممالک سے بہتر ہے۔ پاکستان کے شہریوں کی سالانہ اوسط انکم سولہ سو انتیس ڈالر ہے جو کہ بھارت اور بنگلہ دیش سے زیادہ ہے۔ عالمی معاشی اداروں کے مطابق پاکستان دوہزار تیس تک دنیا کی بیسویں بڑی معاشی طاقت بننے کی طرف جا رہا ہے۔ جبکہ دوہزارپچاس تک اٹلی اور کینیڈا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پاکستان دنیا کی سولہویں بڑی معیشت بن سکتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اور امن کا تسلسل برقرار رہے۔ پاکستانی معیشت کی کمزروی یہ ہے کہ اس کا زیادہ انحصار زراعت کے شعبے پر ہے۔ زیادہ پانی اور زرخیز زمین ہونے کے باوجود پاکستان کی زرعی پیداوار عالمی معیار سے انتہائی کم ہے۔ جس کی بڑی بنیادی وجہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہ کرنا ہے۔ پاکستان اپنی زراعت اور صنعت میں جدت لائے تو اسے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔سیاسی لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان کو تین عالمی طاقتوں چین، روس اور ترکی کے قریب تر دیکھا جاتا ہے جبکہ امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ سے پاکستان کے تعلقات اتارچڑھائو کا رہتے ہیں۔ سی پیک کے باعث پاکستان کی اہمیت مزید بڑھ رہی ہے اور زیادہ سے زیادہ ممالک تجارتی مقاصد کیلئے پاکستان کا رخ کرتے نظر آ رہے ہیں۔پاکستان کی ایک اور بڑی کمزوری اس کے ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان سے مسلسل خراب تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ غیر مستحکم جمہوریت بھی پاکستان کی ترقی کے راستے میں پریشان کن رکاوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار یہاں بڑی سرمایہ کاری کرتے ہوئے ذرا محتاط ہوتے ہیں۔الغرض پاکستان بہت بڑے جغرافیے اور آبادی والے ممالک کے درمیان قائم ایک مضبوط اور طاقتور ملک ہے۔ جس کی قوت کا کثیر حصہ اس کی بڑی آبادی، اہم جغرافیے، طاقتور فوج اور چین کے ساتھ تعلقات سے جڑا ہوا ہے۔پاک فوج کے سابق ترجمان میجر جنرل آصف غفور کہہ چکے ہیں  کہ بھارت یاد رکھے کہ پاک فوج کی طاقت اس کا بجٹ نہیں۔ یہ وہی فوج ہے اور اسی بجٹ کے ساتھ ہے جو 27 فروری 2019 کو تھی۔ بھارتی فیک میڈیا قومی دفاعی بجٹ پر واویلا کر رہا ہے۔ پاکستانی فوج میں جواب دینے کی مکمل اور بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ پاک فوج کی طاقت بجٹ نہیں بلکہ اس کا عزم عوام کی طاقت ہے۔ پاکستانی قوم مسلح افواج کے پیچھے کھڑی ہے۔یہ بجٹ کا نہیں قوم اور پاک فوج کے عزم کا معاملہ ہے۔ ہمارے پاس استعداد کار اور جواب دینے کی مکمل صلاحیت بھی ہے۔