84

سابق حکومتوں کی سستی،ساڑھے 30ارب کے چھ پاور پراجیکٹس لٹک گئے

سابق حکومتوں کی عدم دلچسپی سستی اور غیر سنجیدگی کے باعث گلگت بلتستان میں ساڑھے تیس ارب روپے کے6بڑے پاور پراجیکٹس التوا میں پڑگئے وفاق سے منظور ہونے والے جن 6 بڑے پاور پراجیکٹس پر دس سال گزرنے کے بعد بھی کام شروع نہیں ہوا ہے ان میں 5ارب روپے کا 26میگاواٹ شغرتھنگ بجلی گھر 10 ارب روپے کا 34میگاواٹ کا ہرپوہ بجلی گھر ڈیڑھ ارب روپے کا تھک چلاس پاور پراجیکٹ 6ارب روپے کا ہینزل پاور پراجیکٹ 3ارب روپے کا نلترتھری پاور پراجیکٹ اور 5ارب روپے کا ریجنل گرڈ کا منصوبہ شامل ہے 26میگاواٹ شغرتھنگ پاور ہاوس کا منصوبہ 11نومبر2011 کو منظور ہوا پیپلزپارٹی کی پانچ سالہ حکومت اپنے ہی دور میں منظور ہونے والے شغرتھنگ پاور ہاوس پر کام شروع نہ کراسکی مذکورہ پاور ہاوس پر 5ارب روپے خرچ ہونے تھے سابق حکومت کی غیر سنجیدگی اور سستی کی وجہ سے پانچ ارب کے بڑے پاور ہاوس کا منصوبہ تاحال التوا میں پڑا ہے34 میگاواٹ ہرپوہ پاور ہائوس بھی پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں 3 اپریل 2014ء میں منظور ہوا مگر پی پی کی سابق حکومت اپنے دور میں منظور ہونے والے اس بڑے پاور پراجیکٹ پربھی کام نہ کراسکی اور دس ارب روپے کا یہ بڑا منصوبہ بھی تاحال زیربحث  ہے پیپلزپارٹی کی سابق حکومت اپنے دور میں16اگست 2012ء کومنظور ہونے والے ڈیڑھ ارب روپے کے تھک چلاس پاور پراجیکٹ پر بھی کام شروع کرانے میں ناکام رہی 11جون 2015 میں منظور ہونے والے 3 ارب روپے کے نلتر تھری پاور پراجیکٹ پربھی تاحال کام شروع نہ ہوسکا جس طرح پیپلزپارٹی پانچ سال میں ایک میگاواٹ بجلی پیدا نہ کرسکی اسی طرح مسلم لیگ ن کی حکومت بھی اپنے دور میں 7جولائی 2016کو منظور ہونے والے 6ارب روپے کے 20 میگاواٹ ہینزل پاور پراجیکٹ پر کام نہ کراسکی 17نومبر 2019کو  5 ارب روپے سے نیشنل گرڈ کا منصوبہ منظور کیاگیا مگر نیشنل گرڈ کے منصوبے پر بھی کام شروع نہ ہوسکا اورمسلم لیگ ن نیشنل گرڈکے ذریعے بجلی کی فراہمی یقینی بنانے میں بھی کامیاب نہ ہوسکی دونوں سابق حکومتیں پانچ سال بلیم گیم میں مصروف رہیں لیکن بدقسمتی سے ایک میگاواٹ بجلی بھی سسٹم میں شامل کرانے میں سابق حکومتیں ناکام رہیں مسلم لیگ ن نے اقتدارمیں آتے ہی دعویٰ کیا کہ وہ سو دنوں میں پورے گلگت بلتستان سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرے گی تاہم پانچ سال گذرگئے ایک میگاواٹ بجلی نہ ہوسکی پیپلزپارٹی بھی دعووں پر وقت ٹالتی رہی موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ سابق ادوار میں جن منصوبوں پر کام شروع نہیں ہوا تھا ان میں سے کئی منصوبوں پر رواں سال اپریل یا مئی میں ٹینڈر کرائے جائیں گے پوری کوشش ہے کہ زیرالتوا بجلی گھروں پر فوری کام شروع کئے جائیں تاکہ بحراں پر قابو پایا جاسکے حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ صوبائی وزیر برقیات مشتاق حسین بڑے پاور پراجیکٹس پر فوری کام شروع کرانے کے مشن پر اسلام آباد روانہ ہوگئے ہیں 2021 کا سال روشنیوں کا سال کہلائے گا اپریل یا مئی میں بڑے پاور منصوبوں کے ٹینڈرز ہونگے۔