30

سانحہ مچھ کے متاثرین کی دلجوئی میں تاخیر:چہ معنی دارد

وزیراعظم عمران خان نے مچھ سانحے کے متاثرین کو کوئٹہ آنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے اپیل کی ہے کہ وہ جاں بحق کان کنوں کی تدفین کردیں'انہوں نے کہا کہ پہلے بھی مشکل وقت میں اظہار یکجہتی کیلیے کوئٹہ آئے، جلد دوبارہ کوئٹہ آکر تمام خاندانوں سے تعزیت کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ اپنے لوگوں کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گے، غم زدہ ہزارہ خاندانوں کی تکلیف اور مطالبات کا علم ہے، مستقبل میں اس قسم کے حملوں کی روک تھام کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ازراہِ کرم اپنے پیاروں کو دفن کیجئے تاکہ انکی روحیں آسودگی پائیں، سب یہ جان لیں کہ ہمارا ہمسایہ اس فرقہ وارانہ دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔وزیراعظم کی اپیل کے بعد دھرنا منتظمین کی جانب سے کہا گیا کہ دھرنے کے شرکا نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ وزیراعظم کی آمد تک اپنے پیاروں کی تدفین نہیں کریں گے اور دھرنا جاری رکھیں گے۔ زیراعلی بلوچستان نے کہا کہ ہم ہزارہ برادری کے ساتھ حال ہی میں پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے بہت افسردہ ہیں، داعش جیسے عناصر اس طرح کے واقعات کر کے پاکستان میں چیزوں کو خراب کرتے ہیں۔ ایسے عناصر پاکستان، پاکستانی قوم اور یہاں کے امن کے دشمن ہیں اور اس میں بہت سارے ہاتھ ملوث ہیں۔ مچھ میں حال ہی میں لوگ واپس اپنے علاقوں میں لوٹے ہیں اور مچھ میں کام کرنے والے کان کن بے چینی و خوف کا شکار ہیں جبکہ ہمارے سرکاری ملازمین، مزدور اور طلبہ پریشان ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سانحہ مچھ کے متاثرین کا دکھ ناقابل بیان ہے اور اس کا ازالہ انہیں مکمل تحفظ فراہم کر کے ہی کیا جا سکتا' حیرت اس بات پر ہ کہ وزیراعظم ان کا دکھ بانٹنے کے لیے تاحال تریف نہیں لے جا سکے حالانکہ انہیں پہلے روز ہی ہزارہ کمیونٹی کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہیے تھا'دہشت گردی کا ناسور طویل عرصے سے ملک کو لپیٹ میں لیے ہوئے ہے' جب اسلام انسانیت کے قتل کو کبیرہ گناہ قرار دیتا ہے تو پھر کس مذہب کے لوگ ہیں جو انسانیت کے دشمن ہیں اور خاص کر ان کا مرکز ومحور مسلمان ہی کیوں ہیں ؟ معصوم شہریوں کو کیوں وہ آئے روز خون میں نہلا دیتے ہیں کیوں کوئی ان کو روکنے والا نہیں یقینا یہ لوگ سرحد پار سے تعلق رکھتے ہیں بھارتی ایجنسیوں سے ان کا تعلق ہے جو پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں؟کیا مسلمان ہونا ان کا قصور ہے یا پاکستانی ہونے کی سزا ملتی ہے۔ گزشتہ واقعات سے ابھی زخم بھرے نہیں تھے کہ گزشتہ دنوں ظالموں نے بلوچستان کو پھر خون سے رنگ دیا'ان کو شہادت کا جام پلا دیا' ان کا قصور کیا تھا؟ ان جوانوں کی مائوں کو کون دلاسہ دے گا ان کے بچے کس انتظار میں دن گزاریں گے کون ان کے سر پر ہاتھ رکھے گا کفالت کی ذمہ داری کس کے سر ہوگی۔ بوڑھے والدین کا سہارا چھیننے کے بعد ان کے دلوں پر کیا گزری ہوگی ان کا سہارا کون بنے گا؟ اس پر حکومت وقت کو مل بیٹھ کر سوچنے کا لمحہ ہے اور ایسے دل دہلا دینے والے واقعات کو روکنے کیلئے سیاسی وعسکری قیادت کو سر جوڑنے کی ضرورت ہیں اگر یہ سلسلہ یو نہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب لوگوں میں نفرتوں کے بیج بوئے جائیں گے 'گزشتہ چند دہائیوں سے بھارت کچھ مقامی لوگوں کے ملاپ سے کوشش کررہا ہے لیکن فی الحال وہ اپنی اس گھٹیا حرکت میں ناکام رہا ہے اور بدلے کے طور پر نہتے لوگوں پر کارروائی کرکے ان کو ابدی نیند سلانے کی کوشش کرتا ہے سرحد پارسرکار شاید اپنے ملک میں چلنے والی تحریکوں کا بدلہ بلوچستان سے لے رہی ہے بھارت خطے میں امن کا خواہاں نہیں بلکہ حالات کی کشیدگی کو ترجیح دیتا ہے۔ کوئٹہ واقعہ میں بھی یقینا سرحد پار کارندوں کا ہاتھ ہے اللہ پاک جام شہادت پانے والوں کے درجات بلند کرے  اور سیاسی وعسکری قیادت کو توفیق دے کہ وہ دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار بن کر بے گناہ شہریوں کی حفاظت کریں جن کی ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ملک دشمن طاقتیں مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے اسلام کے قلعے اور مسلم امہ کی ایٹمی طاقت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سالمیت و خود مختاری پر شب خون مارنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔خطے پر داعش کا خطرہ مسلسل منڈلا رہا ہے۔ہمارا مکاردشمن ہر محاذ پر شکست سے دوچار ہو چکا ہے اور نہیں چاہتا کہ پاکستان میں امن قائم ہو تاکہ وہ اپنی مذموم سازشوں کے لئے پاکستان کے لئے نت نئی مشکلات کھڑا کرتا رہتا ہے۔دہشت گردی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی افغانستان سے ہوتی ہے۔پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے، دنیا جانتی ہے کہ کیسے ہم نے امریکا طالبان مذاکرات میں مثبت کردار ادا کیا، دوسری جانب کٹھ پتلی افغان انتظامیہ ہے جو فقط روپے پیسے کے لالچ اور بھارتی خوشنودی کے لیے اپنے برادر اسلامی ملک پاکستان کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے۔ نیز اپنی سرزمین پاکستان کو کمزورکرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ افغان جنگ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے جس نے امریکی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔  گوادر کراچی کوسٹل ہائی وے اور رزمک میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے انہی ملک دشمن قوتوں کی کارستانی ہیں۔ درحقیقت کراچی اور بلوچستان خصوصی طور پر دشمن کے نشانے پر ہیں، فوجی قافلوں پر حملے، ایل او سی پر بھارت کی بزدلانہ تخریبی کارروائیاں یہ سب ایک ہی لڑی کا تسلسل ہیں۔بلوچستان کے حوالے سے بھارت پہلے ہی واضح طور پہ کہہ چکا ہے کہ یہ ہمارے ٹارگٹ پر ہے اور بلوچستان میں بھارت کی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی بھی نہیں ہے۔ بعض بلوچ نوجوانوں اور نام نہاد رہنمائوں کو پاکستان کے خلاف بھڑکانے میں بھارت کا کردار دنیا بھر کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ افواجِ پاکستان اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے ملک میں مختلف قسم کے آپریشن کے بعد کراچی، بلوچستان، فاٹا، وزیرستان اور شمالی علاقوں میں امن قائم کیا، یہ امن نہ صرف بھارت کے لیے خطرے کی علامت بن گیا بلکہ اس کے اربوں کھربوں روپے بھی اسے ضائع ہوتے نظر آئے جو اس نے پاکستان میں انتشار پھیلانے کے لیے صرف کیے تھے۔ اب کراچی اور بلوچستان کے حالات ایک بار پھر حساس ہوتے جا رہے ہیں اور اس کا فوری طور پر کوئی سیاسی حل نہ نکالا گیا تو مشکلات بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ بلاشبہ دہشت گردی کے خاتمے میں افواج پاکستان کی قربانیاں بے مثال و لازوال ہیں تاہم اچانک ایسے واقعات میں اضافہ اس امر کا متقاضی ہے کہ آپریشن ردالفساد کو مزید تیز اور موثر بنایا جائے تا کہ بیرونی اوراندرونی دہشت گردی پر مکمل قابو پایا جا سکے۔ بدقسمتی سے موجودہ وقت میں کوئی بھی ایسی سیاسی قد آور شخصیت نہیں جو حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور حکومت میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ اگر دونوں طرف ضد قائم رہی تو حالات مزید بگاڑ کا شکار ہوں گے۔ وقت کا تقاضا تو یہی ہے کہ سیاسی معاملات میں اداروں کو ملوث کرنے کی ہرگز کوشش نہ کی جائے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ دفاع وطن کی ذمہ داریاں نبھاتے اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی دشمن کی سازشیں ناکام بناتے رہیں۔ بھارت کے ارادے ظاہر ہیں وہ مسلسل پاکستان کے خلاف کسی مہم جوئی کی کوشش کر رہا ہے۔ بلوچستان میں بھی بھارتی سازشیں عروج پر ہیں۔بھارت نے پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کیلئے اپنی تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔ نریندر مودی کے پاکستان کے خلاف جنگی عزائم اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بھارت نہ صرف تعلقات کو خراب کرنا چاہتا ہے بلکہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے جنگ بھی مسلط کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کی مشرقی اور پھر شمال مغربی سرحدوں پر محدود پیمانے کی جنگ چھیڑ دی جائے جس سے سی پیک منصوبہ خطرے کا شکار ہو جائے۔بلوچستان اور شمالی وزیرستان میں ہمارے نہتے شہریوں اور فوجی جوانوں کی شہادت اس کا بین ثبوت ہے کہ ہمارا کینہ پرور اور مکار دشمن بھارت یہاں موجود اپنے ایجنٹوں اور دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کرنے کی سازشیں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے درپے ہے۔ حال ہی میں ای یو ڈس انفو لیب نے بھارت کے مکروہ عزائم کا پردہ چاک کیا ہے لیکن دنیا خاموش ہے کیونکہ انہیں بھارت کی بڑی مارکیٹ سے ہاتھ نہیں دھونا۔