113

ست داس میلہ سج گیا

 ثمر خان ثمر


انتظار کی گھڑیاں ختم ہوگئیں، ست داس فیسٹول کا یکم مارچ 2021 کو باقاعدہ آغاز ہوگیا۔ یہ ایونٹ ماہ رواں کی نو تاریخ تک جاری رہے گا۔ افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر خوراک شمس لون، رکن گلگت بلتستان اسمبلی حاجی رحمت خالق،  معاون خصوصی وزیر اعلی گلگت بلتستان حاجی حیدر خان اور ڈی جی جی بی اسکائوٹس جناب ضیاء الرحمن صاحب نے شرکت فرمائی ۔ ست داس میں اس وقت جنگل میں منگل کا سماں ہے۔ چاروں طرف پہاڑوں میں گھرا یہ خوبصورت میدان لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ شاہراہ قراقرم سے چھے کلومیٹر دور شتیال کوہستان کے شمالا پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ جب آپ ٹیلے کی چوٹی پر پہنچ جاتے ہیں، نیچے اس طلسماتی میدان کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور آپ کی زبان سے ازخود کلمہ تحسین نکل آتا ہے۔ سواری سے اتر آتے ہیں اور قدرت کی صناعی دیکھ کر عش عش کر اٹھتے ہیں۔ میدان نیچے،  آپ اوپر اور تاحدنگاہ پھیلا ہوا خوبصورت میدان پہلی بار دیکھنے والا انسان مبہوت ہو کر رہ جاتا ہے۔ منظر اس قدر دلکش و دلفریب کہ انسانی آنکھ سیر ہی نہیں ہوتی۔ کتنا بھی نظارہ کر لیں،  بصارت پھر بھی تشنگی محسوس کرتی ہے۔ یہ منظر ہی ایسا ہے۔ میدان کے ایک گوشے میں پولو گرائونڈ ترتیب دیا گیا ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں پر اسٹیج لگایا گیا ہے۔ والی بال، فٹ بال اور کرکٹ کے لئے الگ الگ گرائونڈ مختص ہیں۔ یہ میدان اتنا وسیع ہے کہ بیک وقت درجنوں پولو،  فٹ بال اور کرکٹ میچز کھیلے جا سکتے ہیں۔ مختلف اداروں نے اپنے اپنے بینرز آویزاں کر رکھے ہیں اور ست داس کے حسن کو دوبالا کر دیا ہے۔اس نو روزہ ایونٹ میں مختلف کھیلوں کے مقابلے ہوں گے۔ ان میں گلگت بلتستان کا مقبول کھیل پولو، فٹ بال،  والی بال، کرکٹ،  رسہ کشی، گدھا پولو وغیرہ شامل ہیں۔ پولو کی پچیس،  فٹ بال چوبیس، والی بال پچیس اور کرکٹ کی چھبیس ٹیمیں ایونٹ میں حصہ لے رہی ہیں۔ پولو میں دیامیر کی بڑی بڑی ٹیمیں شامل ہیں۔ فٹ بال میں ایک ٹیم غذر سے آگئی ہے اور کرکٹ میں دیامیر اور کوہستان کی ٹیمیں شامل ہیں۔ مختلف کھیلیں مختلف ادارے اسپانسر کریں گے۔ پولو کی اسپانسرشپ این ایل سی،  والی بال محکمہ جنگلات، فٹ بال ایس سی او،  کرکٹ لوکل گورنمنٹ، رسہ کشی محکمہ تعلیم اور گدھا پولو کی اسپانسرشپ گلگت بلتستان پیٹرو گیس کو مل گئی ہے۔ مذکورہ ادارے مذکورہ ٹیموں کو ٹرافیاں، انعامات اور شرٹس وغیرہ فراہم کریں گے۔ ایس سی او نے میدان میں چار عدد وائی فائی ڈیوائسسز لگا کر شائقین کو مفت انٹرنیٹ سہولت مہیا کی ہے۔ اس کے علاوہ ایس سی او نے درجنوں کی تعداد میں رضاکاروں کو کیپ اور شرٹس فراہم کیے ہیں۔ یہ رضاکار ہر طرح کی خدمت بجا لانے کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ ست داس میں شائقین کو ہر طرح کی سہولت بہم پہنچانے کے لئے اعلی و ارفع انتظام و انصرام کیا گیا ہے۔ طعام و قیام کا فقید المثال بندوبست کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مہمان ٹیموں اور دور دراز سے تشریف لانے والے مہمانوں کے لئے ایک زبردست قسم کی خیمہ بستی قائم کی گئی ہے۔ علاج معالجے کے لئے ڈسپنسری کا بندوبست کیا گیا ہے جس میں پی پی ایچ آئی کی جانب سے چار ڈاکٹر اور چار نرسنگ اسٹاف اور پاک آرمی کی جانب سے ایک ڈاکٹر سمیت چار نرسنگ اسٹاف کی تعیناتی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ گھوڑوں کی دیکھ بھال کے لئے محکمہ حیوانات کا چاق و چوبند عملہ ہمہ وقت چوکس ہے۔ایونٹ کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر محمد زمان کی سرکردگی میں امن فائونڈیشن داریل اور عوامی ایکشن کمیٹی موضع گیال داریل کے عمائدین پوری دلجمعی اور لگن سے مصروف کار ہیں۔ ڈاکٹر صاحب  مجھے میدان میں لگائے گئے طعام کے عارضی مراکز (ریسٹورنٹ) لے گئے۔ ہم نے میدان کے کنارے لگے خیمہ ریستوران کا چکر لگایا۔ اس دوران ڈاکٹر صاحب نے اشیائے خورونوش کا معیار ملاحظہ فرمایا،  مالکان سے کھانے کا بھائو معلوم کیا اور گاہکوں سے اس بابت سوالات پوچھے۔ گاہک مطمئن دکھائی دیے اور کھانوں کا معیار اچھا محسوس ہوا۔ مناسب دام پر معیاری کھانا دستیاب ہے۔ اسی طرح فروٹ والوں سے پوچھ گچھ کی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ ست داس بغیر کسی الجھن اور ہچکچاہٹ کے تشریف لایا جا سکتا ہے ۔ یہاں پر کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ایک طرح سے شتیال بازار اٹھا کر ست داس میں گاڑا گیا ہے۔ ہر شے بازار سے بارعایت دستیاب ہے۔یہاں پر مختلف اشیاء کے اسٹال لگائے گئے ہیں۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی جب میں نے ایک اسٹال پر ہنزہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو دیکھا۔ وہ اپنی ثقافتی اشیا اور قیمتی پتھر وغیرہ لے آئے ہیں۔ یہ ایونٹ گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یکجا کرنے،  ان میں ہم آہنگی پیدا کرنے،  اتفاق و اتحاد اور امن و آشتی کے لئے ممد و معاون ثابت ہوگا۔ دیامیر اور داریل تانگیر کا خوبصورت چہرہ ابھر کر دنیا کے سامنے آئے گا۔ ان علاقوں کے لوگوں کا اخلاق،  بہادری،  مہمان نوازی اور مثبت کردار سب کے سامنے عیاں ہوگا۔ بھلے باہمی رنجشیں اور عداوتیں یہ لوگ پالتے بھی ہوں لیکن مہمانوں کے معاملے میں یہ متحد ہیں۔ مہمانوں کو یہ لوگ اپنے سر پر بٹھالیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غذر فٹ بال ٹیم کی میزبانی تانگیر اور استور پولو ٹیم کی میزبانی ہوڈر کو سونپی گئی ہے۔ جانے انجانے میں دیامیر بالخصوص داریل تانگیر کا ایک ڈرائونا اور بدنما چہرہ دنیا کو دکھانے کی سعی چاہی گئی اور بدقسمتی سے کامیابی بھی ملی۔  وہ مذکورہ علاقوں کا حقیقی چہرہ نہ تھا،  محض پروپیگنڈا تھا۔ جھوٹ اور فریب تھا۔ الحمداللہ ، اب آہستہ آہستہ وہ کالک جو زبردستی لگائی گئی تھی،  دھل رہی ہے۔جس جس نے بھی ان علاقوں کا رخ کیا ہے،  جس جس نے بھی ان علاقوں کا ایک گھونٹ پانی اور ایک نوالہ روٹی اپنے معدے میں اتارا ہے وہ یہیں کا ہو کر رہ گیا ہے۔  افتتاحی تقریب کے دوران عوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خوراک شمس لون صاحب نے پڑا داس میں گندم گودام تعمیر کرانے کا اعلان کیا۔ عوام داریل کو خوشخبری سنائی کہ گندم 2017 کی مردم شماری کے مطابق دستیاب ہوگا۔ منتظمین ایونٹ کے لئے اپنی تنخواہ سے مبلغ ایک لاکھ کا اعلان کیا۔ ڈی جی گلگت بلتستان اسکائوٹس جناب ضیاالرحمن صاحب نے ست داس کی خوبصورتی کی شاندار الفاظ میں تعریف کی اور کہا، فوج میں ایک لفظ بولا جاتا ہے دنیا کا میدان،  واقعی میں نے نیچے اترتے ہوئے دنیا کا میدان دیکھ لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت آنے پر ست داس میلہ شندور میلے سے آگے نکل جائے گا۔ میں بذریعہ تحریر اپنی، جملہ عوام داریل اور ایونٹ چیف آرگنائزر اور معاونین کی جانب سے ست داس تشریف لانے والے تمام معزز مہمانوں،  ٹیموں اور شائقین کو تہہ دل سے خوش آمدید کہتا ہوں ۔ یہ میلہ ان شاء اللہ پوری آب و تاب اور امن و آشتی کے ساتھ نو مارچ تک جاری و ساری رہے گا۔ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اس کی بھرپور کوریج کرے گا۔ یہ گمنام گوشہ ارضی ایک بار طشت ازبام ہوگا۔ ست داس نہیں دیکھا تو پھر کیا دیکھا؟  دیر کس بات کی؟ آج ہی کمر کس لیں اور ایک بار قدرت کی اس عظیم الشان صناعی کے درشن کر کے محظوظ ہو جائیں۔  آخر میں چیف آرگنائزر ست داس ایونٹ ڈاکٹر محمد زمان صاحب کو زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی سے کام کیا اور ایونٹ کو جاندار ،شاندار اور یادگار بنانے کے لئے شبانہ روز انتھک کوششیں کیں۔یہ میلہ محض کھیل تماشانہیں بلکہ درحقیقت عوام گلگت بلتستان کو باہم متحد کرنے کے لئے ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔