87

سرکاری اداروں میں غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات کیلئے اسمبلی کی پانچ رکنی کمیٹی تشکیل

گلگت(خصوصی رپورٹ)ڈپٹی سپیکر نذید احمد نے سرکاری اداروں میں غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات کیلئے اسمبلی کی پانچ رکنی کمیٹی بنادی۔ پیر کے روز گلگت بلتستان اسمبلی میں پری بجٹ سیشن کے دوران مشیر خوراک شمس الحق لون کی جانب سے غیر قانونی بھرتیوں کے انکشافات پر ڈپٹی سپیکر نے کمیٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی بھرتیوں کے حوالے سے ایوان میں بات ہوئی ہے، ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے ہیں کمیٹی تحقیقات کرے کہ کن کن اداروں میں غیر قانونی بھرتیاں ہوئی ہیں اور کتنی بھرتیاں ہوئی ہیں۔ کمیٹی تحقیقات کرکے دو ہفتے میں رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔ کمیٹی میں مشیر قانون سہیل عباس شاہ، وزیر پلاننگ فتح اللہ خان، وزیر تعمیرات وزیر سلیم، حاجی رحمت خالق اور غلام شہزاد آغا شامل ہونگے۔ اس سے پہلے مشیر خوراک شمس لون نے ایوان کو بتایا کہ گلگت بلتستان کے سرکاری اداروں میں بھرتیوں پر پابندی کے بائوجود چور دروازے سے غیر قانونی بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے، اس ایوان کو بتایا جائے کہ بغیر کسی ٹیسٹ انٹرویو اور اسامیوں کو مشتہر کیے بغیر یہ بھرتیاں کس کے حکم پر اور کون کررہا ہے، انہوں نے کہا کہ محکمہ ایجوکیشن میں ایک عرصے سے 42اسامیاں خالی ہیں، ڈپٹی کمشنر آفس استور میں گیارہ اسامیاں خالی ہیں، مگر ان خالی اسامیوں کو پر کرنے کیلئے اخبارات میں اشتہار نہیں دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف حالیہ دنوں میں ہی ایک ادارے میں سات اسامیوں پر مستقل بنیادوں پر بھرتی عمل میں لائی گئی ہے یہ بھرتیاں کس قانون ، کس ضابطے اور کس کے حکم پر عمل میں لائی گئی ہیں ایوان کو بتایا جائے۔ شمس لون نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جگہ جگہ بیمار منصوبے موجود ہیں ٹھیکیداروں کو رقم ادا کر دی گئی ہے، مگر دس دس اور پندرہ پندرہ سال گزرنے کے باوجود ان منصوبوں پر کام ہی نہیں ہو رہا ہے، انہوں نے کہا کہ استور میں 6میگاواٹ پاور پراجیکٹ کا ٹینڈر2008ء میں ہوا ٹھیکیدار کو رقم بھی ادا کر دی گئی مگر منصوبے  پرتیرہ سال گزرنے کے باوجود بھی کوئی کام نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اس طرح کے سینکڑوں بیمار منصوبے ہیں، گلگت بلتستان کا ترقیاتی بجٹ بے مقصد ضائع کرنے کی بجائے اربوں روپے عوام میں تقسیم کیا جائے تاکہ ان کی معاشی حالت بہتر ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان کی ایک کمیٹی بنائی جائے جو گلگت بلتستان کے بیمار منصوبوں کی تحقیقات کرے اور اس ایوان کو آگاہ کرے کہ گلگت بلتستان کے اربوں روپے ضائع کرنے کا ذمہ دار کون ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر نذید احمد جو اجلاس کی صدارت کررہے تھے نے ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی بھرتیوں کے حوالے سے ایوان میں بات ہوئی ہے ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔