136

سکردو ائرپورٹ سے انٹرنیشنل فلائٹس کا عندیہ


گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے حکومت نے یکم جون سے سکردو ائرپورٹ پر انٹرنیشنل فلائٹس کا آغاز کرنے کا اعلان کردیا ہے، اس مقصد کیلئے سکردو ائرپورٹ پر تمام تیاریاں مکمل کی جارہی ہیں،  وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کے مطابق حکومت سیاحت کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، ستر سال سے اس شعبے کو بری طرح نظرانداز کیا گیا، حالانکہ سیاحت کو فروغ دے کر روزگار کے وسیع مواقع پیدا کئے جاسکتے ہیں جس سے نہ صرف نوجوانوں کا بے روزگاری کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے بلکہ معیشت کو بھی اپنے پائوں پر کھڑا کرنے میں مدد مل سکتی ہے،وزیراعظم عمران خان کی کوشش ہے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ سیاحت کو فروغ دیا جائے اور غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کیلئے حکومت مختلف اقدامات کر رہی ہے، اس سلسلے میں یکم جون سے سکردو ایئرپورٹ پر انٹرنیشنل فلائٹس شروع کی جارہی ہیں،یکم جون کو پہلی انٹرنیشنل فلائٹ سیاحوں کو لے کر سکردو ایئرپورٹ پر لینڈ کرے گی، جو گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا، گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات پر لوگوں کو سیاحوں کیلئے گھروں کے ساتھ کمرے تعمیر کرنے کی غرض سے آسان شرائط پر قرضے بھی دیئے جارہے ہیں تاکہ سیاحوں کے قیام کی سہولیات میں اضافہ کیا جاسکے۔ہم سترسال پرانے طریقوں پر عمل پیرا ہیں ان طریقوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے ، سکردوایک دن میں ایک فلائٹ جاتی ہے اور تین منسوخ ہوجاتی ہیں ان حالات میں ہم کیسے سیاحت کو فروغ دینے کا سوچ سکتے ہیں۔سیاحت کے فروغ کیلئے انٹرنیشنل ہوٹلز کی چین کو پاکستان میں ہوٹلز قائم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کا عزم اور سکردو ائرپورٹ انٹرنیشنل فلائٹس کا آغازخوش آئند ہے ہم جانتے ہیں کہ سیاحوں کو سہولیات حاصل ہوں گی تو سیاحت میں اضافہ ہو گا۔ ذرائع مواصلات کسی بھی ملک کی ترقی میں بنیادی کردار اداکرتے ہیں، اس سے نہ صرف صنعت وتجارت کو فروغ ملتا ہے بلکہ عوام کو بھی سفر کی زیادہ سے زیادہ سہولتیں میسر آتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بھی یہ شعبہ حکومت کی خصوصی توجہ کا مرکز رہاہے، خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی اور اس میں ہونے والی سرمایہ کاری کی وجہ ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے میں بڑی مدد ملی ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری کی وجہ سے بھی مواصلات کے شعبے میں بے پناہ ترقی ہورہی ہے، خاص طور خنجراب سے گوادر تک طویل شاہراہ انتہائی پسماندہ علاقوں سے گزرتی ہے ، اب خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے یہ علاقے نہ صرف ملک کے دوسرے علاقوں سے مل گئے ہیں بلکہ یہاں تعمیر و ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تحت فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن ایسے ہی علاقوں میں سڑکوں کے جال بچھادیئے ہیں جہاں سڑکوں کی تعمیر کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتاتھا، ماہرین کا یہ دعوی بالکل درست ثابت ہورہاہے کہ گوادر بندرگاہ اور چین ، پاکستان اقتصادی راہداری ہماری معیشت کو مضبوط سے مضبوط تر بنادے گی، ہماری جرات مند افواج نے جس دلیری کے ساتھ دہشت گردوں کا خاتمہ کیا ہے اس سے بلوچستان کے انتہائی دشوار گزار اور خطرناک علاقوں میں عالمی معیار کی سڑکوں کی تعمیر ممکن ہوئی ہے، لیکن ہمارے یہاں سڑکوں کے نام پر بھی سیاست کی جاتی ہے جس کی وجہ سڑکوں کی تعمیر کے سینکڑوں منصوبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ، پاکستان جیسے زرعی ملک میں کھیت سے منڈی تک اور گائوں سے گائوں تک نئی رابطہ سڑکوں کی تعمیر سے دیہی علاقوں میں انقلاب لایا جاسکتا ہے لیکن سیاسی رسہ کشی اور سیاسی رقابت کی وجہ سے دیہی ترقی کے یہ منصوبے ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں جس سے دیہی علاقوں میں نئی سڑکوں کی تعمیر تو ایک طرف پرانی سڑکوں کی حالت بے حد خراب ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے کاشتکاروں کو اپنی اجناس منڈیوں تک لانے میں بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے، یہ حقیقت ہے کہ دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر کے بے شمار منصوبے سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو کے دور حکومت میں شروع ہوئے لیکن بعد میں آنیوالے حکمرانوں نے کھیت سے منڈی تک رابطہ سڑکیں تعمیر کرنے کی بجائے مالیاتی فنڈز بڑے بڑے شہروں پر خرچ کردیئے جسکی وجہ سے دیہی علاقوں کا مواصلاتی نظام تباہ و برباد ہوکر رہ گیا، حکومت کو چاہئے کہ وہ بڑی بڑی بین الصوبائی سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع اورمرمت کی طرف بھی خصوصی توجہ دے۔اس وقت ریلوے اور پی آئی اے کو ترقی دینا بے حد ضروری ہے، یہ دونوں شعبے ہرسال خسارے میں ہی جارہے ہیں جسکی وجہ سے ان کی نجکاری کرنے کیلئے مسلسل سازشیں ہورہی ہیں اور طرح طرح کے شوشے چھوڑے جاتے ہیں جس سے ان اداروں کی رہی سہی کارکردگی بھی خراب ہورہی ہے۔مسئلہ صرف یہ ہے کہ گاڑیوں کی آمد میں تاخیر ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے تاجروں کو اپنا سامان منڈیوں یا کارخانوں تک پہنچانے میں دیر ہو جاتی ہے جس سے ان کا مالی نقصان ہوتا ہے، مواصلات کے شعبے میں ہی ہوائی سفر کو بے حد اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس سے فاصلے سمٹ گئے ہیں اور وقت بھی بہت کم لگتا ہے، ہماری ناقص منصوبہ بندی اور کوتاہیوں کی وجہ سے پی آئی اے جیسی عالمی شہرت یافتہ قومی ائرلائن مسلسل بھاری خسارے میں جارہی ہے ۔ اس کے باوجود چارلاکھ سترہزار طویل روٹ رکھنے والے اس ائرلائن میں سالانہ ترپن لاکھ سے زائد مسافر سفر کرتے ہیں ، یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہر حکومت نے سیاسی بنیادوں پر اس ادارے میں بھاری تعداد میں تقرریاں کیں جسکی وجہ سے یہ قومی ادارہ خسارے میں گیا اس کی اصلاح احوال کیلئے موثر اور قابل عمل منصوبہ بندی اور اقدامات بے حد ضروری ہیں ، صرف چیئرمین یا چیف ایگزیکٹواور ڈائریکٹروں کے بدلنے سے اس ادارے کی حالت نہیں بدلے گی، اگر ہم سمندروں پر راج کرنے والی پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا جائزہ لیں تو اس کی کارکردگی بھی ہر آنے سال میں گرتی جارہی ہے ،اسی طرح اس قومی ادارے کی کشتیوں کی تعداد بھی کم ہوگئی ہے، یہ بات نہایت حوصلہ افزاہے کہ اس ادارے نے تجارتی سامان کی ترسیل اور آمدن میں مسلسل اضافہ کیا ہے ، یہ امر ہم سب کیلئے نہایت خوش آئند ہے اس کی اسی کارکردگی کے پیش نظر حکومت کو چاہئے کہ وہ اس کے بحری بیڑے کی موجودہ تعدادبڑھانے کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ یہ مثالی ادارہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے اپنا بھرپور کردار اداکرسکے۔ پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبہ تیز رفتاری سے انقلاب آیا ہے اور ہم تھری جی فور جی اور اب فائیو جی  کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔اس شعبے میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے لیکن ہم اس شعبے سے متعلقہ مشینری ، آلات اور خاص کر کمپیوٹر موبائل فون کی درآمد پر اربوں کھربوں روپے خرچ کرکے زرمبادلہ کے اپنے قومی وسائل اور خزانے پر براہ راست حملہ کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں، جس سے ترقی معکوس کا سا ماحول بن رہاہے، جس کا تدارک فوری طور پر ہونا چاہیے،ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں سولہ کروڑ سے زائد موبائل اور تقریبا باون ملین سے زائد لوگ براڈ بینڈ کی سروسز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، ٹیلی کام سیکٹر میں ہونے والی ترقی سے ہم کسی حد تک یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان واقعی اکیسویں صدی میں داخل ہوسکتا ہے لیکن جب ریلوے ، پی آئی اے اور دیگر ٹرانسپورٹ و مواصلات کے شعبوں کو دیکھتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ ہم شایدابھی بہت پیچھے ہیں۔اگر ہم نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں واقعی شامل ہونا ہے تو ہمیں اپنے ہر شعبے خاص کر مواصلات کے شعبے کو جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق ترقی دینا ہوگی، چین پاکستان اقتصادی راہداری اور گہرے پانیوں کی بندرگاہ واقعی ہمارے لئے گیم چینجر ثابت ہوگی لیکن ہمیں اپنی پالیسیوں کو بڑی ذہانت اور عقلمندی کے ساتھ ترتیب دینا ہوگا۔ یہ حقیقت ہے کہ ذرائع مواصلات کی اہمیت انسانی جسم میں ہردم گردش کرنے والے خون جیسی ہوتی ہے ، ملکی کی فضائوں، سمندروں اور میدانوں میں ہوائی جہاز، بحری جہاز، ریل گاڑیاں، سڑکوں پردوڑتی بسیں ،ٹرک اور گاڑیاں اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ملک میں نئی سڑکوں کی تعمیر، پرانی سڑکوں کی توسیع و مرمت، دوردرازعلاقوں میں رابطہ سڑکوں کی تعمیر، پی آئی اے اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے جہازوں کی تعداد میں فوری اضافہ کرے۔گلگت بلتستان چونکہ سیاحت کا حب ہے اس لیے یہاں ذرائع مواصلات کو ترویج دینے مں کوئی کسر نہ اٹھا رکھے۔