140

سیاحت کے فروغ کیلئے میگا پراجیکٹ

 زیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی اور عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائینگے۔گلگت بلتستان میں تعمیر و ترقی  اور نیا پاکستان عوام کو نظر آئیگا جس کے لئے سیاحت، جدید انفرا سٹرکچر، توانائی، معدنیات، تعلیم اور صحت کے شعبے کی بہتری کیلئے خصوصی منصوبے شروع کیے جائینگے صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا، وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید سے ملاقات میں کہا گلگت بلتستان کو عالمی معیار کا سیاحتی مقام بنانے کیلئے میگا پراجیکٹ عمل میں لایا جائے گا اس منصوبے کے تحت گلگت بلتستان کے تمام شہری و دیہی علاقوں کی ماسٹر پلان کے تحت تنظیم نو کی جائیگی۔ گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ گلیوں کا نظام، نکاسی آب اور صاف پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر سیاحوں کی سہولت کیلئے بنیادی ضرویات کی فراہمی اس منصوبے کا حصہ ہوگی۔ منصوبے میں مقامی آبادی کو بنیادی سہولیات جس میں معیاری تعلیم اور صحت شامل ہیں کو ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیا جائیگا۔ گلگت بلتستان کی مقامی آبادی کیلئے روزگارکے وسیع مواقع فراہم کیے جائینگے،یہ منصوبہ گلگت بلتستان کی سیاحت کو اربوں ڈالر کی صنعت میںتبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سیاحت کے فروغ کے لیے میگا پراجیکٹ کی تشکیل یقینا اس شعبے میں انقلابی تبدیلیوں کا باعث ہو گی لیکن اس کے لیے ٹھوس و جامع عملی اقدامات کی ضرورت ہو گی' کون نہیں جانتا کہ قدرت نے پاکستان کو قدرتی وسائل اور خوبصورت مقامات سے اس قدر نوازا ہے کہ اگر ہم ان سے مناسب طریقے سے استفادہ کریں تو ہمارے تمام معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے کسی بھی دور میں اس طرف دھیان نہیں دیا۔ہمارے ہاں چھوٹے بڑے سیاحتی مقامات ہیں جو اپنے اندر قدرتی طور پر ایسی کشش رکھتے ہیں کہ زمانہ قدیم سے سیاحت کے شوقین افراد ان کا مشاہدہ کرنے کے لئے دور درازکے سفر اختیار کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کا شمار اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے لحاظ سے دنیا کے ان خوش قسمت ممالک میں ہوتا ہے جہاں ایک جانب بلند و بالا پہاڑ ہیں تو دوسری جانب وسیع وعریض زرخیز میدان بھی موجود ہیں۔ قدرتی مناظر میں ساحل سمند ر سے لے کر آسمان کو چھوتی برف پوش چوٹیاں، خوبصورت آبشاریں، چشمے و جھرنے، سرسبز گھنے جنگلات ، وادیاں، جھیلیں اور صحرا شامل ہیں۔جو ملکی وغیر ملکی سیاحوں کی خاص توجہ کا مرکز بن سکتی ہیں ہیں۔ دنیا کے بیشترممالک میں ایک بھی دریا نہیں بہتا جبکہ پاکستان کی سر زمین پرسترہ بڑے دریا بہتے ہیں، یہاں سبزہ زار بھی ہیں اور ریگ زار بھی، ہمارے وطن عزیز میں چاروں موسم آتے ہیں۔ اگر ان مقامات کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات دے کر فروغ دیا جائے تو یہ تہذیبیں بھی بالکل اسی طرح اربوں ڈالر منافع دیں گی جس طرح بھارت کے شہر آگرہ میں تاج محل، دلی میں قطب مینار، ہمایوں کا مقبرہ اور دیگر مقامات سے اربوں ڈالرز منافع حاصل ہو رہا ہے۔ ہمارے پاس پاکستان میں ایک ہزار کلومیٹر سے زائد کا علاقہ ساحل سمندر پر واقع ہے، ہم گوادر اور کراچی کے درمیان میں سمندر کنارے ایک ٹورازم سٹی بنا سکتے ہیں، دنیا میں بے شمار شہر ایسے ہیں جو ٹور ازم کے نام پر آباد کیے گئے ہیں ۔ لاس ویگاس اس کی ایک بڑی مثال ہے جو دنیا کے پانچ بڑے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے ۔ ہمارے سیاحتی  مقامات ملک کی اکانومی کے لیے آکسیجن ثابت ہو سکتے ہیں۔  حکومت کو محض سہولیات فراہم کرنا ہوں گی  دنیا ان مقامات کو دیکھنے خود آجائے گی۔دبئی نے بھی یہی کام کیا تھا۔ آج اگر دبئی ائیر پورٹ دنیا کا دوسرا سب سے مصروف ائیر پورٹ بن چکا ہے تو یہ یہاں کی مقامی آبادی کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاحوں کی آمدورفت کی وجہ سے ہے۔ دبئی اسلامی ریاست ضرور ہے، یہاںمذہب بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے، ایک سے بڑھ کر ایک بڑی مسجد وہاں تعمیر ہے مگر وہ لوگ سیاحت کے فروغ میں دنیا کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ سیاحوں کو ان کلچر کے مطابق سہولیات دیتے ہیں،مراکو، مصر اور انڈونیشیا جیسے اسلامی ملکوں کی مثال لے لیں یہ شہر بھی سیاحوں کو سہولیات دینے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔دنیا پاکستان میں ہمارے شمالی علاقہ جات کو دیکھنا چاہتی ہے، مگر ہم انہیں سہولیات نہیں دے سکے۔ ہمارے ہاں دنیا کی چھ بڑی چوٹیاں ہیں، لیکن ہم انہیں پروموٹ نہ کر سکے۔  نیپال مائونٹ ایورسٹ کی وجہ سے اربوں ڈالر کماتا ہے جبکہ ہمارے پاس ان کے برعکس سیاحتی مقامات ہزاروں کی تعداد میں ہیں لیکن تھوڑی سی برف باری ہونے یا موسم خراب ہونے کی صورت میں شاہراہ قراقرم بند ہو جاتی ہے۔ ناران کاغان جیسے سیاحتی مقامات سردیوں کے پانچ ماہ تک بند رہتے ہیں۔ سوات ، کالام ، بحرین جیسے خوبصورت مقامات سے زمینی راستہ منقطع ہو جاتا ہے۔ جبکہ آپ یورپی ملکوں میں دیکھ لیں جہاں سب سے زیادہ برف باری ہوتی ہے لیکن وہ اس موسم کو بھی کیش کرواتے ہیں، سوئٹزر لینڈ جیسے ملک میںسولہ ہزار فٹ تک مقامات کو سہولیات سے نوازا ہوا ہے۔ اس لیے دنیا بھر سے سیاح وہاں کھنچے چلے جاتے ہیں۔ امریکا میں جہاں کہیں چھوٹا سا بھی پہاڑ ہوگا، وہاں وہ ایک ٹرین کے لیے ٹریک بنا دیا جاتا ہے، کوئی ایک اچھا سا ریسٹورنٹ یا فائیو سٹار ہوٹل بنا دیتے ہیں اور اسی جگہ کو وہ اس طرح سے استعمال کرتے ہیں کہ مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ ملکی سطح پر بھی معیشت کو سپورٹ ملتی ہے۔آگرہ میں تاج محل دیکھنے کے لیے سالانہ پانچ کروڑ سیاح آتے ہیں ، جبکہ آگرہ کا رقبہ اتنا نہیں ہے   لیکن وہاں تین سوسے زائد بڑے بڑے ہوٹلز موجود ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے تاریخی مقامات بھی کسی سے کم نہیں ہیں پاکستان کے صحرائوں کو کون نہیں جانتا۔ یہاں پر شکار کرنے کے لیے عربی آتے ہیں لیکن مقامی لوگوں کو علم ہی نہیں، چولستان میں سفاری جیپ ریلی، شندور جیسے مقام پر سالانہ میلہ سجتا ہے مگر ہم اسے کیش نہیں کروا سکتے۔ آپ دوسرے ہمسایہ ملک ایران کو دیکھ لیں وہ تاریخی اور مذہبی مقامات کی زیارتیں کروا کر معیشت کو سہارا دیتا ہے۔ پاکستان میں بھی زیارتیںکروائی جا سکتی ہیں، بہت سے اولیائے کرام کے یہاں مزارات ہیں ، داتا گنج بخش  سے لے کر سہون شریف تک آپ ہر مزار کو سیاحت کا مقام بنا سکتے ہیں۔ کالاش کے لوگ ہر سال اپنا دن مناتے ہیں ، یہ وادی رمبر میں دن کے وقت منایا جاتا ہے اور رات کے وقت وادی بمبورٹ میں ، اور ساری رات جاری رہتا ہے ، گزشتہ چند سالوں میں یہاں بہت سے غیر ملکی سیاح آئے ہیں مگر تھکا دینے والے سفر اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کے باعث دوبارہ آنے سے قاصر رہتے ہیں۔ گزشتہ عرصے میں برطانوی بیک پیکر سوسائٹی جو دنیا بھر میں سیاحت کے حوالے سے خاصی مشہور ہے، نے پاکستان پر ایک ڈاکیومنٹری بنائی ہے جس میں دکھا یا گیا ہے کہ وادی ہنزہ کے نظارے کریں، شاہراہ قراقرم پر سفر کریں، وادی کاغان اور ناران گھومیں پھریں، پاکستان پر فضا ملک ہے اور پرامن بھی۔ اس لیے برطانوی بیک پیکر سوسائٹی نے بیس ممالک میں سیاحت کے حوالے سے پاکستان کو پہلا نمبر دیا ہے۔ دنیا کے سوممالک کا دورہ کرنے والی ٹیم نے سیاحوں کو مشورہ دیا ہے کہ جائیں تو پاکستان ہی جائیں، قدرتی مناظر سے دل کو لبھائیں، شاہراہ قراقرم سے اسلام آباد اور پھر درہ خنجراب تک سفر کریں، مزہ آجائے گا۔ پوری دنیا میں سیاحت کی صنعت تیزی سے پھیل گئی ہے۔ پاکستان سیاحت کے لحاظ سے نہایت ہی منفرد ہے۔ یہاں پر قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے والوں کے لئے اگر ان گنت مقامات ہیں تو دوسری جانب ان ہی علاقوں میں خطروں کے کھلاڑیوں کے لئے بھی بے شمار مقامات موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی سیاحت کا بھی وسیع دائرہ کار موجود ہے۔ بدھ مت اور سکھ مت کے لئے تو پاکستان مذہبی گہوارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم ہمیں ابھی بھی غیر ملکی سیاحوں کو پاکستان میں لانے کے لئے کچھ کام کرنا ہوگا اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ مقامی سیاحت کو اسی شرح سے نہ صرف فروغ حاصل ہوتا رہے بلکہ اس میں ترقی بھی ہو۔ اب دنیا انٹرنیٹ کی وجہ سے ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ مختلف طریقوں سے حکومت سیاحت کو پروموٹ کر کے اربوں ڈالر ریونیو اکٹھا کر سکتی ہے جس سے یقینا ملک کا قرض بھی اتر سکتا ہے موجودہ حکومت سیاحت کے فروغ کے حوالے سے متعدد مرتبہ اپنے خیالات کا اظہار کر چکی ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے ابتدا میں صرف گلگت بلتستان پر ہی توجہ دے لی جائیں صرف یہ خطہ ہی سیاحت کے ذریعے ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے ۔