60

سیاحت کے فروغ کےلئے قرضہ سکیم

گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کےلئے قرضہ سکیم کا اجراءکردیاگیا ہے اس مقصد کے لئے دوسو ملین مختص کئے گئے ہیں قرضہ کے لئے شرح سود سات فیصد مقرر کی گئی ہے جبکہ دوفیصدسروس چارجز ہوں گے اسطرح مجموعی طور پر نوفیصد سود ادا کرنا ہوگا قرضے کی ادائیگی ایک سال بعد شروع ہوگی اور تین کمروں کے لئے قرض لینے والے کو ہر ماہ تقریبا سترہ ہزار آٹھ سو روپے ادا کرنا ہوں گے،قرضہ سیاحتی مراکز کے قریبی علاقوں کے لوگوں کو دیا جائے گا ،قرض کے حصول کےلئے گھر،زمین یا کوئی اور اثاثے رہن رکھنا ہوں گے جبکہ شخصی ضمانت بھی دینا ہوگی،تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں نیشنل بنک آف پاکستان اور گلگت بلتستان حکومت کے درمیان ”این بی پی میزبان“پروگرام کے آغاز کے سلسلے میں مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کئے گئے ، اس موقع پر گلگت بلتستان کے وزیرسیاحت راجہ ناصر اور نیشنل بنک کے صدر عارف عثمانی اور سینئر نائب صدر شعیب قیصرانی بھی موجود تھے،معاہدے کی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے کہا کہ حکومت وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق گلگت بلتستان میں سیاحت کی ترقی کے لیے بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں ابتدائی طورپراےک سو پچاس گھروں کو قرض فراہم کیے جائیں گے جو وہاں کے عوام سیاحوں کو اپنے گھروں میں ٹھہرانے کےلئے کمروں کی تعمیر کی مد میں استعمال کریں گے۔وفاقی وزیر کے مطابق سیاحت کے پیک سیزن میں سیاحوں کو گلگت بلتستان میں رہائش کی کمی کا سامنا رہتا ہے جسے اس پروگرام کے تحت حل کرنے میں مدد ملے گی۔اس پروگرام کے تحت ایک طرف سیاحوں کو رہائش کی بہتر سہو لیات ہوں گی ،وہ مقامی ثقافت سے بھی روشناس ہوں گے تو دوسری جانب مقامی لوگوں کو روزگار کے بہترین مواقع بھی میسرآئیں گے۔ایک کمرے کی تعمیر کے لیے تقریبا 375000روپے،دو کمروں کے لیے 800000روپے اور تین کمروں کی تعمیر کے لیے1300000لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے جو کہ سات سال کے عرصے میں آسان اقساط میں واجب الادا ہوں گے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہےں کہ سےاحتی علاقوں میں سےزن کے موقع پر رہائش کی قلت ہوتی ہے اور سےاحوں کی اس ضمن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘پھر ےہ بھی دےکھنے میں آےا ہے کہ ہر شخص مہنگی رہائش افورڈ بھی نہےں کر سکتا اس لےے ہر قسم کے سےاح کے لےے رہائش کا بندوبست ہو اور کم آمدن والے بھی ان علاقوں کا رخ کر کے ان خوبصورت علاقوں کی سےر کر سکے اور قدرت کے نظاروں سے مستفےد ہو ۔اس تناظر میں کمروں کی تعمےر کے لےے قرضوں کا اجراءخوش کن ہے اس طرح روزگار میں بھی اضافہ ہو گا اور سےاحوں کو سہولےات بھی مےسر ہوں گی۔ چند روز قبل صدرمملکت عارف علوی نے ےقےن دہانی کرائی تھی کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے عوام کی تقدیر بدلنا چاہتی ہے یہاں سیاحت کے فروغ کیلئے بڑے مواقع موجود ہیں سیاحت کے فروغ کیلئے بڑے اقدامات کرنے کی گنجائش ہے‘ انہوں نے کہا تھا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے نیشنل بینک جلد قرضوں کی فراہمی شروع کریگا قرضوں کی فراہمی سے روزگار کے نئے مواقع ملیں گے۔ہم نے انہی سطور میں کہا تھا کہ اس شعبے کو بلاسود قرضے فراہم کےے جانا بہت ضروری ہےں۔ ہم نے عرض کےا تھا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان نے صوبے میں تیزی سے فروغ پاتے شعبہ سیاحت کے لیے تفریحی مقامات کے اہم مراکز پر گھریلو میزبانی اسکیم ہوم ہاسپیٹیلٹی کی منظوری دی ۔اس اسکیم کے ذریعے سیاحتی شعبے کے فروغ کے باعث ہوٹلوں پر پڑنے والے دباﺅ کو کم کرنے میں مدد ملی ہے ےہی اقدام گلگت بلتستان کی حکومت بھی کر سکتی ہے جس سے مقامی افراد کو فائدہ حاصل ہو گا۔سوات، چترال اور مانسہرہ میں پانچ سوکمروں کی تعمیر کے لیے مقامی گھرانوں کو چھوٹے قرضوں کی فراہمی پر بھی غور کیا گیا جس میں سیاحوں کی ضرورت اور آسائش کا تمام انتظام موجود ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان نے گھریلو میزبانی اسکیم کے بارے میں تفصیل سے بتایا تھا۔ یہ اسکیم براہ راست مقامی لوگوں کی شمولیت سے اس علاقے کو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔سیاحوں کے مقامی گھروں میں رہائش پذیر ہونے سے انہیں میزبان گھرانے سے ملنے کا موقع بھی ملے گا اور وہ مقامی ثقافت کا تجربہ بھی حاصل ہوگا۔ گھریلو میزبانی کے تحت بےس کروڑ روپے کی عارضی مالیت سے تےن اضلاع میں پانچ سوکمرے بنائے جا رہے ہےں جبکہ ایک کمرے میں تمام سہولیات فراہم کرنے پر تقریبا چارلاکھ روپے خرچ ہوں گے۔ تمام کمروں کی متعین کردہ معیار کے مطابق تعمیر اور تزئین و آرائش کی جا رہی ہے ۔ مجوزہ رقم خیبر بینک کے ذریعے منتخب گھرانوں کو بلاسود قرض کے طور پر فراہم کی جا رہی ہے ۔تجویز کردہ گھریلو میزبانی کے لیے مرکزی تجارتی مرکز اور ہوٹلوں کے آس پاس کے پانچ کلومیٹر کے اندر کے احاطے میں یہ کمرے بنائے جا رہے ہےں ممکنہ درخواست گزاروں کے پاس مناسب تعلیم ہونا ضروری ہے جبکہ تعلیم یافتہ گھرانوں کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے ۔ قرضوں کی ادائیگی کے لیے پانچ سال سے زیادہ کا عرصہ دیا گےا ہے جس کا تعین علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد کیا جاتا ہے ۔سےاحوں کا بڑھتا ہوا رش تفریحی مقامات پر سیاحوں کی تعداد کے تناسب سے رہائش گاہوں کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہوش ربا کرایوں کی شکل میں برآمد ہوتا ہے جن کی ادائیگی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے بس کی بات نہےں ہوتی۔ درمیانے اور چھوٹے درجے کے ہوٹلوں کا کرایہ سات ہزار سے شروع ہو کر پندرہ ہزار اوربےس ہزار تک چلا جاتا ہے بڑے ہوٹل اس دوران پندرہ ہزار سے لے کر تےس ہزار فی رات کرایہ لیتے رہے ہےں۔یہاں تک کہ کیمپنگ کےلئے ٹینٹ اور جگہ کا کرایہ بھی تین ہزار سے لے کر دس ہزار روپے تک لے لےا جاتا ہے ۔ہم دےکھتے ہےں کہ مری و گلیات کے لوگوں نے ذاتی طور پر اپنے مکانات میں بھی سیاحوں کو بطور پے انگ گیسٹ رکھنے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے اور اس وجہ سے آنے والے سیاحوں کو رہائش کا مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔سیاحوں کی بڑی تعداد میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہےں جو ہوٹلوں یا گیسٹ ہاﺅسز میں بکنگ کروا لےتے ہےں اور متعدد ایسے بھی ہوتے ہےں کہ کسی انتظام کے بغیر نکل آتے ہےں اور مشکل سے دوچار ہوتے ہےں۔ےہ بھی دےکھنے میں آتا ہے کہ سےاح رہائش نہ ملنے کے باعث راتیں اپنی گاڑیوں ہی میں گزارنے پر مجبور ہوتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ ناران و شوگران کے علاقوں میں صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ وہاں مزید تعمیرات کی گنجائش ہی نہیں مگر سیاح ہر سال بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔گلگت بلتستان میں بعض اےسے علاقے بھی ہےں جہاں انفراسٹرکچر نہ ہونے کی بنا پر سیاحوں کی رسائی انتہائی کم ہے۔ اگر وہاں پر مناسب انفراسٹرکچر تعمیر کر دیا جائے تو اس سے سیاحت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ان حالات میں نےشنل بنک کی جانب سے قرضوں کا اجراءاہم پےشرفت ہے ہم سمجھتے ہےں کہ گلگت بلتستان حکومت کو بھی سرکاری سطح پر اےسے رےسٹ و گےسٹ ہاﺅسز اور رےزروٹس تعمےر کرنے چاہےں جن سے سےاحوں کی رہائشی مشکلات میں کمی ہو اور حکومت کی آمدن میں بھی اضافہ ہو ان رےسٹ ہاﺅسز کے رےٹ بھی سب کو پتہ ہوں اور بکنگ کا بھی مناسن انتظام ہو تو سےاحوں کو اچھی رہائش گاہےں مےسر آسکتی ہےں اور وہ سستی رہائش گاہوں کے باعث زےادہ دن بھی قےام کر سکتے ہےں‘ امےد ہے متذکرہ اقدام کو مزےد پھےلاتے ہوئے قرضوں کے اجراءکی وسعت میں اضافہ کےا جائے گا۔