8126

سیاست خدمتِ خلق یا سراب

حمادعلی

آج ہمارے ملک میں اصل ضرورت سیاسی پارٹیوں کی اپنے اندر جمہوری نظام کے صحیح معنوں میں نفاذ کی ہے ضرورت اس امر کی ہے کی نظریاتی کارکنوں جو اصول پرست ہوں ان کو آگے لایا جائے نا کہ موسمی پرندوں کو جو کہ موسم کے ساتھ کھیت اور علاقے تبدیل کرتے ہیں جن کا مقصد کسی نا کسی طرح اقتدار میں رہنا ہوتا ہے اگر سیاسی پارٹیاں عوام کی خدمت کرنا چاہتی ہیں تو ان پارٹیوں کو اپنے فریم آف ورک میں میرٹ کو آگے لانا ہوگا ،اپنے الیکشن منشور پر مبنی عوامی خدمت کے لئے گولزبنانے ہونگے اور اس بنیاد پر حکومت یااپوزیشن کرنی ہوگی اور عوام کے سامنے اپنی کوششیں اور نتائج رکھنے ہونگے اور خلق خدا سے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگنے ہونگے ورنہ یہ کھوکلے نعرے چند سیاستدانوں کی لفاظی اور ان سے متعلقہ چند سو لوگوں کی عیاشی کے سامان کے سوا کچھ نہیں ہے'اس وقت وطن عزیز کا سیاسی منظر نامہ سیاستدانوں کے اس رویے کوواضح طور پر نمایاں کرتا ہے جو بنام عوام اپنی سیاسی انا کی تسکین کیلئے کوشاں ہیں۔ اس کے برعکس اس طرح کے سیاسی ہتھکنڈے سے سماج میں ایسا انتشار پیدا ہورہا ہے جو عوام کے درمیان فکری سطح پر ایسی خلیج پیدا کرتے ہیں جو عمل کی دنیا میں بھی انھیں ایک دوسرے کا حریف بنا دیتے ہیں۔سیاست کا یہ کھیل معاشرے میں اتحاد و یگانگت کے رجحان کو روز بہ روز کمزور کر رہا ہے۔ عوام کے درمیان دوری پیدا کر کے اپنا سیاسی ہدف حاصل کرنے والے سیاستداں ملک کی اتحاد و یکجہتی پر مبنی اس عظیم روایت کو نقصان پہنچا رہے ہیں جس کی بنا پر یہ ملک عالمی سطح پراپنی انفرادی شناخت رکھتا ہے۔ ارباب اقتدار کے علاوہ ان دوسری سیاسی پارٹیوں سے وابستہ لیڈروں کا رویہ بھی اسی طرز کا ہے جو اقتدار کے حصول کیلئے تگ و دو کر رہی ہیں۔ان پارٹیوں کی جانب سے بھی عوام کے جذباتی استحصال کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کوشش میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے ایسے موضوعات کی تشہیر کی جاتی ہے جو عوام کی سماجی اور معاشی ترقی سے برائے نام تعلق رکھتے ہیں۔ادھر گزشتہ دہائیوں کے دوران برسر اقتدار پارٹیوں کے ذریعہ جن پالیسیوں یا منصوبوں کا اعلان کیا گیا ان کا عمومی جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ ارباب اقتدار کو عوام کے مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی انا کی تسکین کی فکر زیادہ رہی۔اس انا کی تسکین کیلئے عوام کو قوم ، مذہب، زبان اور علاقہ کی بنیاد پر ایک دوسرے کا مد مقابل بنانے والی پالیسی اختیار کی گئی اور افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام نے اس حکمت عملی کے دام میں الجھ کر اپنے ان مسائل کو نظر انداز کر دیا جو انھیں سماجی اور معاشی سطح پر ترقی کی منزل حاصل کرنے میں رخنہ اندازی کر تے ہیں۔عاقبت نا اندیش  سیاست دانوں کی اس عیاری کے سبب اس وقت عوام نے تعلیم، روزگار، صحت اور زندگی کی دیگر بنیادی ضرورتوں کے حصول سے زیادہ ان موضوعات میں دلچسپی لینا شروع کردیا ہے جو ان کی جذباتی تسکین کا سامان تو کسی حد تک فراہم کر سکتے ہیں لیکن ان سے عوام کے معیار زندگی میں کسی طرح کی بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی۔ارباب اقتدار نے بڑی چالاکی کے ساتھ اس قسم کے جذباتی موضوعات کی بنیاد پر عوام کو ایک دوسرے کے مد مقابل لا دیا ہے۔ جمہوریت میں عوام کی حیثیت کیا محض اس گروہ کی سی ہو کر رہ گئی جو اقتدار کے ہر فیصلے پر صاد کرے خواہ ان فیصلوں سے اس کی سماجی اور معاشی زندگی مزید پیچیدہ مسائل میں الجھ کر رہ جائے؟ اس سوال کا مناسب اور موثر جواب اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جبکہ عوام خود اپنی اہمیت سے آشنا ہوں اور سیاسی پارٹیوں کو بھی اس اہمیت سے آگاہ کرنے کی پرزور کوشش کریں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ جمہوری طرز سیاست میں عوام کو حاصل یہ اہمیت اب بڑی حد تک ان سیاست دانوں کے فریب میں الجھ کر رہ گئی ہے جو اپنی مخصوص آئیڈیالوجی کے تحت عوام کا استحصال ایسے جذباتی موضوعات کے حوالے سے کر رہے ہیں جن کا عوام کی حقیقی ترقی اور خوشحالی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست دانوں کے اس عیارانہ رویہ کی روک تھام کیلئے عوام جذباتی موضوعات میں الجھنے کے بجائے متحد ہو کر ان مسائل کے تدارک کو اپنی ترجیح بنائیں جو اْن کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں معاون ہوں۔ عوام جب تک مذہب، قوم ، رنگ، علاقہ اور زبان کی بنیاد پر ایک دوسرے سے الجھتے رہیں گے تب تک سیاست دانوں کو ان کا جذباتی استحصال کرنے کا موقع ملتا رہے گا۔ اس موقع کا استعمال بھلے ہی وہ عوامی مسائل کے متعلق اپنی فکر مندی کے مظاہرے سے کریں لیکن درحقیقت ان کا مقصد اپنی سیاسی انا کی تسکین سے ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں عوام اور اقتدار یا پھر عمومی سطح پرعوام اور سیاست دانوں کے درمیان وہ رابطہ فطری طور پر کمزور پڑ جاتا ہے جس کی بنیاد پر جمہوری طرز حیات کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔ اس رابطے کو مستحکم بنائے رکھنے کیلئے عوام کو جذباتی موضوعات میں الجھنے کے بجائے ان موضوعات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے جو اْن کے معیار زندگی کو بہتربنا سکیں۔ اگر عوام اس طور سے متحد ہو جائیں تو ایسے سیاستداں بھی زیادہ دیر تک بیوقوف نہیں بنا سکتے۔