137

سیاسی تاریخ بدلنے والا کیس

وزیراعظم نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کی اوپن سماعت ہونی چاہیے، چیلنج کرتا ہوں فارن فنڈنگ کیس ٹی وی پر براہ راست دکھایا جائے، فارن فنڈنگ کیس میں پارٹی سربراہوں کو بٹھا کر کیس سننا چاہیئے۔کئی ممالک اپوزیشن کی جماعتوں کی فنڈنگ کرتے رہے ہیں لیکن تعلقات کی وجہ سے ان ممالک کے نام نہیں لے سکتا۔ مولانا فضل الرحمان مدارس کے بچوں کو استعمال کرکے حکومتوں کو بلیک میل کرتے ہیںہماری حکومت کا فلسفہ یہ ہے کہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں اور علاقوں کو اوپر لائیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس اٹھانے پر اپوزیشن کا شکر گزار ہوں، یہ سب سامنے آنا چاہیے کہ تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتوں کی فنڈنگ کہاں سے ہوتی رہی، ساری دنیا میں سیاسی جماعتیں فنڈنگ کرتی ہیں'اس کیس سے ساری قوم کو پتا چلے گا کہ کس نے اس ملک میں ٹھیک طریقے سے پیسہ اکھٹا کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بھیجے گئے ترسیلات زر سے ملک چلتا ہے، میں نے شوکت خانم اسپتال کی فنڈنگ سمندرپار پاکستانیوں سے کی، چیلنج کرتا ہوں کہ سیاسی فنڈ ریزنگ صرف تحریک انصاف نے کی۔ اپوزیشن کی جماعتوں کو معلوم ہے اور مجھے بھی پتا ہے کہ فارن فنڈنگ کونسی ہے، اوورسیز پاکستانی فارن فنڈنگ نہیں ہیں، عوام سمجھدار ہیں وہ کسی کی چوری بچانے کے لیے نہیں نکلیں گے، یہ ہمارے عوام کی سیاسی سوچ کو نہیں سمجھتے۔فارن فنڈنگ کیس پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مسلسل زیر بحث رہنے والا معاملہ ہے' حزب اختلاف کی جماعتوں نے الیکشن کمیشن سے اس مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی درخواست کی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو26نومبر کو سیاسی جماعتوں کے فنڈز کی جانچ پڑتال کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے ہدایت کی گئی ہے۔2014 میں پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن اکبر ایس بابر نے پارٹی کی اندرونی مالی بے ظابطگیوں کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی جس میں انہوں نے یہ الزام عائد کیا کہ پارٹی کو ممنوعہ ذرائع سے فنڈز موصول ہوئے اور مبینہ طور پر دو آف شور کمپنیوں کے ذریعے لاکھوں ملین ڈالرز ہنڈی کے ذریعے پارٹی کے بینک اکائونٹس میں منتقل کیے گئے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف نے بیرون ملک سے فنڈز اکٹھا کرنے والے بینک اکائونٹس کو بھی الیکشن کمیشن سے خفیہ رکھا۔تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے سیاسی جماعتوں کے فنڈز کی چھان بین کرنے کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا۔ الیکشن کمیشن نے آٹھ اکتوبر 2015کو تحریک انصاف کے فنڈز کی چھان بین کے بارے میں اعتراض مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ الیکشن کمیشن پارٹی فنڈز چھان بین کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔26نومبر 2015کو تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار اور اکبر ایس بابر کے بطور مدعی بننے پر اعتراضات کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دی۔ ہائی کورٹ میں یہ معاملہ تقریبا ڈیڑھ سال جاری رہا اور سترہ فروری 2017کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کے خلاف درخواست مسترد کردی۔الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے بینک اکائونٹس کی جانچ پڑتال کے لیے ڈائریکٹر جنرل لا ونگ اور الیکشن کمیشن کے آڈیٹر جنرل کے افسران پر مشمل ایک کمیٹی قائم کی ۔تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس کمیٹی کے خلاف بھی درخواست دائر کر رکھی ہے، جو کہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔قانون کے مطابق سیاسی جماعتوں کو پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002کے آرٹیکل تیرہ کے تحت مالی سال کے اختتام سے ساٹھ روز کے اندر الیکشن کمیشن میں بینک اکائونٹس کی آڈٹ رپورٹ جمع کروانا ہوتی ہے جس میں سالانہ آمدن اور اخراجات، حاصل ہونے والے فنڈز کے ذرائع، اثاثے اور واجبات شامل ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ پارٹی کا سربراہ الیکشن کمیشن میں ایک سرٹیفکیٹ بھی جمع کروانے کا مجاز ہوتا ہے جس میں یہ اقرار کیا جاتا ہے کہ تمام مالی تفصیلات درست فراہم کی گئی ہیں اور کوئی بھی فنڈ کسی ممنوعہ ذرائع سے حاصل شدہ نہیں ہے۔پولیٹیکل پارٹیز آرڈر2002کی شق  پندرہ کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کو تحلیل کرنے کا ڈیکلیریشن جاری کر سکتی ہے جو غیر ملکی فنڈز کے ذریعے قائم کی گئی ہو یا اس کے قیام کا مقصد پاکستان کی خود مختاری یا سالمیت کے خلاف ہو یا دہشت گردی میں ملوث ہو۔قانون کے مطابق ڈیکلیریشن جاری ہونے کے پندرہ روز کے اندر معاملہ سپریم کورٹ بھیجا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ میں فیصلہ برقرار رکھنے کی صورت میں پارٹی تحلیل قرار دی جاتی ہے۔قانون کے مطابق سیاسی جماعت تحلیل ہونے کی صورت میں اس جماعت کے تمام صوبائی اور وفاقی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت بھی منسوخ ہو جائے گی۔سابق وزیر قانون خالد رانجھا کے مطابق  بیرون ملک فنڈنگ کے ساتھ ایک سنگین نوعیت کا معاملہ اکائونٹس ظاہر نہ کرنے کا ہے۔ اگر کوئی چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے تو یہ بددیانتی ہے اور اسکے نتائج قانون کے مطابق آسکتے ہیں۔ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر تو واضح ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر کوئی چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے تو آرٹیکل 61اور 62کے تحت بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔پارٹی کے فنڈز کے ذرائع ظاہر نہ کرنے پر آرٹیکل 61اور 62کوئی بھی اتھارٹی استعمال کر سکتی ہے چاہے وہ الیکشن کمیشن ہو یا سپریم کورٹ۔پولیٹیکل پارٹیز آرڈر اور پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2017کے تحت کوئی غیر ملکی شہری یا غیر ملکی کمپنی کا سیاسی جماعت کو فنڈز فراہم کرنا ممنوعہ ہے۔عمران خان نے فنڈز کے حوالے سے جو سرٹیفیکٹ الیکشن کمیشن میں جمع کیا ہے اس کی بنیاد پر بھی ان کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔اس مقدمہ میں بیرون ملک سے حاصل ہونے والے فنڈز ضبط نہیں ہو سکتے کیونکہ غیر ملکی شہریوں یا غیر ملکی کمپنیز سے فنڈز حاصل کرنے کے حوالے سے قانون واضح ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد اگر وفاقی حکومت ڈیکلیریشن جاری نہیں کرتی تو یہ معاملہ سپریم کورٹ میں جائے گا اور سپریم کورٹ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ جماعت قانون کے تابع ہے یا نہیں۔اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن حکمران جماعت پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد کرے۔ جولائی2018 میں الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی جانب سے تفصیلات فراہم نہ کرنے پر اسٹیٹ بینک سے2009 سے لیکر 2013 تک پارٹی کے بینک اکائونٹس کی تفصیلات طلب کی تھیں۔اسٹیٹ بنک نے الیکشن کمیشن کو تحریک انصاف کے تیئیس بینک اکائونٹس کی تفصیلات فراہم کیں۔ اس سے پہلے تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کو آٹھ بینک اکائونٹس کی تفصیلات خود بھی فراہم کر دی تھیں۔پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی بھی اس کیس میں فریق بنیں تو پی ٹی آئی کے فرخ حبیب نے بھی 2017 میں ہی ان دونوں جماعتوں پر فارن فنڈنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی تھی۔حکمران جماعت تحریک انصاف نے اسکروٹنی کمیٹی کے تیرہ جنوری2021کو ہونے والے اجلاس میں جواب جمع کروایا تھا کہ پی ٹی آئی ایل ایل سی ایک ایجنٹ ہے، اگر ایجنٹ پی ٹی آئی کی جانب سے دی گئی ہدایت کے برعکس رقم کی تفصیلات پارٹی کو فراہم نہیں کرتا تو پی ٹی آئی مواد کی تصدیق کرنے کی ذمہ دار نہیں۔پی ڈی ایم کا موقف ہے کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ تسلیم کر لی ہے، اب الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے خلاف کیس کا فیصلہ جلد کرے، اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے اسی حوالے سے الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج بھی کیا۔ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کمیشن فارن فنڈنگ کیس میں بغیر کسی خوف اور دبائو کے میرٹ پر فیصلہ کرے گا۔ اسکروٹنی کمیٹی کی طرف سے فارن فنڈنگ کیس پر کارروائی جا ری ہے، یہ بہت ہی اہم اور حساس کیس ہے اور اس پہ میرٹ پر فیصلہ قومی مفاد میں ہے۔ فارن فنڈنگ کیس پر غیر ضروری اور بغیر شواہد کے تبصروں سے گریز کیا جائے، الیکشن کمیشن میں پہلے ہی اس کیس کی سماعت فریقین کے سامنے ہو رہی ہے اور سماعت کے دوران میڈیا اور دوسرے متعلقہ اشخاص اور ادارے موجود ہوتے ہیں۔کمیٹی کی کارروائی عوامی سطح پر نہیں ہو سکتی جب کہ عوامی سطح پر کارروائی سے کمیٹی کو اپنا کام کرنے میں دشواری ہوگی۔ اسکروٹنی کمیٹی میں شکایت کنندہ اور الزام علیہ اپنا اپنا مقف پیش کرتے ہیں اور کمیٹی موقف کا جائزہ لینے کے بعد جامع سفارشات کمیشن کو دیگی جب کہ الیکشن کمیشن کھلی سماعت میں یہ سفارشات دونوں پارٹیوں کو مہیا کرے گا۔