51

سینیٹ الیکشن: تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن،آئی این پی)سینیٹ الیکشن سے پہلے تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی کے 14ارکان قومی اسمبلی اور6ارکان خیبرپختونخوا اسمبلی نے پیر کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پشاور میں ہونے والے اہم اجلاس سے غیرحاضر رہ کر پارٹی کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے خطرات کو محسوس کرتے ہوئے پی ٹی آئی نے کے پی میں اپنے ارکان اسمبلی کی نگرانی شروع کردی ہے تاکہ ناراض کھلاڑیوں کو کھیل بگاڑنے اور پانسہ پلٹنے سے روکا جاسکے ،جبکہ عمران خان نے کہا ہے کہ نامزد امیدوارو ں کو ہرصورت کامیاب کروائیں گے،سینیٹ انتخابات ہائی جیک کرنے والے جمہوریت پر دھبہ ہیں اوپن ووٹ ہی ہارس ٹریڈنگ روکنے کا واحد راستہ ہے،سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرے گی قبول کریں گے،سیاست میں پیسہ استعمال کرنے والے نشان عبرت بن گئے ہیں ،وزیراعظم عمران خان نے پیر کو پشاور کا دورہ کیا اس موقع پر وزیراعظم کی زیرصدارت سینیٹ انتخابات کے حوالے سے اجلاس ہوا ،اجلاس میں گورنر ،وزیراعلیٰ ،قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے شرکت کی،نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں  14 ارکانِ قومی اسمبلی اور 6 ارکان صوبائی اسمبلی غیرحاضر رہے۔جس کے بعدیہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ انتہائی اہم اجلاس سے غیرحاضر ارکان پارٹی سے ناراض ہیں اور انھوں نے سینیٹ الیکشن میں کھیل بگاڑنے کی ٹھان رکھی ہے تاہم ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ اجلاس میں نہ آنے والے تمام ارکان ناراض نہیں ہیں زیادہ تر ارکان مختلف وجوہات اور مصروفیات کے باعث شریک نہ ہوسکے جو ایک دو ارکان ناراض ہیں ان کو بھی منالیا جائے گا ، اور خطرے کی کوئی بات نہیں ہے ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے شرکا سے کہا کہ جو رکن سینیٹ الیکشن میں اپنا ووٹ بیچنا چاہتا ہے وہ پارٹی سے نکل جائے۔ ووٹ بیچنے والے ممبر کا پتہ چل جاتا ہے۔ پچھلے سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ارکان کو پارٹی سے نکالا تھا۔عمران خان نے کہا کہ  میرا کوئی بھی قومی و صوبائی اسمبلی کا رکن نہیں بکے گا، جہدوجہد کرکے اقتدار میں آئیں ہیں، اپوزیشن کو خوف ہے کہ پی ٹی آئی کہیں سینیٹ میں اکثریت حاصل نہ کرلے۔ وزیراعظم  نے کہا   کہ نامزد امیدواروں کو ہرصورت کامیاب کروائیں گے ہماری سیاست کا اصل محور عوام ہیں،بدقسمتی سے یہاں لوگوں نے سیاست کو صرف پیسہ بنانے کیلئے استعمال کیا، ان لوگوں نے ہرجگہ پیسہ استعمال کیا اب ان کی حالت نشان عبرت ہے،ہم اس لیے پیچھے رہ گئے کیونکہ یہاں پیسہ عوام کی خدمت کی بجائے چوری کیا گیا، انہوں نے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو ہرنعمت سے نوازا ہے ، جس معاشرے میں اخلاقیات ختم ہوجائیں وہ معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے، ہم مستقبل اور اپنی نسلوں کی بہتری کا سوچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے ہو، عدالت کا فیصلہ جو بھی ہو، قبول کریں گے،ملکی حالات پر وزیراعظم نے کہا کہ اقتدار میں آئے تو 20 ارب ڈالر کرنٹ خسارہ اورقرض میں ڈوبا ہوا ملک ملا لیکن اب معاشی حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ اجلاس میں  وزیردفاع پرویز خٹک کا کہنا تھاکہ نوشہرہ انتخابات میں ہمارے ساتھ دھاندلی کی گئی، جتنے بیلٹ پیپرز جاری ہوئے تو ووٹ اس سے زیادہ نکلے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ دھاندلی کے ٹھوس ثبوت ہیں اور نتیجے کے خلاف عدالت جائیں گے، ریٹرنگ افسران نے دھاندلی کروائی۔قبل ازیں مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ  سینیٹ انتخابات ہائی جیک کرنے والے جمہوریت پردھبہ ہیں، اوپن ووٹنگ سینیٹ میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کا واحد راستہ ہے ۔  وزیراعظم نے ٹیلیفونک گفتگومیں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرحلیم عادل شیخ کی گرفتاری پر بھی بات چیت کی۔ بابر اعوان نے پی ٹی آئی ورکرز کی جانب سے حلیم عادل کی گرفتاری پر تشویش سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر بابراعوان نے کہا کہ حلیم عادل شیخ پر کسٹوڈیل ٹارچر کیا گیا، ان سے سے غیر انسانی اور وحشیانہ سلوک کیا گیا۔دوسری جانب  خیبرپختونخوا حکومت نے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کی حفاظت اور نگرانی کیلئے خصوصی انتظام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق  نوشہرہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی امیدوارکی شکست اورصوبائی وزیرآبپاشی لیاقت خٹک کوصوبائی کابینہ سے فارغ کیے جانے سے پاکستان تحریک انصاف میں پیداہونے والی صورت حال کوکنٹرول کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے اپنے اراکین اسمبلی کی ''حفاظت''اور نگرانی کا خصوصی انتظام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے لیے صوبائی وزرائب کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں گی جو ایم پی ایز کے گروپوں کی نگرانی کا فریضہ انجام دیں گے۔صوبہ میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی صفوں میں نوشہرہ ضمنی الیکشن اورصوبائی وزیرآبپاشی لیاقت خٹک کو کابینہ سے فارغ کیے جانے کے بعد انتشار پایا جاتا ہے۔ مذکورہ صورت حال کے تناظرمیں سینٹ الیکشن کے لیے حکمران جماعت پی ٹی آئی اوراس کے اتحادی ایم پی ایز کی خصوصی نگرانی کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اگران سے کوئی رابطہ کیا جائے تو اس صورت میں فوری طورپرصورت حال کوقابومیں کیا جائے۔اس ضمن میں اراکین اسمبلی کے گروپ بناتے ہوئے ان کی نگرانی کا کام صوبائی وزراء  کے حوالے کیا جارہا ہے۔  بلوچستان عوامی پارٹی کے ایم پی ایز کی نگرانی باپ کے صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بلاول آفریدی خود کریں گے۔  ذرائع نے بتایا کہ لیاقت خٹک کو کابینہ سے فارغ کرنے سے مسائل تو ضرور پیدا ہوئے ہیں اور کسی بھی قسم کے مسئلے سے بچنے کے لیے ہی ارکان پرنظررکھی جارہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلی محمود خان خود تمام تر صورت حال کی نگرانی کررہے ہیں جب کہ پارٹی قائدین بھی اس سلسلے میں معاونت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ وزیراعلی جلد ہی پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلانے کے علاوہ اراکین اسمبلی سے ڈویڑن وائزاورانفرادی ملاقاتیں بھی کریں گے تاکہ گلے شکوے دورکیے جاسکیں۔ ذرائع نے بتایا کہ حکمران جماعت کا سینٹ الیکشن کے لیے ہدف 10 نشستوں پرکامیابی کویقینی بناناہے جس کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔