72

صوبائی حکومت پولیس کو بااختیاار بنانے اور نیا پولیس ایکٹ لانے پر کام کررہی ہے،مشیر قانون

گلگت (خصوصی رپورٹ) مشیر قانون سید سہیل عباس نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ابھی تک پولیس ایکٹ1861ء لاگو ہے صوبائی حکومت پولیس کو بااختیاار بنانے اور نیا پولیس ایکٹ لانے پر کام کررہی ہے، انہوں نے حاجی رحمت خالق کے ایک توجہ دلائو نوٹس پر ایوان کو بتایا کہ کے پی کے نے اپنا پولیس ایکٹ بنایا ہے، اس ایکٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے نیا گلگت بلتستان پولیس ایکٹ بنایا ہے، اس ایکٹ کو کابینہ سے منظور کرانے کے بعد ایوان میں پیش کرینگے۔ اس سے قبل حاجی رحمت خالق نے ایک توجہ دلائو نوٹس پر ایوان کو بتایا کہ پولیس ایکٹ1861ء ابھی تک گلگت بلتستان میں نافذ ہے، اب 2021ء چل رہا ہے،1816ء کہاں اور 2021ء کہاں، اس لیے پولیس ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے صوبوں نے نیا پولیس ایکٹ بنایا ہے، اس لیے دوسرے صوبوں کو نئے پولیس ایکٹ کے تحت جو اختیارات مل چکے ہیں اس سے زیادہ جی بی پولیس کو اختیارات دے کر پولیس سے بہتر انداز میں کام لیا جائے۔ اسمبلی اجلاس کے دوران غلام محمد کے توجہ دلائو نوٹس پر مشیر قانون سید سہیل عباس نے کہا ہے کہ گریڈ ایک سے بیس تک کے سرکاری ملازمین کو 25فیصد الائونس دینے کا اعلان وفاق نے کیا تھا اور معاملہ صوبائی حکومتوں کو ریفر کیا تھا، یہ کیس صوبائی کابینہ کے پاس ہے، کابینہ سے منطوری کے بعد گلگت بلتستان میں بھی سرکاری ملازمین کو 25فیصد الائونس دیا جائے گا اور اس پر عملدرآمد یکم مارچ سے ہوگا، انہوں نے ایوان کو بتایا کہ جو سرکاری ملازمین کوئی الائونس نہیں لے رہے ہیں انہیں پچیس فیصد خصوصی الائونس دیا جائے گا، اس سے قبل غلام محمد نے توجہ دلائو نوٹس پر ایوان کو بتایا کہ گریڈ ایک سے بیس تک کے سرکاری ملازمین کو پچیس فیصد الائونس دینے کا فیصلہ ہو چکا ہے، گلگت بلتستان میں بھی اس پر عملدرآمد کرایا جائے۔ لینڈ ریفارم کے حوالے سے غلام محمد کی قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے مشیر قانون سہیل عباس نے کہا کہ سابق حکومت کی جانب سے تیار کردہ لینڈ ریفارم کمیشن کی سفارشات ہمیں موصول ہوئی ہیں، صوبائی حکومت ان سفارشات کا جائزہ لے رہی ہے۔صوبائی حکومت لینڈ ریفارم کمیشن کی سفارشات کا جائزہ لے کر ضرورت محسوس ہوئی تو ان سفارشات کو ایوان میں پیش کریگی، اس سے قبل غلام محمد نے ایک قرارداد ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کی سابق حکومت نے گلگت بلتستان کے ایک بنیادی مسئلہ پر لینڈریفارم کمیشن بنایا تھا اور اس کمیشن نے سفارشات تیار کی تھیں مگر حکومت کی مدت پوری ہونے کی وجہ سے ان سفارشات پر عملدرآمد کی نوبت نہ آسکی اس لیے موجودہ حکومت ان سفارشات پر عمل درآمد کرے اور قانون سازی کے ذریعے عوام کی ملکیتی اراضی انہیں دی جائے۔