124

عظمت سعید براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی قبول نہ کریں،اپوزیشن

اسلام آباد(آئی این پی)اپوزیشن نے جسٹس (ر)عظمت سعید کو براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ مقررکرنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عظمت سعید کمیٹی کی سربراہی قبول نہ کریں،سربراہ کی تعیناتی سے حکومت کی بددیانتی سامنے آگئی ہے،اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن)  کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی،   سیکرٹری  جنرل  احسن اقبال  اور مرکزی ترجمان  مریم اورنگزیب نے کہا کہ جسٹس(ریٹائرڈ) عظمت سعید براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی قبول نہ کریں ورنہ ان کا بھی وہی حال ہوگا جو جسٹس (ریٹائرڈ)جاوید اقبال کا ہوا ہے، براڈ شیٹ میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام سامنے آئیں گے اور ملک نام نہاد احتساب کی حقیقت عوام کے سامنے آ چکی ہے، دستاویزات پر دستاویزات  سامنے آ رہی ہیں، کمیشن پر کمیشن بنائے جا رہے ہیں ،انھوں نے کہا کہ  موجودہ حکومت نے پارلیمان کو مفلوج کر دیا ہے اور آج پارلیمنٹ کی آزادی سلب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ میڈیا کو پارلیمنٹ لاجز کے اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی، لاجز حکومت کی پراپرٹی نہیں ہے، یہ پارلیمنٹیرینز کے گھر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر کے بارے میں پریس کانفرنس کے ڈپٹی سپیکر نے زبانی حکم دیا کہ اپوزیشن کے لوگوں کی لاجز میں پریس کانفرنس نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت جو نالائق، نا اہل ٹولہ مسلط ہے وہ آزادی اظہار رائے کو مفلوج کرنا چاہتا ہے، عمران خان کی حکومت براڈ شیٹ میں کمیشن کھاتی پکڑی گئی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج ملک میں کرپٹ ترین حکومت اقتدار میں ہے، بجلی، گیس، آٹا اور چینی سمیت ہر چیز مہنگی ہے، ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں نوکریاں فروخت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ براڈ شیٹ کے معاملے میں حکومت اپنی ناکامی چھپا رہی ہے، براڈ شیٹ کی حقیقت یہ ہے کہ چند دن پہلے بننے والی کمپنی سے معاہدہ کیا گیا جو یکطرفہ ہے جبکہ ایک ہزار کروڑ روپے اس کمپنی کو حکومت کی جانب سے ادا کئے جا چکے ہیں جبکہ حکومت نے پہلے ایمنسٹی رقم بھیجی تا کہ وہاں سے نکالی جا سکے، اور حکومت کے اہلکار ان پیسوں سے حصہ مانگتے رہے، حصہ مانگنے والے وزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے پیسے بھیجنے کا فیصلہ کیا وہی کمیشن کا حصہ ہیں، جسٹس(ر) عظمت سعید کو کمیشن کا انچارج لگایا گیا جبکہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید اس معاہدے کا حصہ تھے  جنہوں نے معاہدے کے ذریعے اربوں کی کرپشن کی اور ان لوگوں کو بچانے کیلئے عظمت سعید کی سربراہی میں کمیشن بنایا گیا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عظمت سعید سے گزارش ہے کہ کمیشن کے سربراہ نہ بنیں، ورنہ ان کا بھی وہی حال ہوگا جو جسٹس (ریٹائرڈ)جاوید اقبال کا ہوا ہے ۔کمیشن کا سربراہ غیر متنازعہ شخصیت کا ہونا چاہیے جبکہ عوام فیصلہ کریں گے کہ سیاستدان کرپٹ تھے یا معاہدے کر کے اربوں روپے بنانے والے وہ لوگ جو اس معاہدے کا حصہ ہیں، تمام معاملات کو عوام کے سامنا لانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جاوید اقبال والا عظمت سعید نہیں چاہیے   ، ہمارا مطالبہ ہے کہ پارلیمان کی مشاورت سے غیر متنازعہ فرد کو براڈ شیٹ کمیشن کا چیئرمین لگایا جائے اور کارروائی کو پبلک کیا جائے۔دوسری جانب  پیپلزپارٹی نے بھی  براڈ شیٹ معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے تحفظات کا اظہارکردیا ہے ،رہنما پی پی نیئربخاری نے کہا براڈشیٹ معاملے کی تحقیقات آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، کمیٹی سربراہ کی تعیناتی سے حکومت کی بد دیانتی سامنے آ چکی ہے،نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی تحقیقاتی کمیٹی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتی ہے، براڈشیٹ اہم معاملہ ہے،شفاف طریقے سے تحقیقات چاہتے ہیں۔