34

علی ظفر، میشا شفیع کیس:لینا غنی جرح کے لیے پیش نہ ہوئیں، عدالت کا اظہار ناراضگی

لاہور کی سیشن کورٹ سماعت کے دوران گلوکارہ میشا شفیع کے منیجر نے تصدیق کی کہ علی ظفر پر الزامات کے بعد گلوکارہ کو ملٹی نیشنل برانڈز کا کام زیادہ ملا۔ایڈیشنل سیشن جج اظہر اقبال رانجھا نے علی ظفر کی درخواست پر سماعت کی دوران سماعت گلوکارہ میشا شفیع کے مینجر سید فرحان علی عدالت میں وکلاء کی جرح کے لیے پیش ہوئے اپنے بیان میں سید فرحان علی نے عدالت کو بتایا کہ جیمنگ سیشن کے ایک روز قبل میشا شفیع علی ظفر کے گھر میٹنگ کرنے گئیں جہاں میشا شفیع اور علی ظفر نے باہمی مشاورت سے گانے کی ریہرسل پر بات کی جیمنگ سیشن میں نو افراد موجود تھے۔

سید فرحان علی نے علی ظفر کے وکیل کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے بتایا کہ میشا شفیع نے مجھے بتایا تھا کہ میں محسوس کرتی ہوں کہ علی ظفر گانے میں زبردستی مجھے لے رہا ہے الزامات کے بعد میشا شفیع کے ملٹی نیشنل برانڈز میں نے زیادہ کام میشا شفیع کو دیا۔

الزامات کے معاوضہ میشا شفیع نے بڑھنے کے سوال پر سید فرحان علی نے بتایا کہ اس کا علم نہیں ہے اگر کنٹریکٹ سامنے ہوں تو بات کرسکتا ہوں۔ عدالت میں میشا شفیع کی

دوسری گواہ لینا غنی جرح کے لیے پیش نہ ہوئی جس پر عدالت نے اظہار ناراضگی کیا اور کہا کہ آئندہ اگر میشا شفیع کی گواہ پیش نہیں ہوتی تو شہادت کا حکم ختم کردیا جائے گا عدالت نے سماعت 17 اپریل تک ملتوی کردی۔