129

فارن فنڈنگ: براڈ شیٹ اور جامع تحقیقات

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ براڈشیٹ کیس کی روشنی میں جامع تحقیقات کروا رہے ہیں۔تحریک انصاف نے کوئی فارن فنڈنگ نہیں لی۔ یہ لوگ آج بھی صرف اپنے دولت بچانے کیلئے این آر او مانگ رہے ہیں، براڈشیٹ کیس کی روشنی میں جامع تحقیقات کروا رہے ہیں۔ ہماری حکومت اور ادارے انکے پریشر میں نہیں آئیں گے۔ قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے گی۔ چند روزقبلوزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں براڈ شیٹ معاملے کی تحقیقات کے لیے وفاقی وزراء شبلی فراز ، فواد چوہدری اور  شیریں مزاری پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی تھی ۔کمیٹی نے 2002سے 2018 تک براڈشیٹ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا جائزہ لینا اور تحقیقات کرنا ہیں کہ اس معاملے سے کس نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ کون نہیں جانتا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے نواز شریف، آصف علی زرداری، بینظیر بھٹو اور دیگر کی پراپرٹیز کا پتہ چلانیکے لیے 1999میں اثاثہ جات ریکوری سے متعلق برطانوی فرم براڈ شیٹ کی خدمات حاصل کی تھیں۔تاہم نیب کی جانب سے یہ معاہدہ 2003میں ختم کردیا گیا تھا جس کے خلاف فرم نے ثالثی عدالت میں نیب کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس پر عدالت نے اگست 2016میں نیب کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اسے جرمانہ اداکرنے کا حکم دیا تھا۔حالیہ دنوں میں براڈ شیٹ کیس کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں جس کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔براڈ شیٹ سے متعلق لندن کورٹ کے فیصلے میں نیا اسکینڈل سامنے آیا اور ثالثی عدالت نے تمام ذمے داری نیب پر ڈال دی۔فیصلے کے مطابق نیب نے جان بوجھ کربراڈ شیٹ کومالی نقصان پہنچانے کی سازش کی، غلط بنیادوں پربراڈشیٹ ایل ایل سی کے ساتھ معاہدہ توڑا، براڈشیٹ ہی کے نام سے جعلی کمپنی کے ساتھ تصفیہ کا معاہدہ کرکے رقم کی ادائیگی کی،ڈیڑھ ملین ملین ڈالر کی یہ رقم دو اقساط میں ادا کی گئی، جوغیر قانونی تھا،اصل براڈشیٹ ایل ایل سی برطانیہ میں تھی۔مقدمے میں نیب کے تمام سابقہ سربراہان نے گواہی دی۔براڈ شیٹ کیس میں ثالثی عدالت نے تمام ذمہ داری قومی احتساب بیوروکے غلط اقدامات پر ڈالی ہے۔ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب نے جان بوجھ کر براڈ شیٹ کو مالی نقصان پہنچانے کی سازش کی۔فیصلے میں لکھا ہے کہ غلط فریق سے تصفیے کا معاہدہ کرکے ڈیڑھ ملین ڈالرز ادا کیے گئے جس سے اصل کمپنی کو نقصان پہنچا، جان بوجھ کر لاپروائی برتنے پر نیب کو جرمانہ بھرنا ہوگا۔راڈ شیٹ کمپنی کے سربراہ کاوے موسوی کی طرف سے سامنے آنے والے حالیہ بیانات غور طلب ہیں 'کاوے موسوی نے یہ دعوی کیا ہے کہ انہوں نے سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے خاندان سمیت کئی پاکستانی سیاستدانوں کے بیرونِ ممالک میں بنائے گئے لاکھوں ڈالرز مالیت کے بینک اکائونٹس اور اثاثہ جات کا سراغ لگا لیا تھا۔اسی تناظر میں ان کے اس بیان نے پاکستان میں ایک تنازع کو جنم دیا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ شریف خاندان نے اپنے اثاثہ جات کے حوالے سے ان کی تحقیقات کو سامنے نہ لانے کے عوض انہیں پچیس ملین ڈالر رشوت کی پیشکش کی تھی۔ شریف خاندان کی طرف سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔کاوے موسوی کی طرف سے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب حال ہی میں براڈ شیٹ ایل ایل سی نے پاکستانی حکومت کے خلاف برطانیہ میں ثالثی کا ایک مقدمہ جیتا ہے۔ اس کے بعد عدالتی حکم پر انہیں برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانے کے بینک اکائونٹ سے لگ بھگ انتیس ملین ڈالر کی رقم ادا کی گئی ہے۔کاوے موسوی کا کہنا ہے پاکستانی سیاسی شخصیات کے بیرونِ ملک اثاثہ جات کا سراغ لگانے کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کے حوالے سے موجودہ پاکستانی حکومت کے ساتھ ان کی بات چیت جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی رضاکارانہ طور پرموجودہ حکومت کو برطانیہ میں ایک ارب ڈالر مالیت کے ایک مشکوک بینک اکائونٹ کی نشاندہی کر چکے ہیں تاہم پاکستانی حکومت نے تاحال اس کا کھوج لگانے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔وہ اکائونٹ کس کا ہے، اس سوال پر موسوی کا کہنا تھا کہ یہ آپ پاکستانی حکومت سے پوچھیں، انہیں معلوم ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ تیرہ جنوری کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ براڈ شیٹ کے انکشاف کے مطابق ایک پاکستانی سیاسی شخصیت نے ایک ارب ڈالر برطانیہ منتقل کیے تھے تاہم ان کا دعوی تھا کہ براڈ شیٹ نے تاحال حکومت کو اس اکائونٹ ہولڈر شخصیت کا نام نہیں بتایا۔موسوی نے الزام عائد کیا کہ اس اکائونٹ کی نشاندہی پر موجودہ حکومت کے ایک نمائندے نے ان سے اپنے لیے اس میں کمیشن کی بات بھی کی تھی۔کاوے موسوی کے مطابق حکومت کے ساتھ معاہدہ ہو جانے کی صورت میں وہ شریف خاندان کے خلاف جمع کیے گئے شواہد پاکستانی حکومت کے حوالے کر سکتے ہیں۔کاوے موسوی کے پاس شریف خاندان کے خلاف کس نوعیت کے شواہد موجود ہیں، یہ انہوں نے کب، کیسے اور کہاں سے حاصل کیے، یہ کہانی ان کی پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر آمد سے شروع ہوتی ہے۔برطانیہ نژاد کاوے موسوی بنیادی طور پر انسانی حقوق کے وکیل ہیں۔وہ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم بھی دے چکے اور بین الاقوامی مصالحتی عدالت میں ثالث کے طور پر کام کر چکے ہیں۔آئل آف مین میں رجسٹرڈ اثاثہ جات کی کھوج لگانے والی ان کی کمپنی براڈ شیٹ کی فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے نیب کے لیے خدمات حاصل کی تھیں۔کاوے موسوی کے مطابق جنرل پرویز مشرف خاص طور پر نواز شریف، بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے بیرونِ ملک اثاثہ جات کا سراغ لگا کر مبینہ طور پر لوٹی گئی رقم پاکستان واپس لانے میں دلچسپی رکھتے تھے۔لیکن ہم کسی سیاسی انتقامی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے جو کہ اس وقت ظاہر ہو رہا تھا کہ مشرف کرنا چا رہے تھے۔ اس لیے ہم نے واضح کر دیا کہ ہم صرف ان تین شخصیات کے پیچھے نہیں جائیں گے۔ابتدائی بات چیت کے بعد نیب اور پاکستانی حکومت کے ساتھ ان کا معاہدہ طے پایا۔ انہیں ان تین شخصیات سمیت دو سواہداف کی ایک فہرست فراہم کی گئی۔معاہدے کے مطابق نیب نے انہیں مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنا تھیں جن کی بنیاد پر براڈشیٹ ایل ایل سی کو ان افراد کی طرف سے بیرونِ ملک رکھی گئی مبینہ کرپشن کی رقم کا سراغ لگا کر ثبوت فراہم کرنا تھے اور اسے پاکستان واپس لانے میں مدد فراہم کرنا تھی۔نیب نے ہم سے کہا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں، آپ پیسہ خرچ کریں، ان افراد کے اثاثہ جات کا سراغ لگائیں اور لوٹی ہوئی رقم واپس دلانے میں ہماری مدد کریں۔ کل رقم کا بیس فیصد حصہ آپ کو معاوضے کے طور پر دیا جائے گا۔کاوے موسوی کے مطابق وہ سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے پیسے کا سراغ لگا رہے تھے اور انہوں نے مبینہ طور پر کئی بینک اکائونٹس کے حوالے سے موزوں شواہد حاصل کر لیے تھے جن میں سے کئی اکائونٹس کو منجمد بھی کروایا گیا تھا۔ جنیوا میں استعمال کیے گئے کریڈٹ کارڈ کی کہانی بھی سب کو معلوم ہے اور پھر پانامہ پیپرز سامنے آتے ہیں اور وہ سب کچھ بتا دیتے ہیں جو ہمیں جاننے کی ضرورت تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ جن بینک اکائونٹس کا کھوج انھوں نے نکالا وہ کون سے تھے اور کن ممالک میں موجود بنائے گئے تھے تو موسوی کا کہنا تھا کہ وہ  تاحال یہ معلومات عام کرنے کے مجاز نہیں کیونکہ یہ معاملہ اس وقت برطانیہ کی عدالت کے پاس تھا تاہم اگر کبھی اس حوالے سے دیا گیا عدالتی فیصلہ سامنے منظرِ عام پر آ جاتا ہے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ جج نے اس میں کیا لکھا ہے۔امریکی شہرنیو جرسی میں اکائونٹس ملے، ہمیں لندن، سوئٹرزلینڈ اور جزیرہ کیمن میں اکائونٹس ملے۔ یہ اکائونٹس یا تو خود نواز شریف اور یا ان کے معتبر دوستوں کے تھے۔ہم نے لاکھوں ڈالرز مالیت کے اکائونٹس کا سراغ لگایا اس سے قبل کے وہ ان اکائونٹس کو منجمد کروانے کے لیے حرکت میں آتے انہیں دھوکہ دہی سے ہٹا دیا گیا۔کاوے موسوی کے مطابق نیب نے موقف اختیار کیا تھا کہ براڈ شیٹ مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر پائی تھی۔ براڈشیٹ کے سربراہ کے مطابق حقیقت اس کے برعکس تھی۔حقیقت میں ہم نے نیب کو لاکھوں ڈالرز مالیت کے بینک اکائونٹس کا سراغ لگا کر ثبوت فراہم کیے اور ان سے کہا کہ وہ اس رقم کو واپس لانے کے لیے متعلقہ حکومتوں کو قانونی چارہ جوئی کی درخواست دیں اور درخواست تحریر بھی کر کے فراہم کی۔انہوں نے دعوی کیا کہ نیب نے نہ صرف اس پر عمل نہیں کیا بلکہ اگلے ہی روز نیب کی طرف سے ہمیں کہا جاتا تھا کہ آپ اس ہدف کا نام فہرست سے نکال دو۔