20

فوج کوسیاست میں نہ گھسیٹاجائے،عسکری ترجمان

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی )میجر جنرل بابر افتخار نے  کہا ہے کہ پی  ڈ ی  ایم کی راولپنڈی آنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، اور اگر وہ پنڈی آئے تو چائے پانی پلائیں گے،ہماری مزاحمت فوج سے ہوتی ہے، فوج کے خلاف الزامات میں حقیقت پر ردعمل دیا جاتا ہے، فوج کا بہترین طریقے سے مورال بلند ہے، آرمی چیف رواں ہفتے کوئٹہ جائیں گے ،پاکستان میں منظم دہشت گردوں کا کوئی اسٹرکچر موجود نہیں ہے   مغربی سرحد پر قبائلی اضلاع میں امن و امان کی بحالی کے ساتھ ساتھ سماجی معاشی منصوبوں کا آغاز کیا جاچکا ہے، پاک افغان اور پاک ایران سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے مربوط اقدامات کیے گئے، دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن سے سیکیورٹی کی صورتحال بہت بہتر ہوئی، بھارت کے مذموم عزائم  کی  ہمیشہ ثبوتوں اور حقائق کے ذریعے  نشاندہی کی اور کامیابی سے ان کا مقابلہ کیا۔  پیر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دس سال پاکستان کے لئے ہر لحاظ سے چیلنجنگ تھا،2020میں لوکسٹ اور کورونا نے معیشت اور فوڈ سیکیورٹی کو نقصان پہنچایا اور پچھلی ایک دہائی میں مشرقی سرحد اور لائن آف کنٹرول میں ہندوستان کی شرانگیزیاں جاری تھیں جبکہ دوسری جانب مغربی سرحد پر کالعدم تنظیموں اور دہشت گردوں سے جوڑ توڑ کے ساتھ پشت پناہی سے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کیا جا رہا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود پاک فوج، ریاستی ادارے، انٹیلی جنس ادارے اور سب سے اہم پاکستانی عوام نے متحد ہو کر مقابلہ کیا اور بحیثیت قوم اللہ تعالیٰ نے ہمیں سرخرو کیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی سرحد پر امن و امان کے ساتھ Soci Economicکے  کاموں کابھی آغاز کر دیا گیا ہے، پاک افغان اور پاک ایران سرحد کو محفوظ بنانے کے مربوط کوششیں کی گئی ہیں، دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کے نتیجے میں سیکیورٹی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے، ہندوستان کی جانب سے ہائبرڈ وار اور ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کا مقابلہ کیا اور دنیا کے سامنے حقائق پیش کیا ہے جس کو دنیا بھی اب مان رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن رد الفساد میں ہول آف نیشن اپروچ کے ذریعہ کامیابی حاصل کیں، ان آپریشنز کے ذریعہ  دہشت گردوں کے معاونت کاروں اور اسلحے اور دیگر منصوبوں کا خاتمہ کیا گیا اور آج پاکستان میں کوئی آرگنائزڈ ٹیررسٹ اسٹرکچر ماضی کی طرح موجود نہیں ہے، آپریشن ردالفساد کے تحت 3 لاکھ 71 ہزار  سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے ،72ہزار سے ائد اسلحہ، 5 ملین ایمونیشن اور ساڑھے 4سو ٹن بارود ریکور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2007میں قبائلی اضلاع صرف 47فیصد علاقوں میں ریاستی عملداری رہ گئی تھی اور آج تمام قبائلی اضلاع خیبرپختونخوا  صوبہ کا حصہ بن چکے ہیں، دہشت گردی کے بڑے واقعات میں 2019کی نسبت 2020میں 45فیصدکمی آئی ہے،2013 میں دہشت گردی واقعات اوسطاً90ہرسال تھا، آج کم ہو کر صرف 13ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 50سے زائد تھریٹس کو ختم کیا، 2013 میں کیجوالٹی 414 تھیں اور 2020 میں صرف 98 ہیں، خود کش حملوں میں 97فیصد کی واضح کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کو ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے وہ 2013میں کرائم انڈیکس میں 6نمبر تھا اور 2020 میں بہتری کے ساتھ اب کرائم انڈیکس میں 103نمبر آ گیا ہے جو ڈویلپ ممالک کے بڑے بڑے کیپیٹل سے بہتر صوترحال ہے، کراچی 201میں دہشت گردی میں 95فیصد، ٹارگٹ کلنگ میں 98فیصد، بھتہ خوری میں 99فیصداور اغواء برائے تاوان کے واقعات میں 98فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مغربی سرحد میں ٹنلز، بارڈر فیسننگ کے بہتری لائی گئی ہے، 2611کلو میٹر پاک افغان بارڈر میں 83فیصد سے زائد کام مکمل کرلیا گیا ہے اور پاک ایران سرحد پر 37فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے،پاک افغان سرحد پر کام اس کے وسط اور پاک ایران سرحد پر کام سال آخر تک مکمل کرلیا جائے گا جبکہ سرحدوں کے کہا کہ 1068پلینڈ قلعوں میں سے 482کو تعمیر کیا جا چکا ہے جبکہ بارڈر ٹرمینلز کی نقل، حمل میں 33فیصد اضافہ ہوا ہے، انسداد منشیات کے کارروائیوں کے نتیجے میں چھ ماہ میں ریونیو میں 48بلین کا اضافہ ہوا ہے اس میں کسٹم کا کردار بھی اہم ہے، سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں 55فیصد کمی ہوئی ہے، سرحدی ڈسٹرٹک کے آئی ای ڈی دھماکوں میں 16فیصد کمی ہوئی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مشرقی سرحد میں ہندوستان کی جانب سے اشتعال انگیزیوں میں اضافہ ہوا ہے اور خاص طور پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں معصوم بچے خواتین اور بزرگ بھی شامل ہیں، گزشتہ 3097لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں ہوئیں، ان میں 28 افراد شہید ہوئے اور 257زخمی ہوئے ہیں، 2014سے 2020میں ہندوستان کی خلاف ورزیوں میں بے انتہاء اضافہ ہوا ہے، 2019میں سب سے زیادہ سیز فائر کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں اور 2018میں سب سے زیادہ شہری کیجولٹی ہوئی ہیں جن کی تعداد 377ہے،پاک فوج نے ہندوستان کی شر انگیزیوں کا بھرپور جوبا دیا اور ہندوستان کو بہت نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے، کینٹیک ایکشن میں ہندوستان نے ناکامی کے بعد ففتھ جنریشن وار فیز کا سہارا لیا ہے اور اس حوالے سے آرمی چیف نے قوم کو آگاہ کیا جبکہ ڈوزیئر کی صورت پر حقائق دنیا کے سامنے لائے گئے جبکہ حال ہی میں ای یو ڈس انفولیب کی جانب سے ناقابل تردید شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ بیس سالوں میں دہشت گردی کے خلاف ایک کامیاب جنگ لڑی ہے، 1200سے ائد آپریشن کے ذریعہ ہر قسم کے دہشتگرد تنظیموں کا خاتمہ کیا گیا، 18000سے زائد دہشت گردوں کا قلع قمع کیا گیا جبکہ قانون سازی کر کے کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن بھی لیا گیا، بین الاقوامی امن کیلئے القاعدہ کے 1100سے زائد دہشت گردوں کو پکڑا گیا اور مارا گیا،70سے زائد سے ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کی گئی، ان20سالوں میں 83ہزار پاکستانیوں نے قربانیاں دیں اور 126بلین ڈالرز کا معاشی نقصان اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ سال سے مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں،فروری 2019کو پاکستان کے خلاف جارحیت کی ناکام کوشش کی گئی، فنانشل کرائم انفورسمنٹ نیٹ ورک کی 44ہندوستانی بینکوںکی ٹیرر فنانسنگ کے حوالے سے رپورٹ بھی ای یو ڈس انفولیب کی تحقیقات میں آئے ہیں اور ان تمام جعلی گروپوں کو ہندوستان بیسٹڈ سری واستوا گروپ چلا رہا تھا جس میں جعلی این جی اوز، تھینک ٹینکس کو 15سال سے جعلی رکھے ہوئے تھے ان فیک میڈیا آئوٹ لیٹس اور میڈیا ایجنسیز بھی شامل تھیں، فیک این جی اوز کے ذریعہ یو این او میں پاکستان مخالف احتجاج ریکارڈ کیا جاتا تھا اور پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا، اس ای یو کرانیکلز نیوز ویب سائٹ سے جاری کیا جاتا اور مصدقہ بنانے کیلئے اے این آئی کے ذریعہ جاری کر کے فیک میڈیا ہائوسز سے پیپلز کروایا جاتا، جس بعد میں مین سٹریم میڈیا میں سچ بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کام آغاز کر دیا گیا ہے اور کورونا وباء کا بھی حکمت عملی اور دانشمندی سے کام کیا، کورونا وباء میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا اور ہندوستان کے پروپیگنڈا کو بہت بہتر طریقے سے سامنے لانے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں پاکستان کو ناکام اور تقسیم کرنے کے درپے ہیں، اس لئے ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں ہیں کیونکہ سب کی منزل ایک ہے کہ پاکستان کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف اس ہفتے کوئٹہ کا دورہ کریں گے جبکہ بلوچستان میں ایف سی کی استعداد کار میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا الزام تراشیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، فوج کا بہترین طریقے سے مورال بلند ہے جبکہ سرحد پر باڑ حکومت پاکستان کے احکامات پر لگائی گئی ہے، فوج نے سرحد پر باڑ لگانے میں بھی بہت قربانیاں دی ہیں، کوئی اس باڑ کو اکھاڑ کر پھینک نہیں سکتا ہے، پاکستانی قوم کسی کو انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کو راولپنڈی آنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی،اگر وہ پنڈی آنا چاہتے ہیں تو چائے پلائیں گے،ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کریں گے،ا سے زیادہ کیا کہہ سکتے ہیں،سیاسی معاملات پر تبصرے سے گریز کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کے الزامات فوج پر لگائے جا رہے ہیں ان میں کوئی وزن نہیں ہے، حکومت وقت نے پاک فوج کو کہا تو دیانت داری سے الیکشن کرائے اور اگر الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو متعلقہ اداروں کے پاس جانا چاہیے، اس کے حوالے جو باتیں کی جا رہی ہیں وہ اچھی نہیں ہیں جبکہ ان باتوں کا جواب حکومت پاکستان نے اچھے طریقے سے دیا ہے، فوج کو سیاسی معاملات میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج کو سیاسی معاملات میں گھسیٹنے کی کوشش نہ کی جائے جبکہ کسی سے بھی کوئی بیک ڈور رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  پاکستان میں داعش کا وجود نہیں ہے،پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے، دہشت گردی کے خلاف موثر کاروائیاں کی ہیں۔