78

قوم پرستی کے نام پر منافرت پھیلانے والوں کو نہیں بخشیں گے،وزیراعلیٰ

وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں جعلی حب الوطنی، قوم پرستی اور مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصر کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے. پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نوجوانوں کو کھبی گمراہ ہونے نہیں دے گی. کچھ لوگ گلگت بلتستان کو ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے ہیں. سابقہ حکومتیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو اپنے دور اقتدار میں گلگت بلتستان میں کوئی مسلہ نظر نہیں آیا جب اقتدار سے فارغ ہوئے تو مسائل اور نقص نظر آنے لگے ہیں. اپوزیشن نے حقوق کے نام پر عوام کو گمراہ کیا تاہم اب گلگت بلتستان کی عوام کو حقیقی طور پر حقوق پاکستان تحریک انصاف دے گی. تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان جرنلسٹ فورم راولپنڈی اسلام آباد کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے   وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کے جنگلات کی حفاظت بہت ضروری ہے اسی لئے ہماری حکومت کی سب سے پہلی ترجیح جنگلات کی حفاظت ہے. ایف سی کے ذریعے ہم اپنے جنگلات کا تحفظ کر رہے ہیں. پوری دنیا میں نیشنل پارک بنتے ہیں اور ہم بھی گلگت بلتستان میں نیشنل پارک بنا کر علاقے کی ترقی کیلئے مثالی کردار ادا کریں گے. وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں جعلی حب الوطنی اور قوم پرستی کرنے والوے عناصر کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے. پی ٹی آئی کی حکومت اپنے نوجوانوں کو کبھی گمراہ نہیں ہونے دی گی. جعلی جب الوطنی کے خلاف صحافیوں کو ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے. نام نہاد قوم پرستی کو بھی اپنے معاشرے سے نکالنا ہوگا. ہمارے لوگ محبت اور شفقت رکھنے والے لوگ ہیں کچھ عناصر گلگت بلتستان کو ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے ہیں. وفاق حکومت جسطرح سے مرکز میں سو روزہ پلان لے کر آئی تھی اسی طرز میں ہم بھی اپنے اہداف بنا رہے ہیں. گلگت بلتستان میں پانچ سو میگاواٹ تک کی ضرورت ہے جبکہ سسٹم میں ڈیھ سو میگاواٹ کی بجلی موجود ہے بجلی کے منصوبوں کے حوالے سے ترجیع بنیادوں پر کام کر رہے ہیں. خالد خورشید نے کہا کہ صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کا اہم شعبہ ہے گلگت بلتستان میں تقریباً بیس بندے نئیے نمائندے اس حکومت میں شامل ہیں. ہمیں نئی سوچ اور فکر کی ضرورت ہے آج ہمیں ایک لیڈر شپ ملی ہے تاکہ عوام کی خدمت کی جاسکے. لیڈر شپ ہمیشہ کوشش کرے گی جس طرح وفاق کی لیڈر شپ کر رہی ہے اس سے زیادہ کام کریں. سابق وزیراعلی حفیظ الرحمان اور مہدی شاہ کو اپنی حکومت میں گلگت بلتستان میں کوئی مسل? نظر نہیں آیا اور جب گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو حفیظ الرحمان اور مہدی شاہ کو نقص نظر آنے لگے. گلگت بلتستان میں اپوزیشن نے حقوق کے نام پر عوام کو گمراہ کیا ہے. سابقہ حکومت نے ٹیکس کے دستاویزات پر دستخط کیے ہیں. ہم تعلیم، صحت اور بچوں کی تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کی کوشش کریں گے ہماری توجہ پانچ سال کے چھوٹے بچوں تک کی تعلیم نظام کو بہتر بنانا ہے. صحت کے شعبے کو بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے. سابقہ حکومت کے دور کے ترقیاتی کام بھی اس وقت لٹکے ہوئے ہیں. ہم اپنے بجٹ کو زیادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں گلگت بلتستان میں فور جی لانے پر بات چیت کر رہے ہیں جبکہ ہمارا علاقہ معدنیات سے مالا مال ہے اور ہم اس محکمے کو بھی بہتر کرنے کی کوشش کریں گے. مدنیات میں اوپن ٹینڈرن کے زریعے مائنینگ کریں گے. وقت آگیا ہے کہ گلگت بلتستان اپنا ریوینو میں اضافہ کرے. گلگت بلتستان میں انرجی کے شعبے میں بہتری لانا چاہئے گے. گلگت بلتستان میں سیاحت کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں. وزیراعلی جی بی خالد خورشید نے مزید کہا کہ ہم گلگت بلتستان کی سکیورٹی بہتر کرنا چاہتے ہیں گلگت بلتستان میں کوئی روزگار نہیں ہے گلگت بلتستان میں اس وقت صرف سرکاری نوکریاں موجود ہیں. ہم نوجوانوں کے لئے روزگار اور نوکریاں لے کر انا چاہتے ہیں ہم اداروں کو ٹھیک کریں گے. ہماری کوشش ہے گلگت بلتستان کو ترقی یافتہ بنائیں گے.