47

محمد علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ نے مشن کے ٹو کا ایک بار پھر آغاز کر دیا

گلگت( جمیل نگری) مشہور کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور ان کے بیٹے ساجد سدپارہ نے مشن کے ٹو کا ایک بار پھر آغاز کر دیا ہے۔ پیر کی صبح چار بجے بیس کیمپ سے کیمپ تھری اور فور کی طرف پیش قدمی کرینگے اور پھر اس سے اگلے روز کے ٹو سر کرنے کی کوشش کرینگے۔ محمد علی سدپارہ اور ان کے بیٹے کے ساتھ آئس لینڈ سے تعلق رکھنے والے معروف کوہ پیما جان سنوری موسم سرما میں کے ٹو سرکرنے کی مہم میں کے ٹو بیس کیمپ پر موجود ہیں،اس سے پہلے  تین گروپوں کے پچاس سے زائد غیر ملکی کوہ پیما بھی مہم جوئی میں حصہ لے رہے تھے جن میں سے نیپالی ٹیم نے کے ٹو کرکے ریکارڈ بنا لیا اور اب وہ واپس راولپنڈی پہنچ چکے ہیں۔محمد علی سدپارہ اور ان کی ٹیم ساجد اور جان سنوری کیمپ تھری تک پہنچ چکے تھے لیکن خراب موسم کی وجہ سے انہیں بیس کیمپ واپس آنا پڑا تھا، اسی دوران سپین سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما کی موت کے بعد سرچ آپریشن کی وجہ سے مہم جوئی معطل کی گئی تھی، دیگر کوہ پیمائوں نے لاپتہ کوہ پیما کی تلاش مہم میں حصہ لیا۔ اتوار کے روز ساجد سدپارہ کی جانب سے اعلان کیا گیاوہ اتوار کے روز مہم جوئی کا دوبارہ آغاز کرینگے، ساجد سدپارہ بغیر آکسیجن کے مہم جوئی کا آغاز کررہے ہیں تاہم احتیاطی تدابیر کے طورپر آکسیجن کو رکھا جائے گا۔ یادرہے کہ محمد علی سدپارہ 8ہزار میٹر بلند 14چوٹیوں کو سرکرچکے ہیں، نانگا پربت کو موسم سرما میں سر کرنے کا ریکارڈ بھی قائم کیا تھا۔ ان کے بائیس سالہ بیٹے ساجد سدپارہ 2019 میں کے ٹو سر کرکے کم عمر کوہ پیما بن گئے تھے۔ پیر کے روز تک موسم بہتر ہونے کی صورت میں تین رکنی کوہ پیمائوں کی جانب سے کے ٹو سرکرنے کا قوی امکان ہے۔