15

مذہب کی آڑ میں سیاست نہیں کرنے دیں گے، عمران خان

 حکومت نے مدارس کے بچوں کو پی ڈی ایم احتجاج میں شرکت سے روکنے کا فیصلہ کر لیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ملک میں کرپشن کی جڑیں اس قدر گہری ہیں کہ ملک کے نظام میں کرپشن کو تسلیم کرلیا گیا ہے ،پاکستان میں تبدیلی نہ آنے کی بڑی وجہ جسے اسٹیٹس کو مافیا ہے ،ہماری تنزلی تب شروع ہوئی جب ہم سچائی سے دور ہوئے ،سیاسی جماعتوں کے رہنماں نے کرپشن کو سینے سے لگایا،ہر کسی کو علم ہے کہ رشوت عام ہے۔ جو قوم اپنی حالت خود نہیں بدلتی اس کی حالت رب بھی نہیں بدلتا، یہ ممکن نہیں کہ عمران خان سوئچ آن کرکے تبدیلی لے آئے، براڈشیٹ کے انکشافات نے ایک مرتبہ پھر ہماری حکمران اشرافیہ کی بڑے پیمانے پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کو بے نقاب کردیا،کرپشن کے ان تمام انکشافات کا ابھی تو صرف آغاز ہے، ہم جاننا چاہتے ہیں براڈ شیٹ کو مزید تحقیقات سے کس نے روکا تھا۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا اجلاس میں مدارس کے بچوں کو پی ڈی ایم احتجاج سے روکنے کے لیے مشاورت کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کو ٹاسک سونپ دیا۔وزیرداخلہ شیخ رشید علما کرام سے اہم ملاقات کریں گے اور انہیں حکومتی پالیسی پراعتماد میں لیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مذہب کی آڑ میں سیاست کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اجلاس میں مہنگائی کم کرنے کے لئے اقدامات پر بھی غور ہوا   وزیراعظم عمران خان نے کہا  کہ چینی اور انرجی کے معاملے پر اہم فیصلے کرلئے گئے  ہیں،چینی درآمد کرنے کے لئے فوری انتظامات کئے جائیں ، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی لائی جائے گی ، وفاقی وزیر صنعت و تجار ت حماد اظہر نے اجلاس سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چینی ہنگامی بنیادوں پر درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، درآمد کے بعد چینی کی قیمت فوری کم ہوجائے گی ،چینی کی درآمد دو سے تین روز میں ہوجائے گی۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے براڈ شیٹ پر ترجمانوں کو بریفنگ دی ،ترجمانون کے اجلاس میں شہزاد اکبر اور بابر اعوان پر اپوزیشن کی تنقید کا بھی ذکر ،دو وزراء پر براڈ شیٹ الزامات کی بھی نشاندہی بھی کی گئی۔ دریں اثنا اسلام آباد میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں ای بڈنگ، ای بلنگ اور جی آئی ایس میپنگ کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں کرپشن اور رشوت کی جڑیں اس قدر مضبوط اور گہری ہوچکی ہیں کہ ملک کے نظام میں کرپشن کو تسلیم کرلیا گیا ہے،دنیا بھر میں 20 سال سے پیپر لس نظام فعال ہے جس کی وجہ سے کرپشن اور بدعنوانی کا گراف غیرمعمولی طور پر کم ہوگیا ،آٹومیشن طریقے سے شفافیت کا پہلوں نمایاں رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تبدیلی نہ آنے کی بڑی وجہ مافیا ہے جسے اسٹیٹس کو بھی کہہ سکتے ہیں ، جو لوگ پرانے نظام سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں وہ تبدیلی نہیں آنے دیتے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے کرپشن اور سفارش کو ختم کرنے کیلئے پورے ہسپتال کے انتظامی امور کو پیپر لیس کردیا جس کے بعد اب ادھر کوئی کرپشن نہیں ہے،ان کا کہنا تھا کہ ادویات کی خرید و فروخت سے لیکر تمام انتظامی امور ای بڈنگ اور ای بلنگ پر فعال ہے۔انہوں نے سرکاری ادارے کا نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ شوکت خانم ہسپتال میں چند سرکاری لوگوں کا علاج ہوا اس مد میں ملنے والے چیک کو کلیئر کرانے کے لیے اس ادارے میں پیش کیا تو انہوں نے کمیشن بطور رشوت طلب کیا، اس سرکاری ادارے نے فلاحی ادارے سے یہ کہہ کر رشوت طلب کی کہ یہاں ایسا ہی نظام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملائیشیا اور انڈونیشا میں مسلمان فوج نہیں گئی تھی کہ وہ لوگ مسلمان ہوئے بلکہ باکردار اور بااخلاق مسلمانوں کے تاجروں کو دیکھ کر ادھر اسلام پھیلا،ماضی میں ایسی مثالیں ملتی ہے کہ دنیا بھر میں پاکستانی شہریوں کی عزت تھی، پاکستانی صدر کو امریکی صدر ایئر پورٹ پر استقبال کے لیے موجود ہوتا تھا۔عمران خان نے کہا کہ ہماری تنزلی وہاں سے شروع ہوئی جب سچائی سے دور ہوئے اور رشوت عام ہوئی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماں نے کرپشن کو سینے سے لگایا۔وزیر اعظم عمران خان نے براڈ شیٹ اسکینڈل کا حوالہ دے کر کہا کہ برطانوی کمپنی کا عہدیدار اپنے انٹرویو میں واضح کررہا ہے کہ کس طرح وزیراعظم اور دیگر وزرا پیسہ چور کرکے برطانیہ منتقل کررہے تھے،ایک پاکستانی سیاستدان نے سعودی عرب سے برطانیہ ایک ارب ڈالر منتقل کیا ،جب ملک کا وزیر اعظم چوری کرے گا تو نچلی سطح تک چوری کا رحجان بڑھے گا اور کرپشن عام ہوگی،مغربی ممالک کے وزیر اعظم اور صدور کے رہن سہن دیکھ لیں اور پاکستان جیسے مقروض ملک کے سابق حکمران کا رہن سہن دیکھ لیں، پاکستان سے جانے والے سابق صدر اور وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جاتے تھے تو انتہائی مہنگے ہوٹلز میں رہتے تھے۔اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ فضل الرحمان سمیت کسی بھی اپوزیشن جماعت کو الیکشن کمیشن میں آنے سے نہیں روکا جائے گا ۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔اس سے قبل ٹویٹر بیا ن میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ براڈشیٹ کے انکشافات نے ایک مرتبہ پھر ہماری حکمران اشرافیہ کی بڑے پیمانے پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کو بے نقاب کردیا۔ اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ پہلے پاناما پیپرز نے ہماری حکمران اشرافیہ کی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کو بے نقاب کیا اور اب براڈشیٹ کے انکشافات نے ایک مرتبہ پھر ہماری حکمران اشرافیہ کی بڑے پیمانے پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کو عیاں کردیا۔انہوں نے لکھا کہ یہ اشرافیہ ان بین الاقوامی انکشافات پر 'انتقامی' کارڈ کے پیچھے نہیں چھپ سکتی۔وزیراعظم نے اپنی ٹوئٹس میں لکھا کہ یہ انکشافات بار بار کیا بیان کر رہے ہیں؟ پہلا یہ کہ جو میں 24 سال سے کرپشن کے خلاف لڑتے ہوئے کہہ رہا ہوں کہ کرپشن پاکستان کی ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، دوسرا یہ کہ یہ اشرافیہ اقتدار میں آکر ملک کو لوٹتی ہے۔انہوں نے مزید لکھا کہ تیسرا یہ کہ یہ ناجائز طریقوں سے جمع کی گئی دولت کو ملکی اداروں کی گرفت سے بچانے اور لوٹ مار سے جمع کی گئی دولت کو محفوظ بنانے کیلئے منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کرتے ہیں، اشرافیہ نے بیرون ملک میں غیر قانونی اثاثے بنانے کیلئے منی لانڈرنگ کی، اس کے بعد وہ این آر او حاصل کرنے کے لیے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہیں، این آر او کی وجہ سے اشرافیہ نے لوٹی ہوئی دولت کو تحفظ فراہم کیا، اس صورتحال میں پاکستانی عوام سب سے زیادہ ہارے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اشرافیہ کی جانب سے نہ صرف قوم کی دولت لوٹی جاتی ہے بلکہ اس رقم کی وصولی کے لیے ادا کی جانے والی ٹیکس دہندگان کی رقم بھی این آر اوز کی وجہ سے ضائع ہوجاتی ہے۔اپنے بیان میں وزیراعظم نے لکھا کہ یہ انکشافات تو محض ایک جھلک ہے، ہم براڈشیٹ سے اپنی اشرافیہ کی منی لانڈرنگ اور تحقیقات رکوانے والوں کے معاملے پر مکمل شفافیت چاہتے ہیں۔