69

معروف گلوکار شوکت علی انتقال کر گئے،سیاسی شخصیات کا اظہار افسوس

اکستان کے معروف گلوکار شوکت علی انتقال کر گئے۔واضح رہے کہ گجرات ملاکوال کے فنکار گھرانے تعلق رکھنے والے فوک گلوکار شوکت علی نے صوفیانہ کلام اور پنجابی گانوں کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا، 1965ء کی جنگ میں ان کا گایا ہوا ملی نغمہ، ’’جاگ اٹھا ہے سارا وطن‘‘ اب بھی جوانوں کا لہو گرماتا ہے، حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں 1990 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے۔گزشتہ روز پاکستان کے معروف فوک گلوکار شوکت علی کی طبیعت مزید ناساز ہوگئی تھی، ان کے بیٹے امیر شوکت علی نے بتایا تھا کہ والد کی حالت نازک ہے، اور ان کا جگر بالکل کام نہیں کررہا، عوام سے درخواست ہے کہ میرے والد کی صحت یابی کے لئے دعا کریں۔

یاد رہے کہ فوک گلوکار شوکت علی طویل عرصے سے جگر کے عارضے میں مبتلا رہے، گزشتہ برس وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر انہیں سندھ کے گمبٹ انسٹی ٹیوٹ میں داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ کئی روز زیر علاج رہے تاہم پھر اکتوبر 2020 میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی خصوصی ہدایت پر انہیں سی ایم ایچ لاہور میں دا خل کرایا گیا تھا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے شوکت علی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور انکے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کی، زرداری نے شوکت علی مرحوم کی مغفرت اور بلند درجات کیلئے دعا کی۔

انہوں نے کہا کہ انتقال سے ملک ایک بہت بڑے گلوکار سے محروم ہو گیا ہے، شوکت علی کی فن کیلئے خدمات ہمشہ یاد رکھی جائیں گی۔دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی اطلاعات پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ٹویٹر پر لکھا کہ معروف گلوکار شوکت علی کے انتقال کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا، شوکت علی نے اپنے فن خصوصا پرجوش ملی نغموں سے پاکستان کا نام روشن کیا، پروردگار شوکت علی کو جنت الفردوس میں جگہ دے، اللہ رب العزت شوکت علی کے غمزدہ خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز نے بھی لوک فنکار شوکت علی کے انتقال پر رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی آواز سے پاکستانیت جگانے والے فنکار شوکت علی کے انتقال پر ہر پاکستانی کو دلی افسوس ہے۔ پاکستانیت کے جذبے سے گانے والے گائیک شوکت علی نے ولولہ انگیز ملی ترانوں سے دفاع پاکستان کی جنگوں میں تاریخی کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ عوامی رنگ میں رنگی، لوک موسیقی کی ایک سریلی آواز سے قوم آج محروم ہو گئی۔ شوکت علی کی گائیکی میں علاقائی موسیقی اور درمیانے طبقے کے لوگوں کے احساسات کی جھلک نظر آتی تھی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔ آمین