32

مقامی زبانوں کی نصاب میں شمولیت کا مطالبہ


حکومتی اور اپوزیشن ممبران اسمبلی نے مقامی زبانوں کو نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا  ہے کہ حکومت اس سلسلے میں جلد اقدامات اٹھائے۔پچھلی حکومت نے تھوڑا کام کیا اس پر مزید کام کی ضرورت ہے۔اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مقامی زبانوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا زبان کی معدومی معاشرتی زوال کی بنیاد ہوتی ہے۔کسی بھی معاشرے میں اظہار کا بہترین ذریعہ اس کی مادری زبان ہوتی ہے۔ جن معاشروں میں دانشور اپنی دھرتی کے ساتھ جڑے رہتے ہیں اور نفوس پذیر کے حامل افراد کا تعلق اپنی مٹی کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے ان ممالک کی عوام اپنی ثقافت اپنی زبان اپنی تاریخ پر فخر کرتی ہے۔ لیکن محکوم دانشور، ادھار سوچ کے حامل نام نہاد حکمران ولکھاری اپنی قوم کی اتنی برائیاں کرتے ہیں کہ عوام کو اپنی دھرتی' اپنی ماں بولی زبان اپنی تاریخ سے دور کر دیتے ہیں۔ برصغیر پاک وہند میں انگریز کی آمد نے یہاں کی عوام کو انتہائی ذلت آمیز رسوائی میں مبتلا کردیا۔ انگریز تو یہاں کے وسائل پر ہاتھ صاف کرنے آیا تھا لیکن جب اس نے دیکھا کہ برصغیر کے حکمران تو بس تخت و تاج کی خاطر اپنے ہی پیارے بہن بھائیوں کے گلے کاٹ رہے ہیں ۔ یوں انگریز نے تجارت کے ساتھ ساتھ اِس چھوٹے بر اعظم پر حکومت کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔ اِس طرح دھرتی میں رہنے والے اپنی ہی زبان ثقافت پر نازاں ہونے کی بجائے شرمندگی محسوس کرنے لگے نتیجہ یہ نکلا کہ انگریز برصغیر کا حکمران کیا بنا اس نے یہاں کے لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کردیا۔اپنی زبان کو اتنا اونچا درجہ دے دیا کہ عوام دیسی زبانیں بولنے میں شرمندگی محسوس کرتے  یوں پھر تعلیمی نظام جو برصغیر میں صدیوں کی محنت کے بعد ترتیب پایا تھا اس نظام ی بساط لپیٹ دی گئی۔ ہندو شاطر تھے انہوں نے انگریز کا ہمنوا بننے میں ہی عافیت سمجھی اور مسلمان جو علم کے جھنڈے کو ہمیشہ بلند رکھے ہوئے تھے۔ انگریزی زبان کی ترویج کی وجہ سے یک دم ان پڑھ قرار دے دئیے گئے۔ انگریز نے غلامی کا وار اِس انداز میں کیا کہ مسلمانوں کا صدیوں سے رائج نصاب بے وقعت کر دیا گیا۔ ایک طرف مسلمان معاشی طور پر دلدل میں پھنستے چلے گئے تو دوسری طرف تعلیمی میدان میں انگریزی زبان کے فروغ کا زور و شور ان کو لے ڈوبا۔ علم و عمل کی بنیاد پر برصغیر پر ہزار سال حکومت کرنے والی مسلم قوم کو ایک دم جاہل گنوار بنا کر رکھ دیا گیا۔ انگریز کی اِس کاری ضرب کی وجہ سے مسلمان اندھیروں میں ڈوبتے چلے گئے۔ متذکرہ بالا تمہید باندھنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ جن اقوام کا اپنی ہی مٹی سے تعلق کمزور ہوجاتا ہے شکست ان کا مقدر بن جاتی ہے۔پاکستان، ہندوستان، امریکہ، افریکہ، چین، روس، فرانس، جرمنی، ایران، اٹلی و دیگر ممالک کی اقوام کی اپنی علیحدہ زبانیں ہیں، جو کہ اقوام کے افراد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اسی طرح ہر ملک کی ایک قومی زبان ہوتی ہے جس سے ہر ملک کے افراد کی نشاندہی ہوتی ہے۔زبان ایک ایسا سماجی عطیہ ہے جو زمانے کے ساتھ ساتھ ایک نسل سے دوسری نسل کو ملتا رہتا ہے۔ انسان کی یاداشت بدل جاتی ہے لیکن زبان نہیں بدلتی، وہ یاداشت کھو سکتا ہے لیکن اپنی زبان نہیں بھول سکتا۔ بلاشبہ زبان کسی بھی انسان کی ذات اور شناخت کا اہم ترین جزو ہے اسی لیئے اسے بنیادی انسانی حقوق میں شمار کیا جاتا ہے۔ قومیت کی شناخت او ر بیش قیمت تہذیبی و ثقافتی میراث کے طور پر مادری زبانوں کی حیثیت مسلمہ ہے چنانچہ مادری زبانوں کے فروغ اور تحفظ کی تمام کوششیں نہ صرف لسانی رنگارنگی اور کثیر اللسانی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں بلکہ یہ دنیا بھر میں پائی جانے والی لسانی اور ثقافتی روایات کے بارے میں بہتر آگہی بھی پیدا کرتی ہیں اور عالمی برادری میں افہام و تفہیم،رواداری اور مکالمے کی روایات کی بنیاد بنتی ہے۔ یاد رہے مقامی یا مادری زبانوں کوانسان کی دوسری جلد بھی کہا جاتا ہے۔ مادری زبانوں کے ہر ہرلفظ اور جملے میں قومی روایات، تہذیب وتمدن، ذہنی و روحانی تجربے پیوست ہوتے ہیں اسی لیے انہیں ہمارے مادی اور ثقافتی ورثے کی بقائاور اس کے فروغ کا سب سے موثر آلہ سمجھا جاتا ہے چنانچہ کسی قوم کو مٹانا ہو تو اس کی زبان مٹا دو تو قوم کی روایات اس کی تہذیب، اس کی تاریخ، اس کی قومیت سب کچھ مٹ جائے گا۔یہا ں پر ذکر کرنا مقصود ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباچھ ہزار نو سو بارہ زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے پانچ سو سولہ ناپید ہوچکی ہیں۔ زمانے کی جدت اور سرکاری زبانوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مادری زبانوں کی اہمیت ماند پڑ رہی ہے۔انسان جس کے دوسرے نام سماجی حیوان اور حیوان ناطق بھی ہیں، اس روئے زمین پر انسانی لباس میں کسی بھی دور میں بغیر کلچر کے نہیں رہا ہے۔ کچھ مفکرین کا تو یہ خیال ہے کہ کلچرہی نے انسان کو جنم دیا ہے۔ اس میں بھی کچھ صداقت اس طرح کی ہے کہ ہرچند کہ یہ صحیح ہے کہ انسان اپنا کلچرخلق کرتا رہتا ہے۔ لیکن جو کلچر خلق ہوتا ہے جب سے اس کا سماجی ماحول بنتا ہے اس سے انسان نسلا بعد نسل متاثر ہوتا رہتا ہے۔ اس سے اس کی ذہنی اور نفسی تشکیل ہوتی رہتی ہے۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ کلچر کا واضع انسان ہی ہے، اسی نے کلچر خلق کیا ہے۔ اس کویوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ کلچر انسان کا طریق زیست ہے، انسان فطرتا صانع عاقل اور ناطق ہے اور کلچر اس کی اسی فطرت کا اظہار ہے۔ وہ اپنی اسی فطرت کے باعث، کیوں نہ ہوفطرتی جو ٹھہرا، ان حیوانوں کی فطرت سے ممتاز ہوا جو اپنے ماحول اور اپنی فطرت کو ازخود بدلنے سے قاصر ہیں۔ یہ امتیاز صرف انسان ہی کو حاصل ہے کہ وہ نہ صرف اپنے ماحول کو بدلتا رہا ہے بلکہ اس عمل میں اپنی فطرت کوبھی۔ہم جانتے ہیں کہ ایک قومی زبان ہوتی ہے اور دوسرا علاقائی زبانیں ہوتی ہیں قومی زبان رابطے کا ذریعہ ہوا کرتی ہے اور علاقائی زبانیں کلچر کی ترویج کا ذریعہ اردو پاکستان کی کوئی واحدقومی زبان نہیں بلکہ یہاں کی مختلف قومی زبانوں میں سے ایک ایسی زبان ہے جو صدیوں سے مغربی پاکستان کی مختلف لسانی قوموں کے درمیان بھی لنگوافرینکا کا کام دیتی رہی ہے۔ آج اردو زبان مغربی پاکستان کے تمام شہروں میں سمجھی جاتی ہے اور بر وقت ضرورت بولی جاتی ہے اور اگریہ کہا جائے کہ دیہاتوں میں بولی نہیں جاتی ہے تو یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ اردو تو ہندوپاک کے کسی بھی علاقے کے دیہات میں بولی نہیں جاتی ۔ اس میں شبہ نہیں کہ مغربی یوپی اور توابع دہلی کے دیہاتوں میں بھی کھڑی بولی کے افعال استعمال ہوتے ہیں، لیکن وہ بات صرف افعال ہی تک محدود ہے، ورنہ وہاں کے لوگ تو ایک ایسی بھاشا بولتے ہیں کہ مشکل ہی سے اردو کے لوگ سمجھ سکتے ہیں۔مغربی پاکستان میں اردو قیام پاکستان سے پہلے لاہور ہی کے مرکز سے بڑھی اور پھیلی ہے اور اب قیام پاکستان کے بعد صوبہ سندھ کے تمام شہروں میں بھی اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے اور صوبہ پنجاب اور سرحد کے تمام شہروں میں تو انگریزی عملداری کے بعد سے بالخصوص، پشتہاپشت سے لوگ اپنی اپنی پشتو اور پنجابی کے ساتھ اردو بھی بولتے چلے آرہے ہیں اور علمی کام بشمول صحافت نگاری اردو میں کرتے آئے ہیں۔ اگر ان سارے تاریخی شواہد کی روشنی میں مغربی پاکستان میں اردوکی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اردو مغربی پاکستان کی لنگوافرینکا یا رابطے کی زبان ہے۔ اردو نے یہ پوزیشن علی الرغم اس بات کے حاصل کی ہے کہ حکومت کی زبان آج بھی انگریزی ہے۔اردو ایک ترقی پذیر زبان ہے، نہ کہ بند زبان ہے۔ اس کی ترقی پذیری اسی میں ہے کہ اس کی ٹکسال ہر سو سال کے بعد کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے۔ جو اردو کہ میر کے زمانے میں تھی، وہ انیسویں صدی میں نہ رہی اور جو اردو کہ انیسویں صدی میں تھی اب وہ بیسویں صدی میں نہ رہی۔ لیکن  اردو کی مقبولیت اس کا جواز نہیں بن سکتی ہے، کہ کسی بھی مقامی زبان کواس کے کسی بھی جائز اور فطری حق سے محروم رکھا جائے۔ اس کے برعکس اردو کے لوگوں کو یہ چاہئے کہ وہ مقامی زبانوں کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کیونکہ ان کی اثرپذیری ہی سے اردو زیادہ سے زیادہ ہردلعزیز اور ہمہ گیر ہو سکتی ہے۔گلگت بلتستان تہذیبی و لسانی اعتبار سے خاصا زرخیز علاقہ ہے یہاں بولی جانے والی زبانیں'گلگتی'بلتی'شینا'برشسکی اور دیگر زبانیں ایک اثاثہ ہیں جن کی حفاظت کی جانی چاہیے ان کی نصاب میں شمولت کا مطالبہ بالکل درست ہے اس سلسلے میں پیشرفت میں مزید تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔