29

مہنگائی زیادہ نہیں، نواز شریف کو عدلیہ نے باہر بھیجا، عمران خان

 وزیرا عظم عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو کہہ رہے تھے،7ارب کا شیورٹی بانڈ دو لیکن عدلیہ نے باہر بھیج دیا،ججوں کو فون کال کر کے فیصلے نہیں کروا سکتا،اکیلا کرپشن سے نہیں لڑسکتا عدلیہ ، نیب سمیت پوری قوم کو ساتھ دینا ہو گا ،تبدیلی آرہی ہے قوم کو مزید صبر کرنا ہوگا،گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں،ماہ رمضان میں یوٹیلیٹی سٹورز اور رمضان بازاروں میں سستی ترین چیزیں مہیا کی جائیں گی ،وعدہ ہے مہنگائی کی خود نگرانی کررہا ہوں،موجودہ مہنگائی کو زیادہ نہ سمجھیں،چھوٹے سے طبقے کو خون چوس کر پیسہ بنانے کی عادت پڑی ہوئی ہے، اربوں روپے کی چینی چوری کرنے والوں پر پھول پھینکے جارہے ہیں، پاکستان میں قانون کی بالادستی کی جنگ لڑی جارہی ہے، بھارت جب تک 5اگست کے اقدامات کو واپس نہیں لیتا حالات معمول پر نہیں آسکتے کشمیر کے حوالے سے جتنا کام ہم نے کیا ہے ہے اتنا کسی نے بھی نہیں کیا ، ایسا کوئی اقدام نہیں کریں گے جس سے کشمیر کاز کو کوئی نقصان پہنچے ۔ اسٹیٹ بنک معاملے پر آئی ایم ایف سے بات چیت چل رہی ہے پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بحث کی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان اتوار کے روز عوام سے براہ راست ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔عمران خان نے کہا کہ اکیلا کرپشن سے نہیں لڑسکتا عدلیہ سمیت پوری قوم کو ساتھ دینا ہو گا ،پاکستان میں قانون کی بالادستی کی جنگ لڑی جارہی ہے ، پاکستان پہلی بار سٹہ مافیا اور ذخیرہ اندوزوں پر ہا تھ ڈال رہا ہے ، کرپٹ لوگوں کو دعوتوں میں ایسے بلایا جاتا ہے جیسے انہوں نے کشمیر فتح کیا ہو، ملک پر سب سے بڑا عذاب قبضہ ما فیا ہے جس کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے ، تعلیمی معیار کی بہتری کیلئے ایچ ای سی کا نیا سربراہ لار ہے ہیں ،معیشت کی بہتری کی وجہ سے روپیہ مستحکم ہوا ، گھبرانے کی ضرورت نہیں مہنگائی کوقابو کرکے دکھائیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں گیس کے ذخائر کم ہورہے ہیں، 27 فیصد پاکستانیوں کو گھر پر گیس فراہم کی جاتی ہے۔ گیس نیٹ ورک کو بڑھایا جائے تو اسے موجودہ قیمت پر دینا مشکل ہوگا کیونکہ ہم گیس مہنگی خرید کر سستے میں عوام کو فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گیس نیٹ ورک کو بڑھانے سے گیس کے قرضوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ تعلیمی معیار کے حوالے سے ایک سوال ان کا کہنا تھا کہ انسان کو جتنی بہتر تعلیم دی جائے وہ اتنا اوپر جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمارتیں بنانے سے تعلیمی اداروں کا قیام نہیں ہوتا، وہاں پڑھانے والے اچھے ہوں تو تعلیم کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ اپنے نظریے کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا نیا سربراہ لا رہے ہیں اور اس ادارے میں بڑی تبدیلیاں کر رہے ہیں ۔ ایک خاتون نے عوام سے مہنگائی سے متعلق سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ کیا اب ہم گھبرالیں ؟ جس پر وزیر اعظم نے کہا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم 70 فیصد دالیں امپورٹ کررہے ہیں، ملک میں مڈل مین کی زیادہ منافع خوری کی وجہ سے مہنگائی ہے، ایسا نظام لارہے ہیں کہ کسان براہ راست منڈیوں تک چیزیں پہنچائیں، معیشت کی بہتری کی وجہ سے روپیہ بھی مستحکم ہوا ہے، گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہماری ساری توجہ صرف مہنگائی کنٹرول کرنے پر ہے، مہنگائی کی وجہ جاننے کے لئے کام ہورہا ہے اور ہم قابو کرکے دکھائیں گے۔ کابینہ میں مافیا کی موجودگی سے متعلق سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ لوگوں کی بہت امیدیں ہیں لیکن پرانے سسٹم کوبدلنے میں کافی وقت لگتاہے، ہماری حکومت میں نیب اورعدلیہ آزاد ہے جب کہ 95 فیصد کیسز ہم نے نہیں بنائے بلکہ یہ پرانے ہیں ، پچھلی حکومتیں نیب کوکنٹرول کرتی تھیں، پچھلی حکومت میں نیب بھی چوروں کوتحفظ دینے میں ملا ہوا تھا ، طاقتور پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں، بیوروکریسی کے پرانے لوگوں سے زیادہ تعلقات ہیں، ہم جمہوری طریقے سے آئے ہیں نظام کو بدلنے میں وقت لگے گا، میں جو کچھ بھی کررہا ہوں یہ ایک جہاد ہے اور صرف اللہ کے لئے کررہا ہوں۔ موجودہ مہنگائی کو زیادہ نہ سمجھیں، وینزویلا اور دیگرممالک کا حال دیکھیں، حقیقی تبدیلی کے لئے عوام کو تھوڑا صبر کرنا پڑے گا، ہماری معیشت اب ترقی کی جانب گامزن ہے۔ ۔کرپشن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرپشن ایک ایسا کینسر ہے جو دنیا کے ہر غریب ملک میں پھیلا ہے، حکمران جب کرپشن کرتے ہیں تو وہ اپنا پیسہ ملک میں نہیں رکھ سکتے اور پھر وہ پیسہ ملک سے باہر بھیج کر ملک کا دگنا نقصان پہنچاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق غریب ممالک سے ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر چوری ہوکر امیر ممالک میں جاتا ہے۔ ہم پورا زور لگارہے ہیں کہ امیر ممالک سے ہمارا پیسہ واپس آئے تاہم وہ اس میں رکاوٹ اس لیے ڈال رہے ہیں کیونکہ انہیں فائدہ ہورہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 'کرپشن کے خلاف صرف قانون کے ذریعے نہیں لڑا جاسکتا، پوری قوم مل کر کرپشن کا مقابلہ کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 'عمران خان اکیلا اس کرپشن سے نہیں لڑسکتا، عدلیہ کو بھی اس میں ساتھ دینا ہوتا ہے، نیب کو صحیح کیسز بنانے ہوتے ہیں ۔ نواز شریف کو کہہ رہے تھے شیورٹی بانڈ دو لیکن عدلیہ نے باہر بھیج دیا۔قانون بنانے سے کرپشن ختم نہیں ہوگی، ہم سب نے اس کے لئے کام کرنا ہے۔ عدالتیں ساتھ نہیں دیں گی تو کرپشن کے خلاف کیسے لڑ سکتے ہیں؟عمران خان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے یہاں کرپٹ لوگوں کو دعوتوں میں ایسے بلایا جاتا ہے جیسے انہوں نے کشمیر فتح کیا ہو، کرپٹ لوگ جیل سے یا نیب سے نکل رہے ہوتے ہیں تو لوگ ان پر پھول پھینک رہے ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی، عدل و انصاف اصل مسئلہ ہے اور پاکستان میں اسی کی جنگ چل رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں 60 سالوں سے سٹہ ہورہا ہے، اس سے عام عوام متاثر ہوتی ہے، ان کے خون چوس کر یہ لوگ پیسے بناتے تھے اور آج تک ان پر کسی نے ہاتھ نہیں ڈالا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ انہیں روکا گیا ہے، اس کا مقصد پاکستان کی عوام کو مہنگائی سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔وزیر اعظم نے ایک کالر کی کراچی میں پلاٹ کے لیے رقم ادا کرنے پر بھی پلاٹ نہ ملنے کی شکایت پر ان کی پریشانی کو حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے قبضہ مافیا عذاب بنا ہوا ہے،قبضہ مافیا بغیر پولیس اور سیاسی پشت پناہی کے بغیر کام نہیں کرسکتے، کئی اراکین اسمبلی اور سیاسی لوگوں نے بھی ملک میں قبضے کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام سے اپیل ہے کہ کسی بھی سرکاری زمین پر کسی گروپ نے قبضہ کیا ہے تو اس کی سٹیزن پورٹل پر نشاندہی کریں، ہم نے ان کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہاؤسنگ سوسائٹیز کا سروے کیا جارہا ہے، ملک میں قانونی سوسائٹیز بہت کم اور غیر قانونی بہت زیادہ ہیں۔ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ قانونی و غیر قانونی سوسائٹیز کی نشاندہی کرلی جائے پھر ہم ان کے خلاف بھی اقدامات اٹھائیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں وہی لوگ گھر بنا سکتے ہیں جن کے پاس پیسہ ہے، پاکستان میں صفر اعشاریہ 2 فیصد ہاوَسنگ فنانسنگ ہے، پہلی دفعہ حکومت نے تعمیراتی شعبے پر بھرپور توجہ دی ہے، ایف بی آر سے کنسٹرکشن شعبے کے لئے ٹیکس بھی کم کروائے ہیں۔ بینکوں کے صدورسے بات کی ہے کہ ہاوَسنگ فنانسنگ کوآسا ن بنائیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چھوٹے سے طبقے کو خون چوس کر پیسہ بنانے کی عادت پڑی ہوئی ہے، ہم جیسے لوگ کوشش کررہے ہیں کہ سب کو قانون کے نیچے لایا جائے، اربوں روپے کی چینی چوری کرنے والوں پر پھول پھینکے جارہے ہیں، جب کرپشن کرنے والوں پر پھول پھینکیں گے تو نیچے والے لوگ بھی پھر کرپشن کرتے ہیں۔ اصل چیز قانون کی عمل داری ہوتی ہے، پاکستان میں قانون کی بالادستی کی جنگ لڑی جارہی ہے، کچھ لوگ خود کو قانون سے برتر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت گرادو کیونکہ یہ این آر او نہیں دیتا۔ بھارت سے تجارت کرنے کے ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ بھارت جب تک 5اگست کے اقدامات کو واپس نہیں لیتا حالات معمول پر نہیں آسکتے کشمیر کے حوالے سے جتنا کام ہم نے کیا ہے ہے اتنا کسی نے بھی نہیں کیا ۔ ایسا کوئی اقدام نہیں کریں گے جس سے کشمیر کاز کو کوئی نقصان پہنچے۔