15

میری وفاداری کا امتحان لیا جا رہا ہے، دوست تھا دشمنی کی جانب کیوں دھکیل رہے ہیں، جہانگیر ترین

 لاہور (آئی این پی ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے  کہا ہے کہ میری  وفاداری کا امتحان لیا جا رہا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے، میں تو دوست تھا دشمنی کی جانب کیوں دھکیل رہے ہیں، سب شوگر ملز میں صرف جہانگیر ترین نظر آیا ہے،  میرے اور بیٹے کے اکانٹ منجمد کر دیے گئے ہیں، افسوس کا مقام ہے کہ ہم تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں، ظلم بڑھتا جا رہا ہے، جو بھی انتقامی کارروائی کر رہا ہے وقت آ گیا ہے اسے بے نقاب کیا جائے، عمران خان انتقامی کارروائی کرنے والوں کو بے نقاب کریں،میری راہیں تحریک انصاف سے جدا نہیں ہوئیں، 10 سال پی ٹی آئی کے لیے خون پسینہ ایک کیا ہے، تحریک انصاف میں شامل تھا اور شامل رہوں گا۔ بینکنگ کورٹ لاہور میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ مجھ پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جارہے ہیں، مجھ پر ایک یا 2 نہیں 3،3 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، ایک سال سے انکوائری چل رہی ہے، میں خاموش بیٹھا ہوں، ملک کی 80 شوگر ملوں میں سے انہیں صرف جہانگیر ترین نظر آیا،م میرے اور میرے بیٹے کے اکاونٹ منجمد کردیے گئے ہیں، اکاونٹ کیوں منجمد کیے، اس سے کیا فائدہ ہورہا ہے اور یہ کون کررہا ہے؟ میں پوچھتا ہوں آخر یہ انتقامی کارروائی کیوں ہورہی ہے، وجہ کیا ہے؟ کون لوگ ہیں جنھوں نے مجھے خان صاحب سے دور کردیا ہے۔ مجھے دور کرنے سے پی ٹی آئی کو زیادہ فائدہ نہیں ہوگا، جو بھی یہ سب کررہا ہے، وقت آگیا ہے انہیں بینقاب کیا جائے۔ آصف زرداری سے ملنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے راہیں جدا نہیں ہوئیں، 10 سال سے پارٹی کا حصہ ہوں ، میں تو دوست تھا، دشمنی کی طرف کیوں دھکیل رہے ہو،  میری وفاداری کا امتحان لیا جارہا ہے، ظلم بڑھتا جارہا ہے، ہم تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں۔بینکنگ کورٹ میں پیشی پر 3اراکین قومی اسمبلی، 9اراکین صوبائی اسمبلی اور تین مشیر جہانگیر خان ترین کے ہمراہ اظہار یکجہتی کے لیے آئے  ۔ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کا تعلق فیصل آباد، جھنگ، ملتان، مظفر گڑھ، لیہ، سرگودھا اور خوشاب سے ہے  ان میں  ایم این اے غلام بی بی بھروانہ، غلام احمد لالی، راجہ ریاض، صوبائی وزیر نعمان لنگڑیال بھی جہانگیرترین کے ساتھ تھے۔ اراکین صوبائی اسمبلی میں  زوار وڑائچ، نذیر بلوچ، اسلم بھروانہ، طاہر رندھاوا، چوہدری افتخار گوندل، غلام رسول سنگھا، سلمان نعیم اورٹکٹ ہولڈر جاد وڑائچ شامل تھے۔بینکنگ کورٹ میں پیشی پر  تین مشیر بھی جہانگیر خان ترین کے ہمراہ اظہار یکجہتی کے لیے آئے جن میں  مشیر عبدالحئی دستی، امیر محمد خان اور سابق مشیر خرم لغاری  شامل  تھے  تھے۔ادھربینکنگ کورٹ نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی ضمانت میں10 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے   ایف آئی اے کو گرفتاری سے روک دیا۔ بدھ کو   بینکنگ کورٹ نے شوگر ملز میں جعلی بینک اکاونٹس کے معاملے  پر کیس کی  سماعت کی  جس میں  جہانگیر ترین اور علی ترین عدالت میں پیش ہوئے ۔  شوگر ملز میں جعلی بینک اکاونٹس کے معاملے میں بینکنگ کورٹ نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری ضمانت میں 10 اپریل تک توسیع کر دی۔ عدالت نے ایف آئی اے کو گرفتاری سے روک دیا۔ عدالت پیشی کے دوران جہانگیر ترین اور علی ترین کے ہمراہ ارکان اسمبلی چوہدری افتخار گوندل ،اسلم بھروانہ، طاہر رندھاوا، امیر محمد خان، غلام بی بی بھروانہ ،راجہ ریاض، نعمان لنگڑیال، زوار وڑائچ ، نذیر بلوچ اور خرم لغاری بھی موجود تھے۔دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)نے جہانگیر ترین کی شوگر ملز اور دیگر اداروں کے تین اکاونٹس منجمد کردیئے۔ جبکہ جے ڈی ڈبلیو کے تین عہدیداروں کے نام بھی بلیک لسٹ پر ڈال دیے گئے، تینوں عہدیدار بیرون ملک سفر نہیں کرسکیں گے۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق جے ڈی ڈبلیو، ترین فارم سسٹم اور ترین ڈیری فارم کے 3اکائونٹس منجمد کرکے فارنزک آڈٹ کروایا جارہا ہے۔ مبینہ سٹہ بازی میں ملوث جے ڈی ڈبلیو کے دو ملازمین کے اکانٹ بھی فارنزک آڈٹ کے لیے منجمد کردیے گئے ہیں۔دونوں ملازمین مبینہ سٹہ باز خرم شہزاد کے ساتھ چینی کی قیمت پر سٹہ میں ملوث تھے۔اس سے پہلے آج رقوم کی غیر قانونی منتقلی کیس میں جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کی عبوری ضمانتوں میں 10اپریل تک توسیع کردی گئی ہے۔