77

نئی دہلی: گزشتہ برس فضائی آلودگی کی وجہ سے 54 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں گزشتہ برس فضائی آلودگی کی وجہ سے 54 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے جو دنیا بھر میں کسی بھی بڑے شہر میں ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔غیرملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گرین پیس ساتھ ایسٹ ایشیا اور سوئس فرم آئی کیوئر نے ہوا کے معیار کی جانچ میں زہریلے ذرات پی ایم 2.5 دریافت کیا جو 2.5 مائیکرو سے بھی کم قطر کے ہوتے ہیں اور یہ مہلک بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں جن میں کینسر اور امراض قلب شامل ہیں۔تحقیق کے مطابق گزشتہ برس انہوں نے لوگوں کو کورونا وائرس کے انفیکشن کا زیادہ خطرہ بتایا۔دہلی میں نومبر میں ذرات پی ایم 2.5 کی سطح پر ریکارڈ کیے گئے جو عالمی ادارہ صحت )ڈبلیو ایچ او( کی حد سے 30 گنا زیادہ تھا۔گزشتہ برس ہونے والی اموات کی تعداد کا 2019 میں ہونے والی اموات کے ساتھ موازنہ نہیں کیا گیا۔تاہم بھارت میں 2019 میں فضائی آلودگی کے باعث مجموعی طور 16 لاکھ 70 ہزار افراد موت کا شکار ہوئے تھے۔گرین پیس انڈیا کے آب و ہوا سے متعلق مہم چلانے والے اویناش چھانچل نے رپورٹ میں کہا کہ آلودہ ہوا کینسر اور فالج کی وجہ سے اموات کا امکان بڑھاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آلودہ فضا دمہ کے مرض میں اضافہ اور کووڈ19کی علامات میں شدت پیدا کرتی ہے۔گزشتہ برس کے شروع میں دہلی میں آلودگی تقریبا ختم ہوگئی تھی جب حکومت نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے ملک گیر لاک ڈان لگایا تھا لیکن اگست کے آخر میں حکومت نے پابندیاں ختم کرنا شروع کردی تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2020 میں دہلی کی سالانہ 2.5 پی ایم اوسط ریڈنگ ڈبلیو ایچ او کی معین کردہ حد سے تقریبا 6 گنا زیادہ ہے۔اس رپورٹ کے مطابق 2020 میں آلودگی کی وجہ سے بھارت کے مالی مرکز ممبئی میں تقریبا 25 ہزار افراد قبل از وقت موت کا شکار ہوئے۔رپورٹ میں بھارت سمیت دنیا بھر کے بڑے شہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ قابل تجدید توانائی تیزی سے متعارف کرائی جائے۔