57

نئی کشمکش کیا رنگ لائے گی؟


امریکہ اور چین کے درمیان سرد جنگ اب ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہے۔ جن  معاملات میں دونوں ملکوں نے کشیدگی کے میدان سجائے ہیں ان میں ایک تو ہانگ کانگ کی امتیازی حیثیت ہے اور دوسرا کووِڈکا مسئلہ ہے۔ماہرین کا ایک حصہ کہتا ہے کہ ہانگ کانگ کا مسئلہ چین کا اندرونی معاملہ ہے جبکہ ماہرین کے دوسرے حصے کا خیال ہے کہ ہانگ کانگ ایک معاہدے کے نتیجے میں چین کے حوالے ہوا تھا جس کی پاسداری کرنا چین کی ذمہ داری ہے۔لیکن موجودہ حالات میں دکھائی دے رہا ہے کہ ہانگ کانگ اپنی حیثیت میں ایک مسئلے کی بجائے اب عالمی طاقتوں کے درمیان نئی سرد جنگ کا ایک مہرہ بن گیا ہے۔اسی طرح کووِڈکو ایک انسانی اور سائنسی معاملہ سمجھا جانا چاہیے تھا اور ابتدائی دور میں سمجھا بھی گیا لیکن اب یہ معاملہ بھی چین اور امریکہ کے درمیان جنگ کے نئے مہرے کے طور پر استعمال ہوتا نظر آرہا ہے۔روڈاینڈبیلٹ منصوبہ چین کی خارجہ پالیسی میں اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔یہ تبدیلی ڈنگ ژیا  پنگ کی پالیسی کے علی الرغم بائیڈاینڈ ہائیڈحالیہ چینی قیادت کی پرعزم کوششوں کی غمازہے۔بی آرآئی کے عظیم منصوبے کااہم نقطہ معاشی اور سفارتی راہیں کھولتے ہوئے رابطے استوارکرناہے تاکہ منصوبے میں شریک ملکوں اورچین کے درمیان تجارتی اورمعاشی تعلقات مضبوط بنائے جا سکیں۔روڈاینڈبیلٹ منصوبے کے تحت متعدد بری اور سمندری منصوبے ایک ساتھ مکمل ہورہے ہیں۔زمینی منصوبوں میں سڑکیں، ریلوے اورپائپ لائنیں شامل ہیں،جبکہ سمندری منصوبوں میں بندرگاہ اورساحلی علاقوں میں ترقیاتی کام شامل ہیں۔چین کے جنوبی علاقوں کاخطے کے جنوبی ممالک سے تعاون،منصوبے میں شامل دوسرے ملکوں اوربیجنگ کویکساں طورپرپائیدارترقی سے بہرمند ہونے کے یقینی مواقع فراہم کرتاہے۔حالیہ چندبرسوں کے دوران چین نے مشرق وسطی کے ملکوں کے ساتھ معاشی اورسفارتی بات چیت کوبڑی حدتک فروغ دیاہے۔ بڑے حصے کے طورپر چین نے مشرق وسطی میں توانائی،انفراسٹرکچر،تعمیرات،زراعت اورفنانس کے شعبوں پرتوجہ مرکوز رکھی ہے۔اپنے محل وقوع کی وجہ سے مشرق وسطی روڈاینڈبیلٹ کیلئے اہم ہے۔یہ تین براعظموں ایشیا،افریقااوریورپ سمیت پانچ سمندروں بحیرہ روم،بحیرہ کیسپین،بحیرہ احمر،بحیرہ عرب،بحرالکاہل،بحیرہ اسودکے سنگم پرواقع ہے۔مزیدبرآں یہ خطہ آبنائے باسفورس، باب المندب،تنگنائے ہرمزاورڈارڈینلز جیسے اہم بحری راستوں کوبھی ملاتاہے۔چین نے رواں برس کے اوائل میں روڈاینڈ بیلٹ پروگرام کے تحت دوسوسے زائدشراکت کاری کے منصوبوں پردستخط کیے۔ شریک ملکوں کی جانب سے رسمی استقبال سے بڑھ کربی آرآئی میں دکھائی جانے والی دلچسپی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ منصوبہ ان کیلئے تیزرفتارمعاشی ترقی کے متنوع مواقع فراہم کرتاہے۔چین تعمیری شراکت کاری کے ذریعے سیاسی مداخلت سے گریزاورعملیت پسندی کی پالیسی پرعمل پیراہے۔ سعودی عرب اورایران کے درمیان جاری تنازع میں چین کی متوازن پالیسی اس کی عملی مثال ہے۔مغربی دنیااب تک فوجی مداخلت کی مدد سے جمہوری عمل کوخطرات کم کرنے کاذریعہ سمجھتی رہی ہے جبکہ چین کاروڈ اینڈ بیلٹ پروگرام علاقائی سکیورٹی اورہمہ جہت ترقی کاایک نیا نمونہ پیش کرتاہے۔مشرق وسطی کی ریاستیں،ان کی بندرگاہیں اورصنعتی پارکس چین کے ساتھ تعاون میں پیش پیش رہے ہیں۔متحدہ عرب امارات کی خلیفہ بندرگاہ، عمان کی دقم بندرگاہ،سعودی عرب کی جازان بندرگاہ اورمصرکی بندرگاہ سیداس تعاون کی عملی مثالیں پیش کررہی ہیں۔تعمیرات کے ضمن میں چینی کمپنیاں قطر کے شہرلوسیل میں کھیلوں کے اسٹیڈیم اورسعودی عرب کے اندرتیزرفتارحرمین ریلوے کے ضخیم منصوبے پرکام کررہی ہیں۔ جنگ سے تباہ حال افغانستان،عراق اورشام میں بحالی کے کاموں میں چینی کاروباری ادارے امکانی طورپراہم کردارکرسکتے ہیں۔حالیہ برسوں کے دوران چین اورمشرق وسطی کے ملکوں کے درمیان تجارت میں خاطرخواہ اضافہ ہواہے۔گزشتہ سال کے درمیان صرف تجارت کاحجم ستتر فیصدرہاہے۔یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ توانائی کاشعبہ خطے کے ساتھ چینی تعلقات کی ترویج میں بنیادی اہمیت کاحامل ہے۔ گزشتہ سات سال کی مدت کے دوران پچھہتر ارب ڈالرمالیت کی چینی سرمایہ کاری توانائی کے شعبوں میں رہی ہے۔یہ چین کی کل سرمایہ کاری کے چھپن فیصدکے مساوی تھا۔انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی پیش گوئی،کہ چین2035 تک مشرق وسطی سے تیل درآمدات کودوگناکرے گا،کودیکھتے ہوئے اس رحجان کے جاری رہنے کی امید ہے۔ادھرچینی حکومت نے ملک کے سب سے بڑے فیصلہ سازادارے چینی کیمونسٹ پارٹی میںون روڈون بیلٹ کی تکمیل کیلئے ترجیحی پلان کااعلان کرتے ہوئے حال ہی میں کئی بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے متعلقہ کمیٹی کے سارے اختیارات چینی صدرکوسونپ دیئے ہیں جنہوں نے فیصلہ کن تبدیلیوں کے ساتھ اپنی ساری توجہ اس پراجیکٹ کی طرف مبذول کررکھی ہے جس کی تکمیل سے یقینادنیامیں جہاں معاشی انقلاب آئے گاوہاں اقوام عالم کی ساٹھ فیصدتجارتی منڈیوں میں چین کی اجارہ داری ہوجائے گی۔چین نے اب تک اپنے تجارتی رویے سے یہ ثابت کیاہے کہ وہ ملکوں کے داخلی معاملات میں قطعا مداخلت کرنے کاخواہاں نہیں ہوتااورنہ ہی اپنے مفادکیلئے اپنے ہی دوست ممالک کی قربانی دیتے ہوئے آنکھیں پھیرلینا اس کی سرشت میں شامل ہے۔چین کی تجارتی پالیسی جس نے اعتبارکے لحاظ سے اسے اہم مقام دیاہے،وہ اپنے تجارتی شراکت داروں کے معاشی تحفظات کی ریاستی ضمانت ہے جس کی بناپرون روڈون بیلٹ میں یورپی ممالک کی بھرپورشرکت کویقینی بنایاگیاہے اوریہی رویہ اس کا اپنے سب سے بڑے پارٹنرامریکاکے ساتھ بھی رہاہے لیکن امریکی سابقہ صدرٹرمپ نے چین کی بڑھتی ہوئی معاشی ترقی پرقدغن لگانے کیلئے کبھی ٹیرف کامسئلہ کھڑاکیااورکبھی اپنی شرائط پرچینی مصنوعات کاراستہ روکنے کیلئے بارٹرتجارت کیلئے دبائو ڈالا۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں جاری سی پیک منصوبے کونقصان پہنچانے کیلئے پاکستان پرعالمی مالیاتی اداروں اوراپنے اتحادیوں کے ذریعے دبائو میں اضافہ بڑھایالیکن پاکستان کی طرف سے فوری جواب نہ ملنے کی صورت میں مودی کوگودلیتے ہوئے براہ راست بھارتی دہشتگردی پراپنی آنکھیں بندکررکھی ہیں جبکہ پاکستان نے امریکی دبائو کے باوجود افغانستان سے امریکی انخلا کیلئے تاریخی کردار ادا کیاہے۔بیجنگ اورایران کے درمیان معاہدہ،چین کی تازہ ترین حالیہ سرمایہ کاری ہے۔چارسوارب ڈالرمالیت کے معاہدے میں توانائی،انفرا سٹرکچر،دفاعی تعاون ،انٹیلی جنس کے تبادلے اورچین کوسستے داموں ایرانی تیل کی فراہمی جیسے منصوبے شامل ہیں۔اس بات کا ذکرضروری معلوم ہوتاہے کہ روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے میں ایران کی شمولیت مشرق وسطی میں امریکی نفوذکوگزند پہنچائے گی، جس پرواشنگٹن کی جانب سے شدیدردعمل کاامکان ظاہرکیاجارہا ہے۔ سیزرایکٹ کی شکل میں عایدکردہ امریکی پابندیوں سے کسی بھی ملک کے شامی رجیم سے معاملات کی راہیں پہلے ہی مسدودکی جاچکی ہیں۔اس طرح شامی وزارت مواصلات اورچین کی ہواوے کمپنی کے درمیان طے پانے والامعاہدہ متاثرہونے کاامکان ہے۔حالیہ دنوں میں جاری کووڈ انیس کی عالمی وبانے چین اورمشرق وسطی کے ملکوں کے درمیان باہمی یکجہتی کے اظہارکاموقع فراہم کیاہے۔خلیجی ممالک کی طرف سے چین کوبھیجی جانے والی میڈیکل سپلائزکے جواب میں بیجنگ نے مشرق وسطی میں کورونا وائرس کے پھیلائو کے وقت ایسی ہی فراخدلانہ امداد کے ذریعے حساب برابرکردیا۔تیل کی قیمت میں مسلسل کمی کے جلومیں معاشی گراف میں تنزلی سے خطے میں بی آرآئی کے منصوبے زیادہ دیرتاخیرکاشکار ہوسکتے ہیں۔