39

نعمت اللہ شاہ ولی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

تجسس کھوج مختلف چیزوں کے بارے میں جاننا اور کل کیا ہو گا 'آنے والے دور میں کونسے واقعات کب کس طرح ظہور پذیر ہو نگے 'کس کو عروج کس کو زوال کب کیسے ہو گا فتح کی دیوی کس کے سر پر بیٹھے گی ناکامی کے گمنام اندھیروں میں کون کس طرح غرق ہوگا ' مستقبل کے موٹے پردے کے اُس پار کیا ہو گا یہ وہ سوالات ہیں جو انسان کی جبلت میں شامل ہیں انسان اِن کے جواب جاننے کے لیے پراسرار علوم کی طرف راغب ہو تا ہے یا پھر اُن فطری روحانی لوگوں کی طرف رجوع کر تا ہے جو قدرتی طور پر مستقبل کے پردوں سے آنے والے روشنی سے اندازہ لگاتے ہیں کہ کل کیا ہو گا یہ شوق تجسس ہر دور کے انسان کا رہا ہے اِس کی وجہ فطری میلان ہو نے کے ساتھ ہر دور میں ایسے نابغہ روزگار عبقری انسان رہے ہیں جن کو حق تعالیٰ بصیرت علم کا نور اور مستقبل میں جھانکنے کی آنکھ عطا کرتا ہے یا ایسے انسان کے قلب و روح پر آنے والے دور کی انفارمیشن بر سات کی طرح برستی ہے 'اولیا ء کرام ایسے خاص بندے ہیں جن کو حق تعالیٰ روشن ضمیری کے ساتھ مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت عطا کر تا ہے اور پھر ایسے نادر نایاب خدا کے چنے ہو ئے بندے خدا کے عطا کر دہ نور سے آنے والے حالات کے بارے میں دیکھ کر بتاتے ہیں جو وقت آنے پر حرف بحرف سچ ثابت ہو تے ہیں برصغیر پاک و ہند کی سر زمین پر ایسے عبقری اولیاء اللہ مختلف ادوار میں بزم جہاں میں آکر اپنی اِس صلاحیت سے اہل دنیا کو حیران کر تے آئے ہیں ایسے اولیاء اللہ میں نعمت اللہ شاہ ولی   تھے جنہیں خالق کائنات نے مستقبل میں جھانکنے کی غیر معمولی صلاحیت عطا کی تھی کہ ان پر جب خاص کیفیت یا حال طاری ہوتا تو اُن کے حجابات اٹھ جاتے پھر اُن کو آنے والے واقعات وقت جگہ اور ناموں کے ساتھ دکھا دئیے جاتے اتنی شاندار ایکو ریسی موجودہ دور کے انسان کو حیرتوں میں گم کر دیتی ہے مغلیہ خاندان کے بارے میں نو سو سال پہلے آپ پیشن گوئی کر تے ہیں کہ ہمایوں بادشاہ کے بعد اُس کا بیٹا اکبر عظیم بادشاہ کے طور پر ظاہر ہو گا جس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ پچاس سال کامیابی سے حکومت کی دین الٰہی ایجاد کیا جس کا خاتمہ حضرت مجدد الف ثانی   نے کیا نعمت اللہ شاہ  آگے اپنے اشعار میںواضح فرماتے ہیں کہ اکبر کے بعد جہانگیر بادشاہ پھر اُس کا بیٹا شاہ جہاں ہو گا جو بہت بلند مرتبے کو پہنچے گا پھر نعمت اللہ شاہ صاحب  آنے والے باقی مغل بادشاہوں کے نام بتاتے ہیں قاری اُس وقت ششدرہ جاتا ہے جب آپ  فرماتے ہیں کہ نادر شاہ ایران سے آئے گا ہندوستان پرقبضہ کر لے گا اگلی بات حیران کن یہ کہ وہ دہلی میں خوفناک قتل عام کر کے اہل دہلی پر قیامت ڈھائے گا مغلوں کے دور حکومت کے ساتھ ہی نعمت اللہ شاہ صاحب  فرماتے ہیں اِسی دوران ایک اللہ کا فقیر جس کا نام نانک ہو گا جو بہت بڑا فقیر بزرگ ہو گا اہل دنیا اُس کی طرف بہت زیادہ تعداد میں رجوع کریں گے یہاں پر نعمت اللہ شاہ   یہ فرماتے ہیں کہ یہ بزرگ پنجاب کے علاقے میں نمودار ہو نگے جو قوم اِ ن کی مرید ہو گی وہ سکھ کہلائیں گے وہ بزرگ ایک نئے دین کی بنیاد رکھے گا ساتھ ہی فرماتے ہیں یہ سکھ قوم مسلمانوں پر بہت زیادہ ظلم ڈھائے گی یہ بات بھی آپ کی مکمل طور پر سچ ثابت ہوئی آپ فرماتے ہیں مغلوں کی حکومت ہندوستان پر تین سو سال تک قائم رہے گی پھر اُن کی ایسی پیشن گوئی کہ سر چکرا کر رہ جاتا ہے آپ  فرماتے ہیں مغلوں کی حکومت تین سو سال کے بعد ختم ہو جائے گی اُن کی عیاشیوں کی بدولت پھر آسمان سے اِن کے زوال کا حکم آئے گا اور وہ اِس طرح ہندوستان سے غائب ہو جائیں گے جس طرح اصحاب کہف غار میں غائب ہو گئے تھے جس وقت مغل خاندان ہندوستان پر جاہ و حشمت سے حکومت کر رہا تھا کوئی سوچ بھی نہیںسکتا تھا کہ اس عظیم تیموری خاندان کو کبھی زوال بھی ہو گا پھر تاجروں کے روپ میں انگریزوں نے ہندوستان میں آکر مغل سلطنت کا خاتمہ کر کے ہندوستان پر حکومت شروع کی تو جنگ آزادی کے بعد مغل شہزادے شہزادیاں جو ریشم میں پلے تھے لوگوں نے اُن کو گلیوں میں بھیک مانگتے دیکھا ' انگریزوں سے چھپ کر زندگی کسمپرسی میں گزارتے رہے ' نعمت اللہ شاہ  مزید انگریزوں کے بارے میں اسطرح فرماتے ہیں کہ مغل حکمران راج مہاراج شراب کباب شباب میں مست ہونگے انگریز تاجروں کے روپ میں ہندوستان آکر قابض ہو جائیں گے پھر آپ   آگے مزید فرماتے ہیں صدیوں سے عظیم مسلمانوں کی سلطنت مسلمانوں کے ہاتھوں سے چھن جائے گی اور مہمان بن کر آنے والے اپنی حکومت قائم کر کے اپنا سکہ جاری کر کے مسلمانوں کو ماضی کا قصہ بنادیں گے آپ بات یہاں ختم نہیں کر تے بلکہ مزید فرماتے ہندوستان پر عیسائی قابض ہو کر اپنی حکومت کو مضبوط کر کے پھر مسلمانوں کو مختلف بہانوں سازشوں سے پکڑ کر اندر کر نا شروع کر یں گے یہ وقت مسلمانوں پر بہت بھاری ہو گا لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر دیا جائے گا خواتین کی آبرو ریزی کی جائے گی دینی مدارس بند کر دئیے گئے علما دانشوروں کو زندہ جلا دیا گیا آزادی پسندوں کو توپوں کے آگے باندھ کر اڑا دیا جاتا تھا اسلامی قوانین کے پرزے پرزے کر دئیے جاتے آخری مغل بادشاہ کو جلا وطن کر کے رنگون بھیج دیا جاتا ہے یہاں سے آگے کے اشعار میں فرماتے ہیں اِس کے بعد عیسائی پورے ہندوستان پر قابض ہو جائیں گے پھر اِن کی حکومت سو سال تک قائم رہے گی اور اہل اسلام بلخ بخارہ سندھ اور ہندوستان میں لاچار حیران رہ جائیں گے یہاں پر ہزار سال بعد عیسائی قبضہ کر کے حکومت شروع کر دیں گے ہندوستان اسلام کے بجائے دارلکفر بن جائے گا مسلمانوں کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہو گا کہ یہاں پر رہیں یا ہجرت کر جائیں پھر اِن حالات میں لاکھوں مسلمان افغانستان کی طرف ہجرت کر تے ہیں لیکن افغانستان لاکھوں لوگوں کو دیکھ کر اپنی سرحد بند کر دیتا ہے مسلمان برباد ذلیل ہو کر رہ جاتے ہیں ہندوستان میں مسلمانوں کے زوال کے ساتھ دوسری طرف سلطنت عثمانیہ بھی بر بادی کے عمل سے گزرتی ہے ثمر قند بخارہ تا شقند جیسے عظیم مسلمان ملک روسی غلامی میں چلے جاتے ہیں پورے عالم اسلام پر مایوسی کفر کا اندھیرا پھیل جاتا ہے آپ  مزید فرماتے ہیں سکولوں درس گاہوں میں انگریزی علوم پڑھائے جائیں گے مسلمان فقہ و تفسیر سے غافل ہو جائیں گے انگریزوں نے یہی کیا مسلمانوں کے علوم کو مسترد کر تے ہوئے کہا پڑھا لکھا شخص وہی مانا جائے گا جو انگریزی جانتا ہو گا وہ دانشور علما کرام جنہوں نے بیس بیس سال لگا کر علم حدیث فقہ تفسیر کو پڑھا  تھا وہ جاہل قرار پائے انگریزوں نے نو کریوں کے دروازے بند کر دئیے صرف انہیں کو نوکری دی جاتی جو انگریزی جانتے لارڈ میکالے نے انگریزی نصاب ہندوستان پر رائج کر کے اسلامی علوم کو دفن کر دیا نعمت اللہ شاہ صاحب  آگے ہندوستان سے باہر اقوام عالم کے بارے میں حیران کن پیشن گوئی فرماتے ہیں کہ قدرت نے انہیں کیا صلاحیت عطا کی تھی آپ  کہتے ہیں پھر روس اور جاپان کے درمیان خوفناک جنگ ہوگی آپ  جنگ وقوع پذیر ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ روس جاپان کی جنگ آخر کار اِس جنگ میں جاپان کو فتح نصیب ہو گی ۔ ( جاری ہے )