41

نیا سال، نئے عزائم اور نئی توقعات

آصف جلیل احمد

شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے ماہ جنوری 2021 کی شروعات ہوچکی ہے  اس موقع پر نوجوان طبقہ کچھ زیادہ ہی پرجوش نظر آتا ہے۔ کہیں کارڈوں کے تبادلے کئے جاتے ہیں، کہیں فون وغیرہ کے ذریعہ مبارک بادیاں دی جاتی ہیں ، کہیں نئے سال کے موقع پر پر تکلف جشن منایا جاتا ہے۔فی الحال غیر مسلموں نے بڑے زور و شور سے اس کو منانے کی تیاری کی لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے کے اکثر نوجوان ان غیر مسلموں سے پیچھے نہیں ہے۔ اب سوچیں ذہن کو نوچ رہی ہیں کہ غیر مسلموں اورمسلمانوں میں کیا فرق ہے جو یہ نیا سال منانے کے لیے مسلمان ہونے کے تقاضے بھی بھول گئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کبھی کسی غیر مسلم کو مسلمانوں کے تہوار اس جوش و جذبہ سے مناتے دیکھا گیا ہے؟ نئے سال میں ہرکوئی جشن کا ماحول بناتا ہے  ۔ساری دنیا میں لوگ اس موقع کو اپنے اپنے انداز سے منانے کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں۔۔ مہینے بھر کی کمائی کو دوسرے شہروں میں جا کر اڑانے کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔۔۔ ذرا سوچیں تو صحیح کہ سال 2020 مکمل غم کا سال رہا۔ وبائی مرض، لاک ڈائون، اموات کی کثرت، سے اقوام عالم دہل سا گیا۔ ایسے میں نئے سال کا جشن منانے کے بجائے نئے ارادے اور پختہ عزائم کے ساتھ سال بھر کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے تھی۔سال2020 رخصت ہوچکا ہے چونکہ دن رات کے بدلنے کی نشانیاں عقل مندوں کے لئے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ آنے والے سال خواہ وہ عیسوی یا قمری ان کے بارے میں تھوڑا وقت نکال کر سوچ لیا جائے کیونکہ انسان ابھی حالات سے مایوس نہیں ہوا۔ ہر آنے والا سال امیدیں اور توقعات لے کر آتا ہے اور انسان کے عزم کو پھر سے جوان کرتا ہے کہ جو کام پچھلے سال ادھورے رہ گئے انہیں اس سال مکمل کر لینا ہے۔سال شروع ہوتے ہی نجومی بھی ستاروں کی بساط بچھا کر آنے والے سال کے حالات بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ افراد کی طرح اقوام کی زندگی میں بھی نیا سال ایک خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ قوموں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ گذشتہ غلطیوں سے سبق سیکھ کر آنے والے سال میں بہتر طریقے سے کام کیا جائے۔۔ ان کو یہ تو معلوم ہے کہ 2021 شروع ہو گیا ہے اور2020 ختم ہونے چکا ہے مگر ایسے مسلمانوں سے پوچھاجائے کہ ان کو معلوم ہے کہ یہ کونسا ہجری سال ہے تو اکثر لوگوں کا جواب معذرت ہی ہوگا۔سال ِنو کے استقبال اور اظہار مسرت کی خوشی منانے کے معتدل، سنجیدہ اور مہذب طریقے پر بات کرنے سے قبل خود اس بات پر ایک سوالیہ نشان ہے کہ آیا یہ اس قدر خوشی منانے کا موقع ہے بھی یا نہیں؟ آخر ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ رات 11:59 PM سے 12:00 AM کے درمیان صرف ایک سیکنڈ کا فاصلہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس ایک ساعت میں دنیا میں کون سی ایسی عجیب تبدیلی واقع ہو جاتی ہے کہ ہم اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں اور عجیب و غریب غیر سنجیدہ حرکات پر اتر آتے ہیں۔۔۔۔؟ چلئے ہم کچھ دیر کے لئے مان لیتے ہیں کہ نئے سال کی آمد ایک خوشی کا موقع ہے۔ اس کے باوجود ذہن میں ایک اور سوال انگڑائی لیتا ہے کہ آیا ہماری مذہبی تعلیمات، پاکیزہ روایات اور صاف ستھرا تمدن اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم نئے سال کا اس انداز میں استقبال کریں؟ یقینا جواب نفی میں ہوگا۔ یہ طرز عمل ہماری تعلیمات اور روایات سے ذرا برابر میل نہیں کھاتا۔ہماری دینی تعلیمات اور اسلاف کی زندگیاں تو یہ بتاتی ہیں کہ کسی بھی کام کے آغاز میں اپنے خالق حقیقی کو یاد کرنا چاہئے۔ بحیثیت انسان اپنے معاشرتی، اخلاقی اور دینی فرائض کی تن دہی اور دیانت داری سے ادائیگی کا مخلصانہ عزم کرنا چاہئے۔ سال نو کی ابتدا میں مالکِ حقیقی کے سامنے سر بسجود شب گزاری، انسانوں کی بھلائی اور فلاح کی جانب ہماری توجہ کیوں نہیں جاتی؟ ہم یہاں یہ نیک فال کیوں نہیں لیتے کہ چلو سال کا پہلا دن ہے کوئی اچھا عمل کر لیتے ہیں تاکہ سال بھر اس کی توفیق ملتی رہے۔ایک یہ بھی اصول ہے جو ہر وقت ملحوظِ نظر رہنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ ہم اپنے تمدن اور تہذیبی اقدار کو تعلیمات اسلام کی چھلنی سے چھان کر اپنائیں۔ جب ہماری ثقافت ہمارے دین کی ارفع تعلیمات و ہدایات سے متصادم نہ ہو تو اس کے اپنانے میں بظاہر کوئی مانع نہ ہونا چاہئے۔ رہا مسئلہ مغربی تمدن اور اجنبی ثقافت کی اندھی تقلید کا، یہ افسوسناک ہے۔ اس کا بڑا اور بنیادی سبب ہمارے اندر پایا جانے والا احساس کمتری ہے۔ انگریز برصغیر پر ایک طویل عرصہ حکمرانی کے بعد واپس انگلستان سدھار گیا مگر یہاں کے باشندوں پر اس کا فکری رعب تاحال قائم ہے۔ اپنے خالص اور صاف ستھرے تمدن کے بارے میں معذرت خواہانہ رویہ اور مغربی انداز ِزیست کو قابل فخر سمجھنا دراصل اسی فکری بیماری کا نتیجہ ہے ،جسے اہل دردِ نے خوئے غلامی کہا ہے۔ مغربی کلچر کی بالادستی اور اس کے رجحان میں تیز رفتار اضافے کا ایک اور بڑا سبب ہمارا میڈیا ہے۔ میڈیا بالخصوص اس مہم میں سرگرم ہے۔ اور ہم سادہ لوح عوام ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھ کر اس کے پیچھے سرپٹ بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔مختلف تہذیبوں اور تقافتوں کے اثرات اور ان کا باہم تصادم یہ ایک مستقل موضوع ہے۔ جہاں تک سال نو کی تقریبات کا تعلق ہے تو اس بابت ہمارا طرزعمل نظر ثانی کا متقاضی ہے۔ نیا سال خواہ وہ قمری ہو یا شمسی ہو اس کی ابتدا ذاتی محاسبے سے کرنا چاہئے۔ ہم میں سے ہر شخص مختلف قسم کی گھریلو، خاندانی، معاشرتی، سماجی اور مذہبی ذمہ داریوں کا حامل ہے۔ ہر شخص کی ذات سے دوسرے بہت سے افراد کے حقوق متعلق ہوتے ہیں۔ سال بیت جانے پر اور نئے سال کے شروع میں ہمیں مذکورہ بالا ہلڑبازی کے مظاہرے کرنے کی بجائے اپنے آپ کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں اور حقوق کی ادائیگی کے حوالے سے سال بھر کی کاکردگی کا جائزہ لینا چاہئے۔ کسی بھی کام کی ابتدا اچھی ہو تو پورا کام بہتر انداز میں انجام پذیر ہوجاتا ہے۔ ہم زندگی کے جس شعبے سے بھی وابستہ ہوں ،ہمیں چاہئے کہ نئے سال کی ابتدا ایک ولولے اور جوش کے ساتھ کریں۔ اپنی جانب تفویض کردہ ذمہ داریوں کو حد درجہ دیانت داری سے انجام دیں۔ سال بھر سستی اور کاہلی سے بچنے کا عزمِ صمیم کریں۔ معاشرے میں بسنے والے ہر فرد جو کسی بھی نسبت سے ہم سے متعلق ہوکے حقوق کا خیال رکھیں۔ اس انداز میں ہم اپنے سال کی ابتدا کر کے مثبت اور تعمیری نتائج کی امید رکھ سکتے ہیں۔آئیے ہم عزم کریں کہ سال ِنو میں نیکی، بھلائی اور فلاح کے کاموں سے کریں گے۔ مغرب کی طرز زندگی اور ان کی تہذیب کا مکمل بائیکاٹ کر کے ایک بامقصد زندگی گزارنے والے انسان اور اپنی دینی اور قومی روایات سے محبت کرنے والے مسلمان کی طرح نیا گزاریں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ سال کی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی تلافی کا پختہ ارادہ بھی کریں گے۔