68

نیٹکوکو منافع بخش ادارہ بنانے کا عزم


وزیر اعلی گلگت  بلتستان خالد خورشید نے کہاہے کہ نیٹکوکو ایک منافع بخش ادارہ بنائیں گے۔ بینکوں سے لئے ہوئے تمام قرضے مرحلہ وار ادا کئے جائیں گے۔وزیراعلی نے ایم ڈی نیٹکو کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی حکمت عملی بنائیں جس سے نیٹکو کے تمام خسارے ختم کئے جائیں اور اس ادارے کو منافع بخش بنایا جائے۔ ٹرانسپورٹ اور کارگو کے نظام کوجدید طرز کے مطابق بنایا جائے ۔ ملازمین کے مسائل کے حل کے لئے  اصلاحات کی جائیں تاکہ ملازمین کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔ نیٹکو سے سیاسی مداخلت کا مکمل خاتمہ کیا ہے میرٹ پر کام کریں اور ادارے کی بہتری کیلئے فیصلے کریں۔ ادارے کے خسارے کو کم کرنے اور بہتر ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کیلئے اہداف کا تعین کریں اور ان اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں۔ خسارے کو کم کرنے کیلئے نئے روٹس تلاش کئے جائیں۔ نیٹکو کی بہتری اور خسارے کے خاتمے کیلئے حکومت تعاون کرے گی۔ ملازمین کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے واضح پالیسی تیار کریں۔  نیٹکو کو منافع بخش ادارہ بنانے کا عزم خوش آئند ہے کون نہیں جانتا کہ ہمارے ہاں خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کر دی جاتی ہے ان کی اصلاح کو یقینی نہیں بنایا جاتا نجی شعبے کو فروخت کیے جانے والے یہی ادارے بعد ازاں منافع بخش بن جاتے ہیں سوال یہ ہے کہ سرکاری ادارے ہی کیوں خسارے میں جاتے ہیں؟جب نجی شعبہ انہیں منافع بخش بنا لیتا ہے تو سرکار کیوں نہیں؟ہم دیکھتے ہیں کہ پی آئی اے، پاکستان سٹیل اور ریلوے جیسے مستحکم ادارے گزشتہ تین دہائیوں سے خسارے میں ہیں۔ یہ ہر سال چالیس پچاس ارب سے زائد کھا رہے ہیں، ان کو بحال کر کے نفع بخش بنانے کی ہر کوشش مزید خسارہ دے کر ناکام رہی ہے۔  سب سے برا حال پاکستان سٹیل کا ہے، جہاں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے اپنے ورکروں کو ہزاروں کی تعداد میں بھرتی کیا، ان چہیتوں نے خود کام کیا، نہ ہی کام کرنے والے ہنرمندوں کو کرنے دیا۔ یونین بازی اور حقوق کے مطالبات نے فرائض ادا کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔ سیاسی طور پر اعلی انتظامیہ بھی جب اہلیت کی بجائے تعلق کی بنیاد پر بٹھائی جائے تو پھر ادارے تباہی کی طرف ہی جاتے ہیں، اور اس کی مثال پاکستان میں ہی مل سکتی ہے۔ تیس سال پہلے نجکاری کو صنعتی ترقی کیلئے ناگزیر قرار دیا گیا اور اس کی آڑ میں منافع کمانے والے کئی ادارے فروخت کر دئیے گئے، جن میں پی ٹی سی ایل سرفہرست ہے، جبکہ خسارے میں چلنے والے ادارے خریدنے کو کوئی تیار نہیں ہوا، اس کی وجہ غیر ضروری ملازمین کا بوجھ ہے، جن کی اکثریت غیر تربیت یافتہ ہے، اس بوجھ کے ساتھ کوئی بھی یہ ادارے لینے کو تیار نہیں۔ موجودہ حکومت نے پی آئی اے کو بحال کرنے کے لئے منیجمنٹ تبدیل کی اور جعلی ڈگری والے سینکڑوں ملازمین کی نشاندہی کی گئی، ان میں پائلٹ بھی شامل ہیں، اس کے باوجود فی جہاز ملازمین کی اوسط تعداد ہزاروں میں ہے۔ اب ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک سکیم کی طرز پر پیشکش کی جا رہی ہے کہ وہ یک مشت مناسب پیسے لے کر فارغ ہو جائیں، جبکہ ایسی ہی سکیم کے تحت پاکستان سٹیل سے ساڑھے چار ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا گیاتھا۔ یہ ملازمین جونیئر افسران، اسسٹنٹ مینیجرز، ڈپٹی مینیجرز، مینیجرز، اور دوسرے دفتری ملازمین ہیں، جبکہ اساتذہ، میڈیکل سٹاف، چوکیدار اور کم گریڈ کے ملازمین نہیں نکالے گئے، گزشتہ بیس سال سے یہ لوگ ایک پیسے کا کام نہیں کر رہے ، ہر ماہ اربوں روپے قومی خزانے سے تنخواہ ادا کی جاتی ہے، کئی بار پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی حکومت نے اربوں روپے دئیے کہ مِل کی پیداوار شروع ہو سکے، لیکن وہ امداد بھی ڈوب گئی، حکومت کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کیلئے فنڈ کی کمی کا سامنا رہا، ایک پے اینڈ پینشن کمیشن قائم کیا گیا تھا، کہنے کو تو یہ آسان ہے کہ حکومت کا کام لوگوں کو روزگار دینا ہے، اور دنیا کی فلاحی ریاستیں ایسا کرتی ہیں، لیکن پاکستان کے معاشی حالات ایسے نہیں کہ وہ ایسا کر سکے، جہاں مراعات یافتہ طبقہ ٹیکس دینے کو تیار نہ ہو، اور سیلز ٹیکس کی صورت میں عام آدمی سے ٹیکس لے کر نظام چلایا جاتا ہو، جہاں سیاست اور حکمرانی کے ساتھ کاروبار ضروری سمجھا جاتا ہو اور حکمران ہی بینکوں سے قرض لے کر خود ہی معاف کرواتے رہیں، جہاں سیاسی جماعتیں ٹریڈ یونین کے نام پر ہر ادارے میں ایسے ورکروں کی حوصلہ افزائی کرتی ہوں، جو فرائض ادا کرنے کے بجائے صرف حقوق کی بات کریں، جہاں کام کرنے کو توہین سمجھا جاتا ہو، اور کام چوری کو ایک فن مانا جاتا ہوں، ایسے ملک میں جب تک سیاسی اشرافیہ تلخ حقائق کو قبول کر کے اور حقیقت پسندانہ فیصلے کر کے کام کرنے کا ماحول نہیں بنائے گی، ادارے بوجھ ہی بنے رہیں گے۔2000سے اب تک کم از کم یہ روایت تو شروع ہوئی ہے کہ الیکشن جیتنے والی سیاسی جماعت اپنی مدت پوری کرتی آئی ہے۔2002میں ق لیگ،2008میں پیپلز پارٹی اور2013میں مسلم لیگ نون نے الیکشن جیتا اور اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی۔ یہ الگ بات ہے کہ وزرائے اعظم تبدیل ہوتے رہے، لیکن حکومت ایک ہی پارٹی کی رہی اور اگر تحریک انصاف اپنی مدت پوری کرتی ہے تو یہ ایک مثبت سیاسی عمل ہو گا2023میں عوام خود ہی فیصلہ کر لیں گے کہ کون ملک بہتر چلانے کا اہل ہے، اس لیے کچھ فیصلے ایسے ہیں جن کو ریاست کے مفاد کیلئے کرنا ضروری ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت نے کہا تھا کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں سے نمٹیں گے۔تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر  نے کہا تھا خسارے میں چلنے والے اداروں کا نقصان اور قرض کم کرنے کا ذمہ دار ویلتھ فنڈ ہو گا، فنڈ یہ بھی بتائے گا کہ کس ادارے کی نجکاری کی جائے اور کس کمپنی میں اصلاحات لائی جائیں۔اگر پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کیا جا سکتا ہے تو باقی اداروں کو کیوں نہیں؟ تمام اداروں سے سیاسی مداخلت کو ختم کریں گے۔ اداروں کو بہتر کریں گے تو سرکلر ڈیٹ والا مسئلہ نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نجکاری کی بڑی چیمپئن تھی لیکن ناکام ہوئی، ہم اداروں کی کمزوریوں کو ٹھیک کریں گے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں1990سے لے کر2015تک 170 قومی ادارے تقریباپانچ سوارب روپے میں فروخت کئے گئے ہیں ۔علاوہ ازیں جن خسارے والے اداروں کی نجکاری کی جارہی ہو ان پر سوال اٹھتا ہے کہ کیا ان کے خسارے کے اسباب معلوم کر لیے گئے؟ کیاغیر جانبدار، دیانتدار، ماہر، تجربہ کار لوگوں پر مشتمل کمیٹی نے اس کے خسارے کے اسباب کا تجزیہ کیا؟ مگر کیا ہمارے ہاں ایسا ہوا؟ ہمارے ہاں تو یہ ہوتا ہے کہ بیچنے والے سیاسی رہنما  کاروباری  ہیں اور ان کے خاندان والے اور دوست احباب بھی۔ یوں وہ اپنا نیا بزنس ایونیو کھولنے کے لیے اس خسارے کو ختم کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے اور براہ راست نجکاری پر آجاتے ہیں صرف اس لئے کہ ماضی کی طرح اب کے بار بھی کوئی اپنا ہی خرید لے۔حکومتوں نے تو اقتدار میں آنے کے بعد ان اسباب کو ختم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ آتے ہی نجکاری کا فیصلہ کرڈالا تھا۔ ایک زمانے میں پی آئی اے ٹھیک ٹھاک کما کے دیتا رہا ہے، دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں سے تھا۔ یہ کمانے والا ادارہ تھا۔ یہ کیوں خسارے میں گیا ہے؟پہلے ان اسباب کا خاتمہ کریں۔ جب سارے اسباب کا خاتمہ کرنے کی ہر ممکن کوشش ہو چکے اور پھر بھی وہ ادارہ خسارے سے نہ نکلے اور کمیٹی یہ کہہ دے کہ نجکاری کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں پھر آپ اس کی نجکاری کی طرف جائیں۔ ہمارے ہاں یہ دونوں کام نہیں ہوئے۔یہ کیسا معاشی ویژن ہے کہ ہم اپنے قومی اداروں کو ٹھیک کرنے کی بجائے ان کو ناکارہ اور غیر منافع بخش بنا کر ان کی نجکاری کرنے پر تلے رہتے ہیں۔ کیا حکومت چاہتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی بجائے ذمہ داریوں سے چھٹکارا حاصل کرلے۔پاکستان شاید اشیاء بیچنے والی ویب سائٹ بن چکا ہے  جس پر آئے دن آئی ایم ایف کی ایک ہی آواز آتی ہے بیچ دو۔اس تناظر میں نیٹکو کو منافع بخش بنانے کا عزم مستحسن ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔