45

وزیراعظم کو کوئٹہ جانے میں کیا امر مانع رہا؟

 گلگت بلتستان میں سانحہ مچھ کے خلاف احتجاجی مظاہروں،جلسوں،دھرنوں اورریلیوں کاانعقاد کیاگیا جن میں شہریوں، سیاسی، مذہبی جماعتوں کے کارکنوں،رہنمائوں اورتاجروں نے بڑی تعدادمیں شرکت کی۔سکردومیں تاجروں نے شٹرڈائون ہڑتال کی جس کے باعث کاروباری زندگی بندرہا۔مقررین کا کہنا تھا ہزارہ کے مومنین کا بہیمانہ قتل عام حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ اورنااہلی ہے ہزارہ برادری گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کے نشانہ پر ہے لیکن کسی ایک واقعہ کے بھی اصل مجرموں کو کیفر کردار تک نہ پہنچانا سیکیورٹی  اداروںکی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ ہمارا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کوئٹہ کے شہدا کی تدفین نہیں کی جاتی۔ملک میں ہزاروں افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں سزا اور جزا کا نظام کمزور ہونے کی وجہ سے دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں'بلوچستان میں ہزارہ برادری کے مومنین کے ساتھ ظلم و بر بریت کی انتہا ہوئی ہے سخت سردی میں شہدا کے جنازے لئے کوئٹہ میں مائیں بہنیں اور بزرگ روڈ پر ہیں اور وزیراعظم  کے منتظر ہیں 'سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے ہاتھوں بے بس ہوچکے ہیں حکومت ہماری حفاظت نہیں کر سکتی تو ہمیں اختیار دے کہ ہم اپنا دفاع خود کرینگے دہشت گردوں کا اسلام اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہم ہر ظلم کے خلاف اور مظلوم کے حامی ہیں ظالموں کے خلاف اور کوئٹہ کے مظلوموں کی حمایت میں احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔ سانحہ مچھ کے مظلومین حق بجانب ہیں۔ ریاست ہزارہ برداری کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ ہزارہ برادری کو ایک منظم سازش کے تحت ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ حکومت فورا واقعہ میں ملوس دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کرے اور انہیں گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دے۔ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاج شروع ہو گا۔ ریاست مدینہ کے وزیراعظم کچھ تو احساس کریں۔ہزارہ برادری کے خون کو سستا نہ سمجھیں۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے کہا  ہے کہ ہزارہ برادری میتوں کی تدفین کردے کوئٹہ پہنچ جائوں گا لیکن وزیراعظم کی آمد سے تدفین کو مشروط کرنا مناسب نہیںاس طرح کسی وزیراعظم کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا کہ آپ آئیں گے تو ہم تدفین کریں گے۔ڈھائی سال سے ڈاکوئوں کا ٹولہ حکومت کو بلیک میل کر رہا ہے۔ بھارت، پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں سب سے زیادہ ظلم ہزارہ برادری کے لوگوں پر ہوا، خاص طور پر گزشتہ بیس برسوں میں گیارہ ستمبر 2001 کے بعد ان کے اوپر دہشت گردی، ظلم اور قتل کیا گیا وہ کسی اور برادری پر نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس سازش کا حصہ ہے جس کا میں نے گزشتہ مارچ میں کابینہ کو بتایا تھا اور عوامی بیانات دیے تھے کہ بھارت پوری طرح پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے اور سازش کا حصہ ہے فرقہ وارانہ فسادات، بھارت کا منصوبہ ہے کہ شیعہ، سنی علما کو قتل کیا جائے ۔ میں ملک کی خفیہ ایجنسی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ چاربڑے دہشت گردی کے واقعات ہمارے اداروں کی وجہ سے نہیں ہوئے لیکن اس کے باوجود کراچی میں ایک ہائی پروفائل سنی عالم کا قتل کیا گیا، جس پر بڑی مشکل سے ہم نے آگ بجھائی جس پر فرقہ وارانہ تقسیم ہونے والی تھی۔مچھ میں جو ہوا ہے، ہمیں پہلے سے اندازہ تو تھا، اس واقعے کے بعد میں نے سب سے پہلے وزیر داخلہ کو بھیجا، جنہوں نے بات کی اور اس کے بعد دو وفاقی وزراء کو وہاں بھیجا یہ بتانے کے لیے کہ یہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے ہم سے جو بھی مطالبات کیے ہم نے تمام مان لیے تاہم ان کا یہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم آئیں گے تو ہم لاشوں کو دفنائیں گے لیکن میں نے انہیں پیغام پہنچایا ہے کہ جب آپ کے تمام مطالبات مان لیے ہیں تو یہ مطالبہ کرنا کہ جب تک وزیراعظم آئیں گے نہیں ہم تدفین نہیں کریں گے، مناسب نہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرتے ورنہ ہر کوئی بلیک میل کرے گا۔ادھرسانحہ مچھ شہدا کمیٹی نے وزیراعظم عمران خان کا شہداء کی تدفین کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنا جاری رہے گا اور تدفین بھی نہیں کریں گے۔تمام لوگوں کاایک ہی مطالبہ ہے کہ عمران خان دھرنے میں پہنچیں، وزیراعظم دھرنے میں کیوں نہیں آرہے، عمران خان کہہ رہے ہیں کہ بلیک میل کیاجارہا ہے، ہم کیسے بلیک میل کرسکتے ہیں کیا ہم سیاسی ہیں،ہم بلاول یا مریم نوازہیں جوبلیک میل کریں گے۔میتوں کے ہمراہ ہزارہ برادری کادھرنامنفی دس سنٹی گریڈ سردی میں چھٹے روزبھی جاری ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بلوچستان میں راء اور موساد ملوث ہیں جو اس علاقے میں فساد برپا کرنا چاہتی ہیں ہمیں ملک دشمنوں کی سازش کو سمجھنا چاہیے جو یہاں امن دیکھنا نہیں چاہتے تاہم وزیراعظم جو پورے ملک کے سربراہ ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ملک میں سب سے زیادہ ظلم ہزارہ برادری کے ساتھ ہوا ہے'جن کے پیارے جدا ہو گئے ان کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا'کون نہیں جانتا کہ وزیراعظم جو قوم کا باپ ہوتا ہے اسے ان کے دکھ میں شریک ہونا چاہیے محض زبانی وعدے نہ ہوں 'عملی اقدامات کیے جائیں'متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھا جائے' اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آئیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں نہ ہی اس میں بلیک میلنگ کا عنصر ہے' ناقابل فہم یہ ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے بعد بھی وزیراعظم کا نہ جانا سوالیہ نشان ہے'انہیں وہاں جانے میں میں کیا امر مانع ہے؟جس صورتحال کا بیان وہ اپنے بیانات میں کر رہے ہیں اور جو یقین دہانیاں کرا رہے ہیں وہی وہ جا کر'کرا دیں' ہزارہ برادری نسلا منگول ہے۔ افغانستان میں ہزارہ خاصی بڑی تعداد میں آباد ہیں مگر وہاں بھی وہ اقلیت میںہیں۔ وہاں ان کی آبادی تقریباپینتیس لاکھ ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر جن علاقوں میںرہتے ہیں انہیں ہزارہ جات کہا جاتا ہے ۔ افغانستان کے حکمران عبدالرحمان نے1893میں اس وقت تک  آزاد اورخود مختاری کے حامل ہزارہ جات کو فتح کیا تو ان کا قتل عام کیا۔مورخین نے لکھاہے کہ عبدالرحمان نے نصف ہزارہ آبادی کو تہہ تیغ کردیا تھا۔ اپنی جانیں بچانے کے لیے بڑی تعداد میں ہزارہ قبیلے کے لوگ ایران اور بلوچستان میں ہجرت کرکے آباد ہوئے۔افغانستان میں طویل عرصہ تک ہزارہ قبیلہ کے لوگوں کو غلام بنانے کا رواج رہا۔ افغانستان میں طالبان کے دورِ حکومت میں بھی ہزارہ برادری کو دبایا گیا چنانچہ ہزارہ برادری نے طالبان مخالف شمالی اتحاد کا ساتھ دیالیکن ان کا تحفظ پھر بھی ممکن نہ ہو سکا۔ ہزارہ برادری کو آج بھی اپنے سپوت جنرل موسی خان پر فخر ہے جو آرمی چیف تھے اور بعدازاں دو مرتبہ گورنر بھی بنے  ہزارہ برادری کے کئی علما نے تحریک پاکستان میں قائداعظم  کی حمایت کی تھی، الغرض ہزارہ نسل کے لوگ کوئٹہ اور کراچی سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں اور جنرل موسی خان کی طرح پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ ہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ آج پاکستان سے ان کی محبت کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ کوئٹہ میں آئے دن ہزارہ برادری کو ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کبھی منتخب اراکین کو قتل کیا جاتا ہے تو کبھی زائرین کی بسوں اور مزدوروںکو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آخری اطلاعات تک سانحہ مچھ کے شہدا کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ وفاقی وزیرعلی زیدی،زلفی بخاری،قاسم سوری سمیت صوبائی وزرا اور شہریوں کی بڑی تعداد کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔افغانستان سے دوبارہ درخواست  نہ آنے پر افغان شہریوں کی بھی تدفین کر دی گئی۔خوش آئند بات یہ ہے کہ سانحہ مچھ کے شہدا کی تدفین کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ میں ہزارہ برادری سے ملاقات کی اور سانحہ مچھ پر اظہار تعزیت کیا۔ گورنر اور وزیر اعلی بلوچستان جام کمال بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔ہزارہ برادری سے ملاقات کے دوران وزیر داخلہ شیخ رشید اور دیگر حکام بھی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ تھے۔کوئٹہ میں وزیر اعظم عمران خان کی  زیر صدارت کوئٹہ میں امن و امان کے متعلق اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، گورنر اور وزیراعلی بلوچستان سمیت اعلی قیادت نے شرکت کی۔اجلاس میں وزیراعظم کو سانحہ مچھ پر بریفنگ دی گئی اور صوبہ کے امن و امان کی مجموعی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی جلد کوئٹہ کا  دورہ کریں گے۔ وزیر اعظم  عمران خان سے گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی اور وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے ملاقات کی۔وفاقی وزیر علی زیدی نے دھرنے کے شرکا سے خطاب میں کہا کہ کئی سالوں سے ہزارہ برادری پر جاری مظالم کو ختم کرنا ہو گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہزارہ برادری کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے اسے چاہیے کہ وہ اندرونی و بیرونی دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ رکھیں۔