46

پاکستان اور قطر : ایل این جی کا نیا معاہد ہ، ہر سال 300ملین ڈالر زاور آئندہ دس سالوں میں 3 ارب ڈالر زکی بچت ہوگی،وزیر اعظم

لاہور (آن لائن) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر کے درمیان ایل این جی کے پرانے معاہدے پر ایک سال کے طویل مذاکرات کے بعد نیا معاہد ہ ہوا ہے جس سے ہر سال 300ملین ڈالر زاور آئندہ دس سالوں میں 3 ارب ڈالر زکی بچت ہوگی۔گزشتہ دس سال اندھیرے کے سال تھے جس میں بے پناہ قرضے چڑھے ،معاشی بد انتظامی سے مالی خسارہ اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھااور مہنگائی ہوئی ، یہ مسائل ورثے میں ملے ہیں ، سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے کے پہلے فیز میں 1300ارب روپے کے وسائل پیدا ہوں گے جس میں سے وفاق کو ڈھائی سو ارب روپے کاٹیکس ریو نیو حاصل ہوگا ، اس منصوبے کی کمرشل ویلیو 6ہزار ارب روپے ہو گی ، راوی ریوراربن ڈویلپمنٹ اور سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے پاکستان کو وسیع پیمانے پر وسائل مہیا کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جمعہ کے دن اس پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے میں خوشی ہو رہی ہے ،قطر کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ہمارا قطر کے ساتھ جو پرانا تھا اس کی بجائے پاکستان کو ہر سال 300ملین ڈالر کی بچت ہو گی اور انشا اللہ اگلے دس سال میں 3ارب ڈالر کی بچت ہو گی ،اس کے لئے ہم ایک سال سے مذاکرات کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی ملک پرمشکل وقت آتا ہے تو مشکل وقت سے نکلنے کے لئے اس ملک کو آئوٹ آف باکس سوچنا پڑتا ہے ،ایسی سوچ اپنانی پڑتی ہے ہو گھسی پٹی روایتی سوچ سے ہٹ کر ہو ۔ اس وقت پاکستان کو دو بڑے مسائل کا سامنا ہے ۔لوگ کہتے ہیں کہ چھوڑیں پرانی باتیں نہ کریں ، گزشتہ دس سال اندھیرے کے سال تھے جس میں قرضے چڑھے ، معاشی بد انتظامی تھی جس سے بہت بڑا مالیاتی اور تجارتی خسارہ تھا ۔درآمدات اور برآمدات میں اتنا خسارہ تھا کہ ہمیں غیر ملکی قرصے لینے پڑے ،فارن ایکسچینج گرنے سے ہمارے روپے پر اثر پڑ اور وہ بھی گر گیا ، جب ڈالر کی کمی ہو تو ڈالر کی قیمت اوپر چلی جاتی ہے اور جب روپیہ نیچے آیا تو مہنگائی ہوئی ، ہمیں یہ مسائل ہمیں ورثے میں ملے ہیں ، اب ہم نے یہ سوچنا ہے کہ ہم نے ان مسائل سے نکلنا کیسے ہے ، سب سے پہلے ہمیں اپنی آمدنی بڑھانی ہے ، ہمیں اپنے خرچے کم کرنا ہوں گے جو ہم نے کئے ہیں ،جب تک آمدن نہیں بڑھی گی تب تک ہم اپنے اخراجات پورے نہیںکر سکتے ہیں ،اس کے علاوہ قرضوں کی قسطیں بھی دینی ہے ، ہر سال قرضوں کی قسطیں بڑھتی جارہی ہیں لہٰذاہمیں ایسے منصوبے شروع کرنے ہیں جس سے پاکستان کے اندر وسائل پیدا ہوں گے ، قرضے واپس کرنے کے لئے قوت ہو ۔ ہمیں سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے کو اس نظر سے دیکھنا ہے ، اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ یہ پاکستان میں وسائل پیدا کرے گا ۔اس سے پنجاب ، وفاق ، ریلوے او رسول ایوی ایشن اتھارٹی کے لئے وسائل پیدا ہوں گے ۔وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ اس کے پہلے فیز میں 1300ارب روپے کے وسائل پیدا ہوں گے جس میں سے وفاق کو ڈھائی سو ارب روپے کاٹیکس ریو نیو حاصل ہوگا ۔