38

پی آئی اے، ریلوے ،ڈیسکوز کی نجکاری نہ ہونے پر قائمہ کمیٹی معترض

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے کہا ہے کہ حکومت کی نجکار ی  پالیسی واضع نہیں ، خسارے والے ادارے فروخت کرنے کی بجائے جو ادارے منافع میں جاسکتے ہیں ،انہیں فروخت کیا جا رہاہے ،پی آئی اے ، ریلوئے ڈیسکوز خسارے میں جا رہے ہیں، ان کی نجکاری کیوں نہیں ہو رہی ۔ نجکاری کمیشن حکام نے انکشاف کیا کہ پی ٹی وی کو پہلے نجکاری کی لسٹ میں ڈال کر دوبارہ واپس لے لیا گیا ۔قائمہ کمیٹی نے روز ویلٹ ہوٹل کے سیل ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے پی آئی اے حکام کو اگلے اجلا س میں طلب کر لیا ۔ جمعرات کو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین  سید مصطفی محمود کی زیر صدارت وزارت نجکار ی کمیشن میں منعقد ہوا۔اجلاس کو ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کی نجکاری کے حوالے سے وزرات صنعت و پیداوار کی بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری وزارت صنعت وپیداوارحامد عتیق سرورنے بتایا کہ 2008تک ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس منافع بخش ادارہ تھا ،2009کے بعد ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کا ادارہ نقصان میں جانے لگا،2020تک یہ ادارہ بتدریج نقصان میں جا رہا ہے،  اگست 2019میں اس ادارے کو نجکاری کی فہرست میں ڈالا، نومبر 2020میں کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے ایچ ای سی کے 96.6فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری دی ۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نجی کمپنی کے لائسنس کی میعاد ختم ہوگئی تھی انہوں نے چھ ماہ میں تجدید کرائی۔ایچ ای سی کے لائسنس کی میعاد 2سال ہوئے ختم ہوئی اور ابھی تک تجدید نہیں کروائی گئی، نجی کمپنی نے ٹرانسفارمر بنانے کی بولی جیتی اور ایچ ای سی سے ٹرانسفارمرز بنوائے جب ہم نے یہ سوال کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ پیل کو بڈ جیتنے کا طریقہ آتا ہے۔ کمیٹی رکن عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ  اس میں کسی کی بری نیت سامنے نظر آرہی ہے۔ڈی جی نجکاری کمیشن  کے مطابق  اس ادارے میں 200ڈیلی ویجز ملازمین ٹھیکیدار کے ذریعے کام کرتے تھے جب اس ادارے کو نجکاری فہرست میں لایا گیا تو ان ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کیا گیا۔وزیر صنعت حماد اظہر نے اس پر ایچ ای سی سے جواب بھی طلب کئے عارضی ملازمین کے کنٹریکٹ کی تجدیدہیوی الیکٹریکل کمپلیکس میں صرف 23 مستقل ملازمین ہیں باقی تمام عارضی ملازمین ہیں۔کمیٹی نے ملازمین کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں۔ ایچ ای سی حکام  نے بتایا کہ نجکاری کے عمل سے 4دفعہ گزرنے کے بعد مارکیٹ میں ہماری ساکھ متاثر ہوئی ،اس وقت اپنی بقا کیلئے ہم نے نجی کمپنی کے ٹرانسفارمرز بنائے، ہمارے پاس تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے اور اخراجات کے پیسے نہیں تھے، چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کے لوگوں نے جب یہ بتایا کہ نجی کمپنی کو بڈ جیتنے کا طریقہ آتا ہے،  بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے خلاف چارج شیٹ ہے  اس ایف آئی اے کو بلا کر رپورٹ مانگی جائے