69

چیف کورٹ جی بی میں ججز کی خالی اسامیوں پر تقرری مجھ سے مشاورت اور میرٹ کے تقاضوں کو پورا کئے بغیر عمل میں لائی گئی تو ان ججز سے حلف نہیں لوں گا،جسٹس ملک حق نواز

گلگت(سٹاف رپورٹر)چیف جسٹس چیف کورٹ گلگت  بلتستان جسٹس ملک حق نواز نے کہا ہے کہ چیف کورٹ جی بی میں ججز کی خالی اسامیوں پر تقرری مجھ سے مشاورت اور میرٹ کے تقاضوں کو پورا کئے بغیر عمل میں لائی گئی تو ان ججز سے حلف نہیں لوں گا۔گلگت  بلتستان کی پہلی جوڈیشل اکیڈمی کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے جسٹس ملک حق نواز نے کہا کہ فروری 2020 سے چیف کورٹ میں پانچ کی بجائے چیف جسٹس سمیت صرف 2ججز فرائض انجام دے رہے ہیں اور گزشتہ 6ماہ کے عرصے میں1876مقدمات نمٹا دئے ہیں۔چیف جسٹس چیف کورٹ نے کہا کہ نہ صرف چیف کورٹ میں ججز کی خالی اسامیوں پر تقرریوں کا معاملہ غیر معمولی تاخیر کار شکار ہے بلکہ نیب کورٹ ،کسٹم اینڈ بینکنگ کورٹ ،سروس ٹریبونل اور اے ٹی سی کورٹ میں بھی ججز کی اسامیاں کافی عرصے سے خالی پڑی ہوئی ہیں اور ان عدالتوں میں ماتحت عدلیہ کے ججز کو اضافی چارج دیاگیا ہے۔جسٹس ملک حق نواز نے کہا کہ اگر ایک ماہ کے اندر ان عدالتوں میں مستقل ججز کی تقرری نہ کی گئی تو اضافی ذمہ داریاں نبھانے والے ججز کی خدمات واپس لی جائیں گی۔اس سے قبل چیف جسٹس چیف کورٹ جی بی جسٹس ملک حق نواز نے برطانیہ سے آئے ہوئے ہل یونیورسٹی کے پاکستانی نژاد پروفیسر نیاز شاہ کے ہمراہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی کے تعاون سے قائم ہونے والی گلگت  بلتستان کی پہلی جوڈیشل اکیڈمی کی تختی کی نقاب کشائی کی۔اس موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب میں چیف کورٹ کے جج جسٹس علی بیگ،یواین ڈی پی کے کوآرڈنیٹر برائے پاکستان اعجاز علی ،ماتحت عدلیہ کے ججز ،گلگت  بلتستان بار کونسل اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن گلگت  بلتستان کے عہدیداروں سمیت سینئر وکلاء نے شرکت کی۔جوڈیشل اکیڈمی جی بی کے ڈائریکٹر جنرل و رجسٹرار چیف کورٹ غلام عباس چوپا نے خیر مقدمی کلمات ادا کئے اور جوڈیشل اکیڈمی کے قیام کو گلگت  بلتستان کی عدالتی تاریخ کا نہایت اہم سنگ میل قراردیا۔تقریب سے  ہل یونیورسٹی برطانیہ کے پروفیسرنیاز شاہ نے بھی خطاب کرتے ہوئے گلگت  بلتستان کو سیاحوں کی جنت قراردیا۔ چیف جسٹس چیف کورٹ جسٹس ملک حق نواز نے کہا کہ جوڈیشل اکیڈمی کے قیام سے گلگت  بلتستان میں عدلیہ کا وقار مزید بلند ہوا ہے اور اب وہ دن دور نہیں جب گلگت  بلتستان کی عدالتیں پوری دنیا کے لئے رول ماڈل بن جائیںگی۔انہوںنے کہا کہ جوڈیشل اکیڈمی میں نئے آنے والے ججز کے علاوہ ماتحت عدلیہ کے تمام جونیئر اور سینئر جج صاحبان،جوڈیشل آفیسرز،جوڈیشل مجسٹریٹس اور عدلیہ کے ملازمین کے لئے بھی ٹریننگ کی سہولیات دستیاب ہونگیں۔اس کے علاوہ وکلاء برادری کو بھی جوڈیشل اکیڈمی سے استفادہ حاصل کر نے کے مواقعے فراہم کئے جائیں گے۔انہوںنے کہا کہ جوڈیشل اکیڈمی میں نئے قوانین سے متعلق فوری آگاہی اور معلومات کے حصول میں مدد ملے گی۔جبکہ اکیڈمی کے قیام سے جی بی میں ای کورٹس کو موثر اور مربوط بنانے کیلئے سہولیات میں مزید اضافہ ہوگا۔چیف جسٹس ملک حق نواز نے کہا کہ بلتستان کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر سکردو میں ویڈیو لنک پر ای کورٹ کے کامیاب اجراء کے بعد اب چند روز کے اندر دیامر استور کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر چلاس میں بھی ای کورٹ سسٹم شروع کرنے کے انتظامات اورتیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔انہوںنے کہا کہ چیف کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز بنا کر متعلقہ فورم سے منظوری بھی حاصل کر لی گئی ہے  اورجلد ہی گزٹ آف پاکستان میں اشاعت کے بعد پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز گلگت  بلتستان چیف کورٹ پر لاگو ہونگے چیف جسٹس ملک حق نواز نے کہا کہ میں نے جی بی عدلیہ میں اصلاحات کیلئے دن رات کام کیا ہے ۔اور مجھے اس بات پر اطمینان ہے کہ چیف کورٹ اورماتحت عدلیہ کے جج صاحبان و تمام ملازمین کے علاوہ وکلاء برادری نے ہمیشہ مثالی تعاون کیا۔جس کی وجہ سے مقدمات کی فوری سماعت اور سستے انصاف کی فراہمی سمیت انتظامی معاملات کو کامیابی سے چلانے میں بھرپور مدد ملی۔جسٹس ملک حق نواز نے کہا کہ میں 29اگست 2021کو ریٹائر ہورہا ہوں اور میں یقین دلاتا ہوں کہ 28اگست تک گلگت  بلتستان کی عدلیہ کی ترقی و اصلاحات اور وقار کی سربلندی کیلئے دن رات کام کروںگا۔چیف جسٹس  ملک حق نواز نے عدالتی اصلاحات اور انتظامی معاملات کو چلانے کے حوالے سے رجسٹرار چیف کورٹ غلام عباس چوپا کی صلاحیتوں اور کاوشوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔