32

کرونا کی تیسری لہر کی تباہ کاریاں

 کورونا کی تیسری لہر شدت اختیار کرگئی جان لیواوائرس سے ایک دن میں مزید چھیانوے افراد جاں بحق جب کہ پانچ ہزار کے قریب مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پچاس ہزار کورونا ٹیسٹ کئے گئے، جس کے بعد مجموعی کووڈ ٹیسٹس کی تعداد ایک کروڑ دولاکھ سنتالیس ہزار سینتیس ہوگئی ہے جبکہ کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد تقریبا چھ لاکھ تہترہزارہوگئی ہے۔ گلگت بلتستان میں پانچ ہزار تینتیس افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مکمل لاک ڈائون کے متحمل نہیں ہو سکتے اور محدود پیمانے پر کاروبار جاری رکھیں گے۔ وزیراعظم نے ملک گیر ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی اور ماسک کے استعمال کیلئے ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ انتظامی مشینری ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کے لیے متحرک ہوجائے، کورونا وبا کی تیسری لہر خطرناک، بہت احتیاط کی ضرورت ہے، مکمل لاک ڈائون کے متحمل نہیں ہو سکتے، محدود پیمانے پر کاروبار جاری رکھیں گے، ہم نے بہتر حکمت عملی کے ساتھ پہلی لہر کا کامیابی سے مقابلہ کیا، وقت ایک بار پھر قوم سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ کورونا کی چینی ویکسین سائینوفارم کی مزید پانچ لاکھ خوراکیں پاکستان پہنچ گئی ہیں جبکہ مزید پانچ لاکھ خوراکیں آج پاکستان پہنچیں گی۔ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ انسداد کورونا ویکسین کی ایک اور کھیپ پاکستان پہنچ گئی پاکستان میں ویکسی نیشن کا آغاز سائنوفارم سے کیا جبکہ ویکسی نیشن کی آٹھ لاکھ سے زائد خوراکیں دی جاچکی ہیں۔ملک میں کورونا کی تیسری لہر تیز ہوگئی ہے، ماسک کے استعمال، سماجی فاصلے اور ہجوم سے اجتناب سمیت وائرس سے بچائو کی ایک اسٹریٹیجی ویکسی نیشن ہے، تیس مارچ سے ہم نے پچاس سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے بھی ویکسی نیشن کی رجسٹریشن کا آغاز کردیا ہے اور آہستہ آہستہ ان کا مرحلہ بھی آجائے گا۔ویکسی نیشن کے مرحلے کو تیز کر رہے ہیں اور اسے ایسے مرحلے تک لے کر جانا چاہتے ہیں جہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد کو ویکسین لگ چکی ہو تاکہ بیماری کے پھیلائو میں اہم رکاوٹ پیدا کی جاسکے۔ملک بھر میں ویکسین کے لیے ساٹھ سال سے زائد عمر کے آٹھ لاکھ افراد کی رجسٹریشن ہوئی جن میں سے ڈھائی لاکھ افراد کو ویکسین پہلی خوراک دی جاچکی ہے۔ پنجاب میں سب سے زیادہ چارلاکھ نوے ہزار لوگوں نے رجسٹریشن کرائی ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر برائے منصوبہ اسد عمر نے کہا تھا کہ پاکستان، چین کی کورونا ویکسین کین سینو بائیولوجکس وسیع پیمانے پر درآمد کرے گا جس کی تیس لاکھ خوراکیں مقامی سطح پر بنائی جائیں گی۔اپریل کے وسط تک ہمیں وسیع پیمانے پر کین سینو ویکسین مل جائے گی ۔وسیع پیمانے پر حاصل ہونے والی ویکسین کی خوراکیں پاکستان میں تیار کی جائیں گی، جس کے لیے خصوصی آلات خرید لیے ہیں اور عملے کو تربیت دی جارہی ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کا پھیلائو شدو مد سے جاری ہے جبکہ وعدے کے مطابق اب تک بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے ویکسین بھی نہیں مل سکی، جس پر وفاقی حکومت نے صوبوں کو ویکسین کی خریداری کا مشورہ دیا ہے۔افسوس یہ ہے کہ کرونا وبا نے لوگوں سے عبادت اور صدقہ خیرات کے مواقع بھی چھین لیے ہیں۔یہ دوسرا رمضان ہے جو لوگوں کو اس حالت میں گزارنا پڑے گا۔عالمِ عرب میں ماہ ِرمضان المبارک کی تیاریاں زوروں پرجاری ہیں لیکن ویسے نہیں جو ماضی میں ہوا کرتی تھیں۔بے شک احتیاطی تدابیر اپنی جگہ مسلمہ حیثیت رکھتی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عبادات سے روک دیا جائے۔ 2019تک رمضان المبارک کے آغاز سے قبل صاحبِ ثرورت واہل خیر حضرات غربا و مساکین اورمعاشی اعتبار سے کمزور مسلم بھائیوں و بہنوں کیلئے جس طرح کے اہتمام کی تیاریوں کے انتظامات کرتے تھے لیکن2021میں اس پر مکمل پابندیاں لگ چکی ہیں ۔2019تک اکثراسلامی ممالک میں بھی روزے داروں کیلئے مساجد اور دیگر مقامات پر افطار کیلئے بڑے بڑے دستر خوان بچھائے جاتے تھے اور روزے دار اللہ کی ان نعمتوں کا شکرانہ ادا کرتے ہوئے تناول فرماتے لیکن کورونا وائرس نے تو ان تمام عبادتوں و ریاضتوں پر پانی پھیر دیا جس کے ذریعہ لوگ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی سعی فرماتے۔ ماہِ صیام میں اللہ کی راہ میں کھلانے پلانے اور مختلف طریقوں سے لوگوں کی مدد کرنے میں جو مزہ ہے وہ اس کورونا وبا کے ڈرو خوف نے اس سے دور کروا دیا۔ عام لوگوں کی کثیر تعداد اتنا ڈرو خوف میں مبتلا نہیں ہے جتنا حکومتیں احتیاطی تدابیر کے نام پرڈرو خوف بٹھانے کی کوشش کررہی ہیں۔ عالمِ اسلام اور دیگر ممالک کے حکمراں یا حکومتی عہدیدارکووڈکا خوف بٹھاکر اللہ رب العزت کے احکامات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسے ایسے پابندیاں عائد کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے احکامات الہی اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے دوری ہورہی ہے اور اسکا نتیجہ مستقبل میں مسلمانوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ خلیج کے اہم ترین ممالک نے جس طرح رمضان المبارک کی آمد سے قبل کئی ایسی پابندیاں عائد کردی ہیں جس کی وجہ سے مسلمان اجتماعی طور پراپنے خالق و مالک کی عبادات کرنے سے محروم کردیئے جارہے ہیں ۔ مساجد میں عبادات کیلئے جو اوقات مقرر کئے جارہے ہیں اسکی وجہ سے اس میں کتنا خشوع و خضوع باقی رہے گا اس کا اندازہ ایک عابد مسلمان و مومن ہی کرسکتا ہے۔ ماہِ صیام میں روزے داروں کی ضیافت کیلئے جو درس اسلام نے دیا ہے اس پر بھی پابندی عائد کی جارہی ہے۔ عالمِ اسلام میں نمازِتراویح اورنمازِ تہجدکیلئے جو خصوصی انتظامات کئے جاتے تھے ان پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اس سال رمضان المبارک کے دوران کورونا کا پھیلائو روکنے کیلئے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ مساجد میں تراویح کی اجازت ہوگی تاہم عشا کی نماز اور تراویح کا دورانیہ صرف تیس منٹ پر مشتمل ہوگا جبکہ خواتین کیلئے مساجد میں جو نمازوں کیلئے انتظام ہوتا تھانہیں ہوگا ۔ماہِ صیام سے متعلق حفاظتی تدابیر کے تحت مساجد میں افطار دستر خوان پر پابندی لگادی گئی ہے۔متحدہ عرب امارات میںمعاشرے کی صحت و سلامتی کی خاطر مشورہ دیا گیا ہے کہ رمضان کی راتوں میں اجتماعات سے پرہیز کیاجائے ۔ ایک دوسرے خاندان سے ملاقات سے گریز کیا جائے ، گھروں اور خاندانوں کے درمیان منتخب کھانوں کی تقسیم اور تبادلے سے پرہیز کیا جائے البتہ ایک خصوصی چھوٹ یہ دی گئی ہے کہ ایک ہی خاندان کے وہ افراد جو ایک ہی گھر میں رہ رہے ہوں وہ اجتماعی طور پر افطار کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ خاندانی افطار خیموں یا ادارہ جاتی افطار پارٹیوں کے تحت روزہ داروں کیلئے اہتمام کیا جاتا تھا اس کی اب اجازت نہیں ہوگی۔ گھروں اور مساجد کے سامنے افطار خوراک تقسیم کرنے پر پابندی گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی برقرار رہے گی جو لوگ افطار خوراک تقسیم کرنا چاہتے ہوں وہ فلاحی اداروں کی خدمات حاصل کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ آن لائن زکواة، صدقات اور خیرات کا راستہ اختیار کیاجاسکتا ہے۔رمضان کے آخری عشرے میں تہجد کی نماز پڑھنے کا فیصلہ پورے ملک میں وبا کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔ بعض مقامات پر رمضان کے دوران کورونا سے بچائو کیلئے سات حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے جن میں افطار خیموں پر پابندی، عوامی مقامات پر اجتماعی دسترخوان کی ممانعت، گھروں کے سامنے افطار کی تقسیم کی عدم اجازت، ریستورانوں کے منتظمین کو دستانے اور حفاظتی ماسک کی پابندی کی تاکید کی گئی ہے۔ افطار خوراک اسپیشل تھیلیوں یا ڈبوں میں رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ریستورانوں کے اندر یا باہر کہیں بھی افطار پیکٹ تقسیم نہیں کیے جاسکیں گے البتہ ورکرز کے رہائشی مراکز میں افطار پیکٹ ریستورانوں اور انتظامیہ کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ دیے جاسکیں گے۔یہی صورتحال ایک بار پھر پاکستان میں ہے یہ دوسرا رمضان ہے جس میں لوگ کھل کر مساجد و امام بارگاہوں میں خشوع و خضوع سے عبادات کی تکمیل نہیں کر سکیں گے۔