141

گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کیلئے پنجاب ماڈل

گلگت بلتستان میں پنجاب طرز کے بلدیاتی ماڈل کو اپناتے ہوئے بلدیاتی الیکشن کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر پنجاب میں بلدیاتی نظام کا مطالعہ کرینگے جس کی روشنی میں گلگت بلتستان میں بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں گے۔ گلگت بلتستان میں اکتوبر میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے وفاق سے جی بی کے بلدیاتی الیکشن کیلئے بھرپور تعاون حاصل کر لیا ہے۔ اسلام آبادکے بعد چیف الیکشن کمشنر لاہور روانہ ہونگے جہاں وہ پنجاب میں بلدیاتی نظام کے ماڈل کا جائزہ لیں گے ساتھ ہی پنجاب کے متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرینگے۔ جی بی کے الیکشن کمیشن کو اس حوالے سے وفاق کا تعاون حاصل ہوگا۔گلگت بلتستان میں مشرف دور میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے جس کے بعد سے اب تک دوبارہ الیکشن نہ ہوسکے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کا ڈول ڈالنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جس کے یقینا مثبت نتائج برآمد ہوں گے ۔بلدیاتی نظام کو حکومت کی ریڑھ کی ہڈی اور جمہوریت کا حسن کہا جاتا ہے۔ جمہوریت میں بلدیاتی نظام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے بلکہ اسے جمہوریت کی روح کہا جاتا ہے۔چونکہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو قومی،علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ براہ راست عوام کے مسائل کا ادراک کرنے سے قاصر ہوتی ہیں اور اگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بلدیاتی اداروں کے ذریعے ان مسائل کا حل نہ کیا جائے تو یہی مسائل سنگین ہو جاتے ہیں ۔بلدیاتی ادارے فرد اور ریاست کے درمیان پل کا کام دیتے ہیں۔اسی وجہ سے دنیا میں جہاں بھی بلدیاتی ادارے مضبوط ہیں، وہاں ریاست اور جمہوریت بھی مضبوط ہے۔بلدیاتی نظام حکومت کے بے شمار فوائد میں سے تین فوائد بڑی اہمیت کے حامل ہیں:ایک یہ کہ عوام کے مقامی مسائل کے حل کرنے کی راہ ہموار ہوتی ہے، لوگوں کے روز مرہ مسائل کا حل ان کی دہلیز پر ملتا ہے،سڑکیں بنتی اور پختہ ہوتی ہیں،پینے کے لئے صاف پانی کا بندوبست ہوتا ہے،محلے سے گندے پانی کے اخراج کے لئے نکاسی آب کا انتظام کیا جاتا ہے،گائوں کے چھوٹے چھوٹے معاملات اور تنازعات تھانے کچہری کے بجائے،محلے کی مصالحتی عدالت یا پنچائیت میں حل کیے جاتے ہیں۔نچلی سطح سے سیاسی قیادت ابھرنے کے مواقع میسر آتے ہیں،بلدیاتی ادارے مقامی قیادت کے لئے نرسریوں کا کام دیتے ہیں۔یوں یہی ادارے پھر جمہوریت کی تجربہ گاہیں بھی ثابت ہوتے ہیں اور پھر یہ ریاست کے لئے اہم ترین اور مضبوط ترین ستون فراہم کرتے ہیں۔تیسرا اور سب سے اہم ترین فائدہ یہ ہے کہ اس نظام کی وجہ سے اختیارات کی مرکزیت ختم ہوتی ہے۔اقتدار چند ہاتھوں سے نکل کر عوام میں منقسم ہو جاتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو جمہوریت کو آمریت سے ممتاز کرتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر بلدیاتی انتخابات کا نفاذ فوجی آمروں کے دور اقتدار کے دوران ہی ہوا۔ایوب خان، ضیاء الحق اور جنرل مشرف کی آمریت کے بعد ملک میں  بلدیاتی انتخابات تو ہوئے لیکن لاحاصل کیونکہ ان اداروں کو اختیارات نہ دیے گئے۔بلدیاتی انتخابات کا ایک اہم فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اختیارات کی مرکزیت ختم ہوجاتی ہے اور بلدیاتی ادارے بااختیار اور مالی وسائل کے مالک ہوجاتے ہیں اور مقامی مسائل حل کرنے میں مالی وسائل کے استعمال میں آزادی کی وجہ سے مقامی اور علاقائی مسائل حل کرنے میں آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ بدقسمتی سے سیاست اور اقتدار پر قابض اشرافیہ نے ہمیشہ بلدیاتی انتخابات سے پہلوتہی کی۔ فوجی حکمرانوں کی گود میں پلنے والی یہ سیاسی اشرافیہ ویسے تو فوجی حکومتوں کو جمہوریت کے فروغ میں دیوار بننے کا الزام دیتی ہے لیکن یہ مافیا کبھی فوجی حکومتوں کی آمد پر مٹھائیاں تقسیم کرتی نظر آتی ہے تو کبھی فوجی حکومتوں کا انتہائی بے شرمی سے حصہ بنتی دِکھائی دیتی ہے۔ اور المیہ یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات عموما فوجی حکومتوں کے دور ہی میں ہوتے رہے ہیں۔ ناظمین کا نظام بھی ایک فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف ہی نے متعارف کرایا جو ہماری بلدیاتی تاریخ کا اتنا مربوط اور موثر نظام مانا جاتا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ہمارے حکمرانوں نے تو بددیانتی سے بلدیاتی نظام کے بجائے کمشنری نظام رائج کرنے کی سازشیں شروع کردیں اور ایڈمنسٹریٹر کا نظام قائم کردیا۔ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ جمہوریت کے یہ چیمپئن انگریزوں کے چھوڑے ہوئے اس بیورو کریٹک کمشنری نظام پر اصرار کرتے رہے ہیں جسے انگریزوں نے اپنی حکمرانی اور اختیارات کی مرکزیت کے لیے روشناس کرایا تھا۔ہماری سیاسی اشرافیہ اگر بلدیاتی نظام کی مخالفت کرتی  رہی ہے اور کمشنری نظام پر اصرار کرتی رہی ہے تو اس کی یہ پالیسی سمجھ میں آجاتی ہے کہ وہ صوبائی حکومتوں کے اقتدار میں تقسیم کو پسند نہیں کرتی اور اقتدار کلی کی مالک بنی رہنا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے اسے یہ ڈر بھی لاحق ہے کہ خاندانی حکمرانیوں کے ذریعے اس نے سیاست اور اقتدار پر جو ناجائز قبضہ جما رکھا ہے، بلدیاتی نظام سے اسے خطرہ لاحق ہوجائے گا اور نچلی سطح سے سیاسی قیادت کے ابھرنے کے امکانات پیدا ہوجائیں گے۔لیکن عوامی سیاست کرنے والوں اور عوام کی طاقت پر بھروسہ کرنے والوں کو تو بلدیاتی نظام سے ہرگز خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر یہ مڈل کلاس اپنی بے عملی، سیاسی بصیرت کی کمی، منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے یہ خطرہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں بلدیاتی انتخابات میں عوام کی پذیرائی حاصل نہیں ہوگی تو اس کا علاج سرگرم منصوبہ بند اور عوامی منشور کی سیاست ہے نہ کہ بلدیاتی انتخابات کی مخالفت۔انتظامیہ کی مکمل ناکامی کے بعد بلدیاتی نظام ہی ایک ایسی امید ہے جو گلی محلوں تک پھیلی ہوئی اور تیزی سے مضبوط ہوتی ہوئی شدت پسندی اور دہشت گردی کے آگے ایک مضبوط دیوار بن سکتا ہے۔ اشرافیہ نے کرپشن کو جس طرح اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری زندگی کا ہر شعبہ کرپشن زدہ ہو کر رہ گیا ہے۔ اگر بلدیاتی نظام بھی کرپشن سے کسی حد تک آلودہ تھا تو اس نظام میں عوام کی براہِ راست شرکت اور علاقائی سطح پر جواب دہی کی وجہ سے اس نظام میں موجود خرابیوں کے دور ہونے کی قوی امید بھی موجود تھی۔ ناظمین کے نظام میں چھوٹی موٹی خرابیوں کی موجودگی کو بہانہ بنا کر ہماری اقتدار مافیا نے اس کا خاتمہ ہی کر دیا یہ کوئی راز نہیں بلکہ یہ شرم ناک حقیقت ہے کہ یہ باری باری چہرے بدل بدل کر اقتدار میں آنے والی کم ذاتیہ نہیں چاہتی کہ اس کے اقتدار کلی میں کمی آئے۔ سیاستدانوں کے لئے کسی بھی کام کو بلاسبب طول دینا جائز اور بعض اوقات فرض عین کا درجہ رکھتا ہے۔بلدیاتی اداروں کی وجہ سے ممبران اسمبلی کا زیادہ تر کام قانون سازی تک محدود ہو کررہ جاتا ہے اور  ان کے لیے اپنی انتخابی مہم کے دوران لٹائی ہوئی دولت کو پورا کرنا ذرا دشوار ہو جاتا ہے۔وہ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ بلدیاتی نظام خصوصا ناظمین کے نظام کی وجہ اس کے صوبائی اختیارات نہ صرف چھن جاتے ہیں بلکہ سیکڑوں ناظمین کو کنٹرول کرنا ان کے بس سے باہر ہوجاتا ہے جب کہ ایک کمشنر اور چند ڈپٹی کمشنروں کو قابو میں رکھنا ان کے لیے انتہائی آسان ہوتا ہے اور ان بیوروکریٹس سے یہ مافیا اپنی مرضی کے کام کرواسکتی ہے، چونکہ کمشنر عوام کے سامنے نہیں بلکہ صوبائی حکمرانوں کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں، لہذا فطری طور پر ان کی وفاداریاں صوبائی حکمرانوں کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہیں۔ بلدیاتی نظام کی مخالفت درمیانہ طبقات سے تعلق رکھنے والے وہ سیاست دان اور صوبائی حکمران بھی کرتے ہیں جو عوامی سیاست کے دعوے دار ہیں اور عوام کو قوت کا سرچشمہ کہتے نہیں تھکتے۔ ان احساس کمتری کے مارے ہوئوں کو یہ خطرہ لاحق ہوتا ہے کہ بلدیاتی نظام کیلئے ہونے والے انتخابات ان کی سیاسی حیثیت کا پردہ چاک کردیں گے۔بہرحال ہم امید رکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات بتائے گئے شیڈول کے مطابق انعقاد پذیر ہوں گے۔