89

گلگت بلتستان میں زراعت کا فروغ


چین گلگت بلتستان میں زراعت کے فروغ کیلئے تعاون کرے گا'پاکستان میں چینی سفارتخانے کے کمشنر برائے زراعت گووین لینگ نے کہا زراعت کی تری کے لیے دونوں ممالک کی حکومتوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔کون نہیں جانتا کہ زراعت انتہائی اہم شعبہ ہے جو کسی بھی ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا کی آبادی میں تیزی سے ہونے والے اضافے نے سائنس دانوں کو فارمنگ کے ایسے طریقوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا ہے جنہیں استعمال کر کے نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جائے، بلکہ زراعت کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔اس وقت دنیا کی آبادی سات ارب ستر کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے، اور یہ سالانہ ایک اعشاریہ بارہ فی صد کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ دی اسٹیٹ آف فوڈ سیکیورٹی اینڈ نیوٹریشن ان دی ورلڈ کے عنوان سے جاری ہونے رپورٹ کے مطابق دنیا کے آٹھ کروڑ بیس لاکھ افراد پیٹ بھر کر کھانے سے محروم ہیں، ایک طرف لوگوں کو پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں تو دوسری جانب دنیا کا ایک خطہ بھی ایسا نہیں جو موٹاپے اور زائد وزن کی وبا سے متاثر نہ ہو۔اس لیے مستقبل میں غذائی قلت سے بچنے کیلئے خوراک کی پیداوار کو بڑھا کر سترسے اسّی فی صد تک لے جانا ہوگا۔مویشیوں کی افزائش اور فصلوں کے لیے زمین درکار ہے اور ہم پہاڑوں کی چوٹیوں، برفانی علاقوں اور صحرائوں کو چھوڑ کر زمین کا ممکنہ حد تک رقبہ استعمال کرچکے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ بنی نوع انسان بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے سطح زمین کا چالیس فی صد سے زائد باغات، کھیت کھلیان اور مویشیوں کی گلہ بانی کے لیے مختص کرچکا ہے، غذائی ضروریات پوری کرنے کے چکر میں انسانوں نے کرہ ارض کا پورا ماحولیاتی توازن متاثر کرکے آبی اور جنگلی حیات کو معدومی کے خطرے سے دوچار کردیا ہے۔اگر ہم اجناس کے حصول کے لیے اسی طرح ماحول کو تباہ کرتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب انسانوں کے لیے قابل رہائش جگہ کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔ زراعت بھی ماحولیاتی مسائل سے جڑا اہم مسئلہ ہے۔ ان انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی شکل میں بھی سامنے آرہا ہے۔ موسموں میں ہونے والی شدت پیداوار میں کمی کا موجب بن رہی ہے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق زراعت سے پیدا ہونے والی نان کاربن ڈائی آکسائیڈ گرین ہائوس گیسز کی شرح اس وقت انیس سے انتیس فی صد تک ہے اور اگر اس پر قابو نہیں پایا گیا تو اس میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔پاکستان، بنگلادیش، بھارت اور جنوب ایشیائی خطے کے بہت سے ترقی پذیر ممالک میں آج بھی کسان کھیتی باڑی کے لیے قبل مسیح کے زمانے کے طریقے اپنائے ہوئے ہیں، وہ آج بھی ہل چلانے کے لیے بیلوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ ہم دنیا بھر میں صرف کھیتی باڑی کے جدید طریقے اپناکر بھی زیادہ اجناس حاصل کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں کراپ روٹیشن ایک زمین پر مختلف فصلیں اگانا، تاکہ اسے بنجر ہونے سے بچایا جاسکے سے زراعت کے میدان میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔ کسی تعطل کے بغیر ایک ہی زمین پر مسلسل ایک ہی فصل اگانے سے پودے مٹی میں موجود تمام نائٹروجن کھاکر زمین کو بنجر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل بہت سادہ ہے کہ یا تو زمین کو کھاد کی شکل میں زیادہ سے زیادہ نائٹروجن فراہم کی جائے یا پھر زمین پر اگلی فصل اس وقت تک کاشت نہ کی جائے جب تک مٹی دوبارہ جان نہ پکڑ لے۔ ان دونوں طریقوں سے زیادہ اچھی فصل پیدا ہوگی، تاہم فرٹیلائزر استعمال کرنے کا طریقہ کار دیہی علاقوں میں کاشت کاری والے چھوٹے کسانوں کے لیے تھوڑا منہگا ہے۔یورپ میں آنے والے صنعتی انقلاب کے بعد بڑھتی آبادی کی غذائیت پوری کرنے کے لیے ایک طویل عرصے تک شکرقندی کو بنیادی اناج کے طور پر فراہم کیا گیا۔ شکر قندی اور آلو کی انہی خصوصیات کی بنا پر چینی حکومت نے آلو کو قومی غذا کا حصہ بنانے اور 2008میں اسے مستقبل کی غذا قرار دیا گیا تھا اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ ایف اے او بھی مستقبل میں غذائی قلت سے بچنے کے لیے دنیا بھر میں آلو کی کاشت کرنے والے کسانوں کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ لہذا ہمیں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے زراعت کے طریقہ کار میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ماضی میں غذائی سائنس دان زراعت کو بہتر بنانے کے بہت سے طریقوں پر کام کرتے رہے ہیں، یہ 1940کے وسط کی بات ہے جنوب وسطی میکسیکو میں آبادی کے بڑھنے سے اناج کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہورہا تھا۔ نارمین نے زیادہ پیداوار اور بیماریوں کے خلاف مدافعت رکھنے والے بیج کسانوں میں تقسیم کیے۔کسان اس وقت حیرت زدہ رہ گئے جب انہوں نے بورلاگ کے بیج کو نائٹروجن کھاد کے ساتھ استعمال کیا اور فصل پہلے سے کہیں زیادہ آئی۔ نارمین کے اس طریقہ کار کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی اس عرصے میں میکسیکو میں گندم کی پیداوار چھے گنا بڑھ چکی تھی۔ 1960کے وسط میں نارمین نے جنوب ایشیائی خطے کا رخ کیا، جو بڑھتی ہوئی آبادی اور پیداوار میں عدم توازن کے سبب غذائی قلت کا سامنا کر رہا تھا۔ نارمین نے اپنے ری انجنیئر کیے گئے بیج جنوبی ایشیامیں متعارف کروائے۔ ان بیجوں سے پیدا ہونے والی فصل کے نتائج بہت ہی حیرت انگیز تھے۔ محض پانچ سال بعد ہی انڈیا اور پاکستان میں گندم کی پیداوار دگنی ہوچکی تھی۔1974تک یہ دونوں ممالک اناج کی پیداوار میں خودکفیل ہوچکے تھے۔ بورلاگ کا طریقہ کار جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی تیزی سے پھیل گیا۔ نارمین نے ایک ہی زمین پر سال ہا سال ایک ہی فصل اگانا اور نائٹروجن کھاد کے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی کی۔ ان دونوں سے مختصر مدت کے لیے زیادہ فصل تو حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن طویل عرصے ان کا استعمال زمین کی زرخیزی کو کم کر دیتا ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اب فارمنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی ناگزیر ہے، اب ہم ٹیکنالوجی کی مدد سے اسی قطعہ زمین پر ستر فی صد زیادہ کیلوریز پیدا کر سکتے ہیں۔ کم جگہ اور کم پانی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ اجناس کے حصول نے ایک نئی اپروچ کلائمیٹ اسمارٹ ایگری کلچر کو جنم دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خوراک اور زراعت کے مطابق اس اپروچ سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے ساتھ غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور زراعتی نظام، قدرتی مناظر، زرعی زمین، لائیو اسٹاک، جنگلات اور ماہی پروری کو زیادہ بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔کسانوں میں قحط، طاعون، بیماریوں اور دیگر صدمات کی زدپذیری میں کمی کرنے اور مختصر سیزن، خراب موسم جیسے طویل المدتی ذہنی دبائو کا سامنا کرتے ہوئے پیداواری گنجائش میں اضافہ کرتے ہوئے فصلیں اگانے میں بہتری لانا۔پیدا ہونے والی فی کلو یا فی حرارہ پیداوار پر حرارت میں کمی کی کوشش کرنا، جنگلات کے کٹائو کی روک تھام اور ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مضر گیسوں میں تخفیف کے لیے نئے طریقوں کی شناخت۔زراعت میں بہتری لانے کے لیے ماضی میں کئی اصول اور ٹیکنالوجیز اپنائی گئیں۔عالمی بینک اس وقت کلائمیٹ اسمارٹ ایگری کلچر کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے اور اپنے کلائمیٹ چینج ایکشن پلان کے تحت ان ممالک کے ساتھ کام کر رہا ہے جو کلائمیٹ اسمارٹ ایگری کلچر کے درج بالا تین اہداف کے ساتھ پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ چین میں شروع ہونے والے عالمی بینک کے ایک پراجیکٹ انٹیگریٹڈ ماڈرن ایگری کلچر ڈیولپمنٹ پراجیکٹ سے سی ایس اے کے پھیلائو میں مدد ملی ہے۔چوالیس ہزار ہیکٹر زرعی زمین میں پانی کے بہتر استعمال اور نئی ٹیکنالوجی سے مٹی کی زرخیزی میں اضافہ ہونے سے چاول کی پیداوار میں بارہ فی صد اور مکئی کی پیداوار میں نوفی صد اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان کو زرعی مصنوعات میں خود کفیل کرنے کا اہتمام کیا جائے اور اس شعبے پر بھرپور توجہ مرکوز کی جائے۔