26

گلگت بلتستان کوصوبہ بنانے پرفضل الرحمن کاپھراعتراض

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عوام کہہ رہے ہیں پرانے چوروں کو واپس لاو تاکہ روٹی تو ملے ،اب ہم اس ملک میں اداروں کی بالادستی کو تسلیم نہیں کریں گے اور یہاں عوام کی بالادستی ہوگی، آج فیصلہ کن وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے مالک اس کے عوام ہیں یا کچھ طاقت ادارے ہیں، بلوچستان کے عوام دھاندلی کی پیداوار حکومت کو مسترد کرتے ہیں، اس ملک میں عوام کی مرضی کی حکومت قائم ہو کر رہے گی، یاد رکھیں عمران خان کو جانا ہی ہے، یہ ایک غیر متعلقہ شخص ہے، جعلی حکومت اورجعلی وزیراعظم کو عقل نہیں ہے، اس کا تو کوئی نظریہ ہی نہیں ہے ، ہم نے پاکستان کو امریکی کالونی نہیں بننے دینا ،پاکستان کو دنیا میں آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر متعارف کروانا ہے، ہمارا اپنا ملک ہے اور ہمیں اپنے ملک کے حوالے سے سے سوچنا ہے، ہمارے حکمرانوں میں خود اعتمادی نام کی کوئی چیز نہیں، اگر انہیں پاکستان کالونی نظر نہ آتا تو یہ اوٹ پٹانگ باتیں نہ کرتا، کبھی امریکا کے نظام کی بات کرے اورکبھی چین کے نظام کی بات کرے۔ بدھ کو سربراہ پاکستان ڈیمو کریٹک کے سربراہ فضل الرحمان نے لورالائی میں جلسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم الشان اجتماع اس بات کی گواہی ہے کہ بلوچستان کے عوام دھاندلی کی پیداوار حکومت کو مسترد کرتے ہیں، ووٹ چوری کر کے آنے والی حکومت کو قوم پر مزید مسلط ہونے کا حق حاصل نہیں ہے اور ہم یہ غصب کیا ہوا حق واپس لے کر رہیں گے اور اس ملک میں عوام کی مرضی کی حکومت قائم ہو کر رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جنگ جمہوری فضائوں کی بحالی کیلئے ہیں، ہماری جنگ آئین کی پاسدار، پارلیمان کی بحالی اور قانون کی عملداری کیلئے ہے، اس مقصد کیلئے تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم میں ہیں اور پوری قوم ساتھ ہے، کشمیر سے الگ کر دیا ہے، جی بی کی آبادی 13لاکھ ہے اور صوبہ بنایا جا رہا ہے جبکہ قبائل کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے بھی زیادہ ہے لیکن صوبہ نہیں دیا جا رہا ہے، یہ حکومت جس طرح کے فلسفے بنا رہی ہے وہ اس طرح گلی کوچے کا احمق بھی نہیں بولتا ہے۔