79

گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کیلئے قائم کمیٹی کا پہلا باقاعدہ اجلاس11مارچ کو طلب

اسلام آباد( غلام عباس سے) گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کیلئے  قائم کمیٹی  کا پہلا باقاعدہ اجلاس11مارچ کو طلب کر لیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے جی بی کی آئینی حیثیت پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی 29دسمبر2020ء کو بنائی تھی ۔ کمیٹی کے قیام کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ یہ کمیٹی 60دن کے اندر اندر اپنی تجاویز مکمل کرکے پیش کریگی لیکن 60دن پورے ہوچکے ہیں اور  ستر دن کے بعد کمیٹی کا پہلا اجلاس بلایا گیا ہے۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں تحریک انصاف کو برتری حاصل ہونے کے بعد گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال وزیر اعظم عمران خان نے جی بی کی آئینی حیثیت پر سفارشات مرتب کرنے کیلئے 12رکنی کمیٹی بنائی تھی، وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں قائم کمیٹی میںوفاقی وزیر قانون، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان،اٹارنی جنرل آف پاکستان، سیکرٹری  خارجہ، سیکرٹری فنانس،سیکرٹری پارلیمانی امور، سیکرٹری کشمیر افیئرز، چیف سیکرٹری گلگت بلتستان اور سکیورٹی اداروں کے نمائندے جبکہ جی بی کونسل کے جوائنٹ سیکرٹری شامل ہیں کمیٹی کے ٹی او آر کے مطابق گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کیلئے  اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں سفارشات مرتب کرنا تھیں اس کیلئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سترہ جنوری دو ہزار نو کے فیصلے کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کمیٹی کوساٹھ دن کے اندر اپنی سفارشات کو فائنل کرنا تھا ۔ تاہم کمیٹی کے قیام کو ساٹھ دن گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک باقاعدہ اجلاس بھی نہ ہو سکا تھا، اب تاخیر کے بعد گیارہ مارچ کو پہلا باقاعدہ اجلاس بلایا گیا ہے جس میں جی بی کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز و آراء کا جائزہ لیاجائے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال دو نومبر کو گلگت بلتستان کے یوم آزادی کے موقع پرگلگت میں مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے جی بی کو باقاعدہ عبوری صوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ بعد میں جی بی کے عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف کی نومنتخب حکومت کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے عبوری صوبہ بنانے کیلئے کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا ۔