42

گلگت بلتستان کی بہتری کے اقدامات کی یقین دہانی

گلگت بلتستان کے صوبائی وزرائ'سینئر وزیر برائے جنگلی حیات و ماحولیات راجہ زکریا، وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حاجی شاہ بیگ، وزیرسیاحت راجہ ناصر،مشیربرائے خوراک شمس لون ، وزیر بلدیات عبدالحمید ، وزیر صحت گلبرخان ،معاون خصوصی برائے آبادی حیدرخان نے وفاقی وزیر امورکشمیر وگلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پور سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ملاقات میں گلگت بلتستان میں ترقیاتی عمل اور اس ضمن میں مستقبل کی حکمت عملی سے متعلق تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں دیرپا ترقی اور خوشحالی کے لیے وفاقی حکومت اور گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرے گی ۔  وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق گلگت بلتستان میں تعلیم و صحت،سیاحت اور ہائیڈل پاور کے شعبے پر بھرپور توجہ دی جائے گی اور گلگت بلتستان میں ترقی و خوشحالی کی ٹھوس بنیاد رکھی جائے گی۔ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے سی پیک کے تحت گلگت  میں اکنامک زون کے قیام کے لیے زمین اکوائر کرلی ہے اور اس پر کام جلد شروع کیا جائے گا۔حکومت سیاحت، تعلیم وصحت کے شعبوںمیں اربوں روپے کے فنڈز فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے ان شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی جس سے عوام کو بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ روزگار کے بہترین مواقع بھی میسر آئیں گے۔ وفاقی وزیر کی یقین دہانی خوش آئند ہے 'دنیا بھر میں تعلیم و صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، بجٹ کا ایک بڑا حصہ مختص کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں ان ہی دو اہم شعبوں کی جانب سے چشم پوشی برتی جاتی ہے۔ ملک میں صحت و تعلیم کے شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں۔ سرکاری سکولوں کی حالت زار تو ایک طرف نجی تعلیمی مراکز بھی محض پیسہ کمانے کا ذریعہ بن گئے ہیں، تعلیم کو کاروبار بنانے کے رجحان نے فیسوں میں ہوشربا اضافہ تو کردیا لیکن تعلیمی معیار گرتا جا رہا ہے۔ اس پر مستزاد ملک میں صحت کی سہولیات بھی عنقا ہوتی جا رہی ہیں۔صحت اور تعلیم لازمی انسانی حق ہے جبکہ شہریوں کی صحت مند زندگی ریاست کی ترجیح ہونی چاہیے، تعلیم اور صحت کو کاروبار بنالیا گیا، چند کمروں کی عمارتوں میں میڈیکل کالجز کھلے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں تعلیم کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم الف اعلان کے مطابق ملک بھر میں ڈھائی کروڑ بچے سکول جانے سے قاصر ہیں۔ یہ پاکستان میں بچوں کی آبادی کا تقریبا نصف حصہ ہے۔ باقی جو بچے سکول جاتے بھی ہیں، ان کو فراہم کی جانے والی تعلیم بھی کچھ زیادہ معیاری نہیں ہے۔ تنظیم کا دعوی ہے کہ اڑتالیس فیصد اسکولوں کی عمارتیں خطرناک اور خستہ حال ہیں، جن کو فرنیچر، ٹوائلٹس، چار دیواری، پینے کے صاف پانی اور بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اٹھارہ فیصد اساتذہ عموما سکولوں سے غیر حاضر رہتے ہیں۔صحت اور تعلیم جیسے شعبوں پر پاکستان غریب افریقی ملک کانگو سے بھی کم خرچ کرتا ہے ۔ پاکستان میں صحت وتعلیم پر بہت کم خرچ کیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش، بھارت اور سری لنکا ان شعبوں پر پاکستان سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ اور ملک ترقی نہیں کرسکتا،تعلیم کیلئے بھی انسانی جسم اور ذہن کا تندرست وتوانا ہونا ضروری ہے بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کیلئے صحت اور تعلیم کے شعبے ترجیحات میں آخری نمبروں پر رہے ہیں۔سرکاری اعداوشمار کے مطابق شرح خواندگی پچاس فیصد سے زیادہ بتائی جاتی ہے ان تعلیم یافتگان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو محض اپنا نام ہی لکھنا جانتے ہیں۔عوام کو حقیقت میں تعلیم یافتہ بنانے کیلئے ہر سطح پر ایک کمٹمنٹ اور عزم و ارادے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو تعلیم کے معیار میں بہتری اور فروغ کیلئے ایسی جامع پالیسی تیار کرنے کی ضرورت ہوگی جو ملک بھر میں یکساں ہو، کیونکہ بانی پاکستان محمد علی جناح نے بھی تعلیم کو اہمیت دیتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیم و تربیت ہمارے ملک کی ترقی و کامیابی کے لئے زندگی وموت کا معاملہ ہے۔ فروغ تعلیم کے اقدامات سے معاشرے میں مثبت تبدیلی رونما ہوتی ہے ،اس طرح اعلی انسانی اقدار پروان چڑھتی ہیں جس سے تمام طبقات کو فائدہ پہنچتا ہے۔اکیسویں صدی میں اتنے بچوں کو آئینی ذمہ داری کے باوجود تعلیمی سہولتوں سے محروم رکھنا کسی مہذب ریاست کو زیب نہیںدیتا؟ اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں کے مطابق پاکستان کو اپنی قومی پیداوار کا چار سے چھ فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔ لیکن ہم ڈھٹائی سے مجموعی قومی پیداوار کا صرف دو اعشاریہ آٹھ فیصد تعلیم جیسے اہم شعبے پر خرچ کرتے ہیں۔ یہ معمولی رقم نہ صرف بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر مزید تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے ناکافی ہے بلکہ مجموعی طور پر تعلیم کے معیار پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔حکومتی بے توجہی کے باعث نجی سرمایہ کاروں نے اس میدان میں قدم رکھا لیکن اس میں بہت سارے ایسے سرمایہ کار بھی شامل تھے جن کا تعلیم کے شعبے سے کوئی تعلق نہ تھا۔ انہوں نے اسے محض ایک کاروبار سمجھا اور اپنی توجہ بہتر تعلیمی سہولتیں مہیا کرنے کی بجائے صرف پیسہ بنانے پر مرکوز رکھی۔ اس سرمایہ کاری سے تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ تو ہوا مگر تعلیمی معیار کافی نیچے چلا گیا۔ تعلیمی شعبے میں مسلسل بے توجہی کی وجہ سے پاکستان ابھی تک ایک تعلیم یافتہ ملک کے طور پر ابھر نہیں سکا۔ درحقیقت یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کے میدان میں بھی اقوام عالم میں ہماری کوئی خاص حیثیت نہیں ہے۔ یہ مایوس کن صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ اس مسئلہ پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دی جائے اور اپنی آئندہ نسلوں کو ناخواندگی کے چنگل سے آزادی دلائی جائے۔ ہماری بقا اسی میں ہے۔ اس گمبھیر اور  اہمیت کے مسئلے سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کی جائے۔ہمیں جوبچے جو سکول نہیں جا پا رہے انہیں سکول کی سہولتیں مہیا کرنی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان بچوں کے والدین کو بھی ترغیب دینی ہوگی کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیں۔ چونکہ یہ والدین مالی وجوہات، سکولوں کی دوری اور تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات کی وجہ سے بچوں کو سکول بھیجنے سے گریز کرتے ہیں تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایسی ترغیبی مہم چلانے کی ضرورت ہے جس سے والدین بچوں کو تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت دیں۔سکولوں کی کمی اور کئی مقامات پر فاصلہ بھی بچوں کے تعلیم حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔اساتذہ کی کمی کے علاوہ ایک ہی استاد کا ایک ہی کلاس میں مختلف درجات کے طالب علموں کو پڑھانے سے طالب علموں کے پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اس سے استاد کے لیے تمام طالب علموں کو ان کے درجے کا نصاب پڑھانے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔ اساتذہ کی غیر تسلی بخش علمی معلومات بھی تعلیمی معیار کو متاثر کر رہی ہیں۔۔ان تمام مسائل کی طرف فوری توجہ نہ دی گئی تو ہمارے ہاں تعلیم کے معیار میں مزید کمی آئے گی اور ہمارے بچے مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیتوں سے مکمل طور پر محروم ہوجائیں گے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ مناسب اقدامات کے ذریعے اس انحطاط کے سفر کو روکا جائے۔ یہ سفر رک سکتا ہے اگر اساتذہ کی بھرتی میں سیاسی اثر و رسوخ کو ختم کیا جائے۔ اچھی تنخواہوں کے ساتھ بہتر اور قابل اساتذہ اس زوال کے سفر کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ تعلیم میں تنخواہوں کی مد کے علاوہ مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جس سے سکولوں کے بنیادی ڈھانچوں میں بہتری لائی جا سکے۔گلگت بلتستان میں تعلیم و صحت کے لئے فنڈنگ میں اضافہ یقینا مثبت نتائج کا حامل ہو گا لیکن ضرورت اس امر کی ہے اس دو شعبوں میں مطلوبہ اہداف حا صل کئے جائیں۔ ایسی صورتحال میں سول سوسائٹی میں تعلیم وصحت کے شعور کو عام کیا جانا ضروری ہے، کیونکہ یہ انسان کا بنیادی حق ہے اور اسی سے قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔ بدنصیبی یہ ہے کہ ہمارے یہاں اب تک تعلیم وصحت پر کوئی جامع پالیسی مرتب نہیں ہوئی، جبکہ قائد اعظم نے باقاعدہ طور پر تعلیم وصحت کی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جس کا خاص مقصد یہ تھا کہ وہ تعلیم اور صحت کیلئے ایک جامع پالیسی مرتب کرے۔ اگر حکومت سیاسی طور پر پختہ ارادہ کرلے تو کوئی وجہ نہیں کہ تعلیم و صحت میں بہتری نہ ہو لیکن مسئلہ صرف فنڈز کے کم یا زیادہ ہونے کا نہیں بلکہ اس کے موثر استعمال کا بھی ہے۔