35

گلگت بلتستان کی ترقی کیلئے خوش آئند رابطے

وزیراعلی گلگت بلتستان محمد خالد خورشید خان نے گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی صحت اور تعلیم کے شعبے کی بہتری اور خوشحالی لانے کے لئے دوست ممالک سے رابطے اورکوششیں تیز کر دی ہیں اس ضمن میں انہوں نے ترکی کے سفیر احسان مصطفی یردوکل اور پاکستان میں ترکی کی جانب سے صحت تعلیم اور زراعت کے شعبے میں مدد کرنے والی تنظیم ٹیکاکے کنٹری ہیڈ سے ملاقات کی ۔ ترکش حکومت پاکستان کے دیگر صوبوں کے ساتھ ساتھ ماضی میں بھی گلگت بلتستان میں مختلف شعبوں میں ترقی اور بہتری لانے کے لئے کردار ادا کرتی رہی ہے لہذا ہماری حال ہی میں برسر اقتدار آنے والی حکومت کو ترکی اور دیگر دوست ممالک سے کافی توقعات وابستہ ہیں اس خطے میں تمام تر قدرتی وسائل ہونے کے باوجود عوام کا طرز زندگی معیاری نہیں ہے اس ضمن میں ہمیں صحت،تعلیم اور زراعت کے شعبوں میں بہتری لانے کے لیے ترکش حکومت  کے تعاون کی اشد ضرورت ہے ترکی کے تعاون سے ہم زراعت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے بھی رہنمائی اور مدد درکار ہے وزیر اعلی نے ترکش سفیر سے گلگت بلتستان کے اعلی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کے لیے ترکی کی جامعات میں داخلوں میں آسانی اور سکالر شپ دینے کی بھی سفارش کی،ترکش سفیر نے جامعات میں طالب علموں کے داخلے اور سکالر شپ کی فراہمی میں بھی مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید خان نے یو این ڈی پی کے اعلی سطحی وفدکے ساتھ ہونے والے اجلاس کی صدارت کی اور کہا ہمیں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیئے بجلی کے منصوبے لگانے کی مد میں مدد فراہم کی جائے گلگت بلتستان کے بجلی صارفین کو ہم سولر انرجی کی سہولت ہنگامی بنیادوں پر فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس ضمن میں ہمیں مدد کی ضرورت ہے ' ترکی کے ساتھ تعلیم اور صحت کے شعبوںمیں تعاون سے یقینا مثبت نتائج برآمد ہوں گے کون نہیں جانتا کہ1980اور1990 کی دہائی تک ترکی کا حال بھی پاکستان سے کوئی مختلف نہیں تھا۔ معیشت، سیاست،معاشرت، صحت، تعلیم، ہر شعبہ روبہ زوال تھا اور بہتری کے کوئی حالات نظر نہیں آرہے تھے، لیکن پھر دو چیزوں نے ترکی میں معجزہ کر دکھایاایک ترکی میں تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی، سب سے زیادہ بجٹ تعلیم کے شعبے کیلئے مختص کیا گیا۔ دوسرا ترک عوام اور معاشرے میں ملک اور وطن کی بہتری اور ترقی کا احساس اجاگر کیا گیا۔ اس احساس نے حب الوطنی کے جذبات کو ابھارا اور ترک معاشرہ اچھے اور برے کی تمیز کرنے لگا۔ حکومت نے معیشت کو سنبھالا، تاجروں، سرمایہ کاروں اور کاروباری حضرات کو اعتماد میں لے کر اپنی نئی حکمت عملی بنائی۔ تعلیم، عوامی شعور اور اقتصادی بہتری نے ترکی کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا، جس کا سفر اب بھی جاری ہے۔ ترک عوام اچھے اور برے کی تمیز کر چکے ہیں، کون ملک کے لئے بہتر سوچ رہا ہے اور کون ملک کے لئے نہیں بلکہ اپنے ذاتی اور محدود مفاد کے لئے کام کر رہا ہے، سب جان چکے ہیں۔ لوگوں کو علم ہے کہ فلاں شخص محب وطن اور فلاں شخص خود غرض اور اقتدار و مال کا پجاری، لہذا وہ ووٹ سوچ سمجھ کر دیتے ہیں، برادری اور ذاتی مفاد کے لئے نہیں۔ یہی ترکی کی ترقی کا راز ہے واقعی جس قوم کے افراد کو اپنے اچھے اور برے کا پتہ چل جائے، جو ووٹ کی اہمیت کو جان چکے ہوں، تعلیم یافتہ اور باشعور ہوں تو ایسی قوم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتی ہے اور اس کا مستقبل روشن ہو جاتا ہے۔ ترکی کی ترقی سے بہت سے اسباق سیکھے جا سکتے ہیں۔ سیاست ہو یا معیشت، تعلیم، معاشرت، حب الوطنی، دہشت گردی کے خلاف جنگ، سفارت کاری، برداشت، احساس ذمہ داری یا عوام کی خدمت غرض بہت سے شعبوں میں ہم ترکی سے سیکھ کر اپنا قبلہ درست کر سکتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ترکی، اس کی قیادت اور اہلِ ترکی اپنا علم اور تجربہ پاکستان سے شیئر کرنے پر آمادہ ہیں۔  زراعت کے شعبے میں شرح نمو کے لحاظ سے یورپ میں  ترکی دوسرے نمبر پر ہے اس نے زراعت کے شعبے میں  ترقی کے لحاظ سے  بہت سے  یورپی ممالک کو   پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ترک صدر اردوان کا کہنا ہے دنیا بھر کو اسیر بنانے والے کورونا وائرس  کے باوجود سال 2020 میں بھی ہم نے خدمات کے شعبے میں کسی قسم کی رعایت سے کام نہیں لیا، ہم ترک قوم کی صحت کے ساتھ ساتھ ان  کی روزی اور کھانے پینے کا تحفظ کرنے کیلئے تمام تر سرکاری امکانات کو بروئے کار لائے۔ترک صدر2021 کو ہر میدان میں ترقی کرتے ہوئے پروان چڑھانے کے خواہاں ہیں۔ جس کے لیے وسیع پیمانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ترکی کی صحت کی خدمات کو دنیا کے بہترین اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پچھلے بیس سالوں میں ، ملک کی مضبوط معیشت اور طبی بنیادی ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے۔ ملک کے مراکز میں جدید اسپتالوں اور جدید ترین طبی آلات رکھنے کے علاوہ ، چھوٹے علاقوں کے اسپتالوں میں بھی شہروں کی طرح بڑے پیمانے پر خصوصی سامان موجود ہے۔ تعلیمی ادارے طب کے شعبے میں پیشہ ور ماہرین کی تربیت کرتے ہیں۔ ترکی میں مقیم غیر ملکیوں کی صحت انشورنس لازمی ہے ، اور غیر ملکی تقریبا ہر خطے میں بہترین صحت کی دیکھ بھال کرسکتے ہیں۔ترکی کئی سالوں میں اپنے بڑے منصوبوں اور بڑھتی ہوئی معیشت کے حامل سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی طرف راغب کررہا ہے جو سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ سرکاری منصوبے ، جو کی جانے والی سرمایہ کاری کی تعریف اور نمو میں کردار ادا کرتے ہیں ، وہ سرمایہ کاروں کے حق میں ماحول پیدا کرتے ہیں۔مرمری پروجیکٹ ، وزارت ٹرانسپورٹ کے ذریعہ تیار کیا گیا ، پانی کے اندر اندر سرنگ ہے جو یورپی اور ایشین براعظموں کو ملاتی ہے۔استنبول ہوائی اڈہ دنیا کے سب سے بڑے ہوا بازی کے مراکز میں سے ایک ہے۔ باسفورس سمندری کنارے کے تحت تعمیر کیا گیا ، یوریشیا ٹنل پروجیکٹ پل ٹریفک کو بہت حد تک راحت بخش دیتا ہے۔ یاوز سلطان سلیم پل ، جو ایشیا اور یورپ کو ملانے والا تیسرا پل ہے ، دنیا کا آٹھواں لمباپل ہے اور اس نے استنبول میں رہنے والے لوگوں کے معیار زندگی کو بڑھا دیا ہے۔50 کلو میٹر طویل کینال استنبول پروجیکٹ ، جو بحیرہ اسودیبل سے شمالی یورپ کی طرف سے جنوب میں مارمارہ بحیرہ کے ساتھ جڑ جائے گا۔ ملک میں بڑے منصوبوں کے ساتھ ، نقل و حمل کے معاملات میں زندگی آسان ہوجاتی ہے جسے ترکی میں رہنے کے لئے ایک اہم ترین وجہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ ایک ہی وقت میں ، موجودہ چھ انڈسٹری زون کے علاوہ پندرہ نئی صنعتوں کے قیام سے ، توقع کی جاتی ہے کہ یہ بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے ترکی میں سرمایہ کاری کو فائدہ مند بنائے گی۔ترکی کی اس ترقی سے گلگت بلتستان بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے اگر ترکی کے ساتھ مذکورہ شعبوں میں تعاون ہو جاتا ہے تو صحت'تعلیم اور زراعت کے شعبوں میں ترکی کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر گلگت بلتستان بھی ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔گلگت بلتستان اس وقت بدترین لوڈ شیڈنگ سے دوچار ہے جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے حالانکہ گلگت بلتستان سے پورے پاکستان کی بجلی کی ضروریات پورا ہو سکتی ہے لیکن اس جانب توجہ نہیں دی جا رہی اس کے لیے بھی مختلف ممالک سے معاہدے کیے جا سکتے ہیں یہاں تو بہتے پانی سے بھی باآسانی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہر آنے والی حکومت گلگت بلتستان میں بجلی کے منصوبے لگانے سے گریزکرتی ہے اور قیمتی قومی خزانہ آئی پی پیز سے مہنگی بجلی خریدنے پر صرف کر رہی ہے حالانکہ پانی سے کہیں زیادہ سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے' بھاشا ڈیم  کے منصوبے کی تعمیر کا وعدہ کرتے ہوئے متعدد حکومتیں اپنی مدت مکمل کر چکی ہیں لیکن انہیں ملکی ضروریات کا کوئی احساس نہیں ہے' اس لیے گلگت بلتستان کی حکومت کو اس حوالے سے پیشرفت کرتے ہوئے' یو این ڈی پی سے اگر اس بارے میں معاہدہ ہو جاتاہے تو گلگت بلتستان کی بجلی کی ضروریات پورا ہو سکتی ہیں۔