92

گلگت بلتستان:معدنیات کے سروے کا عندیہ

 وزیر اعلی گلگت  بلتستان خالد خورشید نے سٹریٹجک پلاننگ ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل کمرشل اینڈ آپریشن میجر جنرل ممتاز ملک سے ملاقات میںکہا ہے کہ گلگت بلتستان میں معدنیات کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ گلگت  بلتستان میں موجود معدنی وسائل سے استفادہ کرکے معیشت مستحکم ہوسکتی ہے۔ گلگت  بلتستان میں موجود معدنیات کے ذخائر کا مکمل سروے کرایا جائے گا ۔ محکمہ معدنیات کو ہدایت کی ہے کہ گلگت  بلتستا ن میں مختلف علاقوں میں لیز حاصل کرنے کے باوجود کام نہ کرنے والی کمپنیز کی لیز کینسل کردی جائے۔ سٹریٹجک پلانز ڈویژن کے تعاون سے گلگت میں معدنیات کے حوالے سے جدید لیبارٹری قائم کی جائے گی جس سے کمرشل مائننگ کو فروغ ملے گا۔ گلگت بلتستان کے طالب علموں کو معدنیات کے شعبے میں تربیت کے مواقع میسر ہوں گے ' معدنیات کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ بیرون ملک لیبارٹریوں کے بجائے گلگت  بلتستان میں ہی معدنیات کی لیبارٹری سے استفادہ کرسکیں گے۔ گلگت  بلتستان کے لوگوں کیلئے معدنیات کے شعبے میں تربیتی کورسز کرائے جائیں گے۔ یہ درست ہے کہ گلگت بلتستان کی سرزمین میں بے شمار معدنیات پوشیدہ ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر خطے میں بے روزگاری دور ہو اورخوشحالی در آئے۔سیکرٹری معدنیات گلگت بلتستان فرید احمد کہہ چکے ہیں کہ پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن سروے کے مطابق گلگت بلتستان میں قیمتی دھاتوں کے وسیع ذخائر موجود ہیں،جن کے ذریعے لیز ،رائلٹی، لائسنس اور دیگر فیسوں کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے کمائے جا سکتے ہیں انہوں نے کہا تھا کہ محکمہ معدنیات کی زیر نگرانی گلگت بلتستان کا انوینٹری میپ تیاری کے آخری مراحل میں ہے ،معدنیات کی غیر قانونی نقل وحمل کو روکنے کے لئے ضلع غذر،ہنزہ ،نگر اور ضلع دیامر میں خصوصی چیک پوسٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا ،اس کے علاوہ چلاس اور عالم برج پرمنرل چیک پوسٹ کا قیام جلد عمل میں لایا جائے گا ۔جیم سٹون کٹنگ اینڈ پالشنگ کرونگ کی تربیت کے لئے گلگت میں لیپڈری سنٹر کے لئے مشینری کی خریداری اور انسٹالیشن مکمل ہو چکی ہے جبکہ بلتستان ریجن کے لئے لیپڈری سنٹر کے قیام کے لئے اراضی حاصل کر لی گئی ہے ،اس کے علاوہ سکردو میں منرل کمپلیکس کے قیام کے لئے ضروری کارروائی جاری ہے ۔انہوں نے کہا تھا کہ ماہرین نے گلگت بلتستان میں سیمنٹ فیکٹری کے قیام کیلئے ابتدائی ہوم ورک تقریبا اسی فیصد مکمل کر لیا ہے جس سے سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر مستفید ہو سکیں گے۔یہ درست ہے کہ گلگت بلتستان میں بے شمار معدنی وسائل ہیں لیکن گزشتہ حکومتوں کی ناقص پالیسیزکے باعث اس شعبے سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔حالانکہ معدنیات کے شعبے کی ترقی گلگت بلتستان میں غربت کے خاتمے کے لئے بڑی سود مند ثابت ہو سکتی ہے۔گلگت بلتستان میں پائے جانے والے چند پتھربین الاقوامی سطح پر خصوصی اہمیت کے حامل ہیں اور دنیا کی چند بڑی کمپنیزان پتھروں کا استعمال اپنی پروڈکشن میں کر رہی ہیں۔روپانی فائونڈیشن نے اس شعبے سے متعلق گلگت بلتستان کے درجنوں افراد کی تربیت کی ہے جو ایک طرف پرکشش آمدن حاصل کر رہے ہیں۔جس طرح زراعت ہماری معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح زمین کی تہہ میں پوشیدہ قیمتی معدنیات اوردھاتیں بھی ملک کی معاشی و صنعتی ترقی میں بے پناہ اہمیت کی حامل ہیں۔اس کی مثال ریکو ڈیک سے دریافت ہونے والے سونے چاندی کے اربوں ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر اور پنجاب میں چنیوٹ رجوعہ ، کالاباغ ڈیم اور دیگر مقامات سے ملنے والے خام لوہے، کوئلے، تانبے اور دیگر قیمتی دھاتوں کی دریافت ہے۔ماضی میں معدنیات کی تلاش اور دریافت شدہ قیمتی دھاتوں کی بہتر اندازمیں مارکیٹنگ اور نجی شعبے کو سرمایہ کاری کے لئے راغب کرنے کی کوئی خاص سنجیدہ کوشش نظر نہیں آئی،گلگت بلتستان میں موجود معدنی ذخائر کی تلاش،پیمائش اورترقی ،نیز پٹہ جا ت کی عطائیگی، سروے، تحقیق و ترقی بشمول کانوں کے مالکان سے معاوضہ، کرایہ جات ' رائلٹی مزدوروں کی سیفٹی اور صحت کا خیال رکھنا چاہیے ۔یہاں کانوں اور معدنیات کی کھوج اور کھدائی کے فروغ و ترقی کے لئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھنی چاہیے تاکہ صوبے کی مجموعی پیداوار میں مثبت تبدیلی کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ سرزمین بیش قیمت معدنی ذخائر سے مالا مال ہے،مگر ماضی میں اس شعبے سے ناقابل یقین حد تک مجرمانہ سلوک روا رکھا گیا،تحقیق کے عمل کے ذریعے آئرن ، تانبے' دیگر معدنیات 'پتھروں اورقیمتی دھاتوں کی کامیاب دریافت کی جائے ۔ محکمہ معدنیات میں افرادی قوت کی ترقی'نئے مائننگ انجینئرز اور ماہرینِ ارضیات کی بھرتی کی جائے   ' مائننگ انجینئرز اور ماہرینِ ارضیات کی تربیت کااہتمام کیا جائے ۔معدنی سرمایہ کاری پر مختلف ورکشاپس کا بندوبست کرنا بھی ضروری ہے ۔شعبہ سے منسلک ملازمین کی فلاح و بہبودکیلئے بھی انتظامات کیے جائیں۔مائننگ کے شعبہ سے وابستہ مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے مائنز ریسکیو اینڈ سیفٹی ایریا سب اسٹیشن بنائے جائیں' کانوں میں چھت گرنے اور سیلابی ریلوں کے آجانے کے ساتھ ساتھ گیس والی آب و ہوا جیسی ہنگامی صورت حال سے نمٹا جا سکے۔یہ ریسکیو اسٹیشنز حادثات کے بعد زخمی و اپاہج مزدوروں کی زندگیاں بچانے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔معدنی ذخائر کی تلاش کے لئے محکمہ معدنیات و کان کنی کو جدید خطوط پر استوار کرنا از حد ضروری ہے ۔ معدنیا ت کی مارکیٹنگ اور اس شعبے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور محکمانہ استعداد کار میں اضافہ کے لئے ری سٹرکچرنگ کاعمل بھی لازم و ملزوم ہے ، تاکہ انویسٹمنٹ فرینڈلی اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ معدنیات کی تلاش کے کلچرکوفروغ دیا جا سکے ۔مائننگ کے شعبے کو ترقی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو اس شعبے میں تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ سرکاری سطح پر اس شعبے کو ترقی دینے کیلئے اقدامات کرنا بھی ضروری ہیں جس سے گلگت بلتستان سے غربت اور بیروزگاری میں نمایاں کمی آئے گی۔یہاں صنعتی معدن،کچ دھات، عمارتی پتھر اور جواہرات کے وسیع ذخائر ہیں۔جیم سٹون خوبصورتی، زیوارات اور سجاوٹ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ان میں وہ جیم اسٹون بھی ہیں، جو سجاوٹ کے لیے استعمال ہوتے ہیں،تعیمراتی کاموں میں استعمال کیے جاتے ہیں ۔ایسے قیمتی پتھر بھی ہیں  جو زیورات میں استعمال ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں جیم اسٹون کے ذخائر زیادہ تر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں ملتے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں جیم اسٹون کا کاروبارنوے ارب ڈالر سالانہ ہے لیکن پاکستان میں صرف دو لاکھ ڈالر سالانہ تک ہو تا ہے۔پاکستان میں جواہرات کے ذخائر سب سے پہلے1958میں دریافت ہوئے۔اسی کی دہائی میں ملک کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں بہت سی نئی اقسام دریافت ہوئیں۔ان علاقوں میں گلگت بلتستان ، دیر، چترال، ملاکنڈ، سوات وغیرہ شامل ہیں۔اسکے بعد سے کسی بھی ادارے کی طرف سے گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں کوئی جامع سروے نہیں کیا گیا۔جسکی وجہ سے ذخائر کا صحیح تخمینہ نہیںلگایا جا سکا۔ایسے میں حکومت گلگت بلتستان کی ذمہ داری ہے کہ اس شعبے پرسنجیدگی سے توجہ دے محکمہ معدنیات کی فعالیت کو یقینی بنائے اور حکومتی سرپرستی میں ان ذخائر کیلئے از سرنو ارضیاتی سروے کرایا جائے تاکہ ان قدرتی وسائل کا کھوج لگا کر گلگت بلتستان کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے وفاقی حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس ضمن میں مطلوبہ فنڈز اور سہولیات فراہم کرے۔ یہ وقت محض اعلانات'دعوئوں اور وعدوں کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے کیونکہ ہم پہلے ہی بہت وقت ضائع کر چکے ہیں۔