50

گلگت بلتستان کی عوام اداروں کی مضبوطی ،عدلیہ ،آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے،جی بی اسمبلی

گلگت(خصوصی رپورٹ)گلگت  بلتستان اسمبلی نے ایک قرارداد کی کثریت رائے سے منظوری دی ہے جس میں وزیراعظم پاکستان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیاگیا ہے قراردا میں کہا گیا ہے گلگت  بلتستان کا یہ مقتدر ایوان وزیراعظم پاکستان عمران خان کی پر عزم اورولویہ انگیز قیادت پر مکمل اعتماد کااظہارکرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے نیز یہ مقتدر ایوان وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ملک کی تعمیر وترقی ،امن کی بحالی اور آئین و قانون کی بالادستی کیلئے کئے گئے عملی اقدامات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور گلگت  بلتستان کی عوام اداروں کی مضبوطی ،عدلیہ ،آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے اس کے ساتھ وزیراعظم پاکستان کے گلگت  بلتستان کی تعمیر وترقی کیلئے اٹھائے گئے عملی اقدامات یہاں کے عوام سے ان کی محبت اور دلی لگائو کا ثبوت ہیں ہمارا یقین ہے کہ ان کی رہنمائی میں گلگت  بلتستان کی حکومت یہاں کے عوام کے لئے ایک روشن مستقبل کی نوید ہے اور ترقی و خوشحالی کا یہ درخشاں سفر پوری آب و تاب سے جاری رہے گا۔یہ قرارداد مشیر قانون سید سہیل عباس نے پیر کے روز ایوان میں پیش کیا قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے وزیر پلاننگ و اطلاعات فتح اللہ  خان نے کہا کہ گزشتہ ستر سالوںمیں جو سیاسی جماعتیں اقتدار میں آئیں اور جس طرح اس ملک کو لوٹاگیا اور اربوں کھربوں کا مقروض بنایا اور سب کے سامنے ہے عمران خان ایک مشن کے تحت کرپشن کے خاتمے کیلئے اقتدارمیں آئے ہیں انہوںنے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کے گریڈ ون بے تحاشا بھرتی کئے گئے مگر ایل ایچ وی بھرتی نہیں کئے گئے اس طرح گریڈ IIتھوک کے حساب سے بھرتی کئے گئے مگر اساتذہ بھرتی نہیں کئے گئے اس وقت گلگت  بلتستان کے کسی بھی ہسپتال میں سہولیات نہیں ہیں ہم گلگت  بلتستان میں تعمیر وترقی کا عہد کر کے آئے ہیں مشیر خوراک شمس الحق لون نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے لیڈر عمران خان کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں پی ڈی ایم چوروں کا ایک ٹولہ ہے انہوںنے ووٹ کوعزت دو کا نعرہ تبدیل کرکے نوٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کیا ہے وزیر فنانس جاوید علی منوا نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد گلگت  بلتستان کی پوری قوم کی طرف سے وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کا اظہار ہے وزیراعظم عمران خان نے جس جرات مندانہ انداز سے قومی اسمبلی سے ووٹ لینے کافیصلہ کیا ہے وہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے اپوزیشن ایسے حکمرانوں کے سہارے زندہ ہے جو صرف جھوٹے اعلانات کے ذریعے قوم کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں وزیراعظم عمران خان نے گلگت  بلتستان کی سرزمین پر کوئی جھوٹا اعلان نہیں کیا عملی اقدامات کئے اپوزیشن اعلانات کے عادی ہیں عمران خان عملی کام کے عادی ہیں وزیر صحت حاجی گلبر خان نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ گلگت  بلتستان کے عوام اور اس اسمبلی کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا کہ گلگت  بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنایا جائے وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو متاثر کئے بغیر گلگت  بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کا اعلان کیا ہے قائد حزب اختلاف امجد حسین ایڈووکیٹ نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ ایک بے مقصد قرارداد پر اس ایوان کا وقت ضائع کیاگیا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ بائیس کٹھ پتلیاں جمع ہوئے ایک بڑے کٹھ پتلی پر اعتماد کااظہار کریںبائیس چینی چوروں کا ایک عظیم چینی چور کی حمایت کرنے پر کوئی فرق نہیں پڑتا ہے انہوںنے کہا کہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم پر اعتماد کی رائے شماری کے وقت 169ممبران قومی اسمبلی میں موجود تھے جبکہ اتحادی جماعتوں کے گیارہ اراکین غیر حاضر تھے تو 178ووٹ کہاں سے آگئے یہ پوری دنیا میں تماشا بن گیا ہے آخر ایسا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی انہوں نے کہا کہ ہم اس قرارداد کی نہ صرف مخالفت کرتے ہیں بلکہ مذمت کرتے ہیں اس طرح کی ڈرامہ بازی اس ایوان میں نہ کی جائے پی پی کے غلام شہزاد آغا نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح موجودہ حکومت اور وزراء چور دروازے سے اقتدار میںآئے ہیں اس طرح یہ قرارداد بھی چور دروازے سے ایوان میں لائی گئی ہے انہوںنے کہا کہ ممبران کو دو روز قبل جو ایجنڈا دیاگیا تھا اس میں یہ قرارداد شامل نہیں تھی اب یہ قرارداد کہاں سے شامل کی گئی ہے ۔مسلم لیگ (ن) کے انجینئر محمد انور نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا اعتماد کاووٹ لینا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے پی ڈی ایم کی قیادت تحریک انصاف کی حکومت کو بہت جلد گھر بجھوانے والی ہے جمعیت علمائے اسلام کے حاجی رحمت خالق نے کہا کہ یہ قرارداد اسمبلی میں نہیں آنی چاہیے ملک کی گیارہ سیاسی و مذہبی جماعتوں نے وزیراعظم کو دئیے گئے اعتماد کے ووٹ پر شکو وشبہات کا اظہارکیا ہے انہوںنے کہا کہ تحریک انصاف بڑے بڑے دعوے کررہے ہیں مگر زمین پر ان منصوبوں کا کوئی وجود نہیں ہے مسلم لیگ (ن) کے غلام محمد نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے گلگت  بلتستان کے چار دورے کئے ہیں انہوں نے گلگت  بلتستان کے حوالے سے ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے وزیر اعظم نے چلاس کا دورہ کیا وہاں پر کسی ڈسپنسری کابھی اعلان نہیں کیا وزیراعظم گزشتہ دو سالوں میں گلگت  بلتستان کیلئے ایک اسامی کی بھی منظوری نہیں دی ہے پی پی کی سعدیہ دانش نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے خود اعلان کیا تھا کہ اگر اسلام آباد سے سینٹ کی نشست ہار گئے تو وہ استعفیٰ دیدیں گے وزیراعظم اپنے اعلان کی لاج رکھتے ہوئے استعفیٰ دینا چاہیے انہوںنے کہا کہ جو لوگ اسمبلی کے ممبر نہیں تھے انہیں ماسک پہنا کر ووٹ کاسٹ کرایا ہے ۔قرارداد پر ہونے والی بحث کے اختتام پر سپیکر نے کہاکہ جو لوگ قرارداد کی حمایت کرتے ہیں وہ کھڑے ہوجائیں تو حکومتی بنچوں پر موجود اراکین قرارداد کی حمایت میں کھڑے ہوگئے جبکہ اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے جس پر ڈپٹی سپیکر نذیر احمد جو اجلاس کی صدارت کررہے تھے قرارداد کی اکثریت سے منظوری کا اعلان کیا۔