126

ہزارہ قوم کا جرم کیا ہے؟

محمد رضا ربانی، قمراہ

کوئٹہ مچھ میں ہزارہ قبیلے کے مزدوروں کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا وہ انتہائی دردناک اور قیامت خیز  ہے۔ یہ واقعہ کربلا کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی لاشیں گزشتہ بیس سال سے کبھی  بم دھماکوں اور کبھی گولیوں سے گرتی چلی آرہی ہیں۔ اس قوم سے تعلق رکھنے والے غریب مزدوروں کوہاتھ باندھ کر چھریوں سے سفاکانہ انداز میں شہید کر دیا گیا، اس واقعے کے بعد ورثا اپنے عزیزوں کی سربریدہ لاشوں کے ساتھ سڑک پر اس  شدید ٹھنڈے موسم میں دھرنا دیے  یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وزیراعظم صاحب  وہاں آکر  لاشوں کی حالت دیکھیں اور ہمیں تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیں اور یقین دہانی کرائیں کہ آئندہ ایسے واقعات نہیں ہوں گے مگر  ابھی تک حکمران مسند اقتدار پر سکون سے بیٹھے ہوئے ہیں اور ریاستی ادارے تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ بیس سال سے ہزارہ قوم کے لوگ  بے دردی کے ساتھ مارے جارہے ہیں۔ کبھی علمدار روڈ پر جلوس عزا میں شریک لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں تو کبھی ہزارہ ٹائون میں منوں  بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے دھماکا کر کے لوگوں کو شہید کردیا گیا۔جب ہزارہ ٹائون کے واقعے میں اس قوم نے سو سے زائد لاشیں اٹھا کر دھرنا دیا تو اس وقت  کی عسکری قیادت اور حکمران نے وہاں جا کر ان سے وعدے کیے اور یقین دہائی  کرائی تھی کہ اس طرح کے واقعات  آئندہ رونما نہیں ہوں گے،ان پر اعتماد کر کے خون سے غلطان  لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفنادیا  گیا  اور اب تو قبروں کے لیے جگہ بھی نہیں بچی۔ ملک میں جب اس طرح کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو رسمی طور پر انکوائری کمیٹی بنائی جاتی ہے اس وقت بھی کمیٹی بنائی گئی لیکن کمیٹی کی رپورٹ شائد غائب ہوگئی۔ اس وقت اگر  ان دہشت گردوں کو گرفت میں لے کر قرار واقعی سزا دی جاتی تو آج یہ واقعہ رونما نہ ہوتا۔ یہ واقعہ ہر پہلو اور ہر لحاظ سے دردناک و المناک ہے۔ ایک درد ناک منظرہے جوانسانی دل  رکھنے والے کو  ہلاکررکھ دیتا ہے ۔ایک بہن اپنے اکلوتے بھائی کی لاش سے لپٹ کر جان بلب حالت میں بے بسی اور بے بسی کے عالم میں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ہمارے خاندان میں جنازے اٹھانے والا کوئی مرد نہیں بچا'اس مظلوم بہن کے اس جملے نے چین سے بیٹھنے نہیں دیا اور قلم  اٹھانے پر مجبور ہوگیا۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ ایک جملہ نہیں بلکہ اس قوم سے وعدہ کرنے والے حکمرانوں  اور تحفظ فراہم کرنے والے ریاستی اداروں کے منہ پر طمانچہ ہے، آخر ریاستی ادارے کیوں  صرف تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنے ہم وطنوں اور شہریوں  کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں ان لوگوں کا جرم کیا ہے؟شاید اس قوم کا جرم یہ ہے کہ کوئٹہ کی آباد کاری میں ان کے بھی آبائواجداد کا حصہ و کردار ہے۔ کوئٹہ کی گلیوں، سڑکوں،  عمارتوں اورشہروں کی تعمیرو ترقی میں ہزارہ قبیلے کے لوگ کی محنت و خون شامل ہے اور  اسی کوئٹہ کی زمین دن بدن اس قوم پر تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ ان کو بے گھر کرنے کی  اور ان کی نسل کو ختم کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ملک کی حفاظت کرنا بھی ہزارہ قبیلے کا جرم ہے۔اس قوم سے تعلق رکھنے والے جنرل موسی خان کے نام اور تاریخ سے کون نا آشنا ہے، جنرل موسی خان نے ہماری عظیم فوج کی قیادت سنبھالی اور تقریبا آٹھ سال تک ملک کی سرحدوں کے علاوہ  لوگوں کی جان ومال کی بھی حفاظت کی۔انیس سو پینسٹھ کی  جنگ میں ان کی حکمتِ عملی اور بہادری کی وجہ سے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو شکست ہوئی، صرف یہی نہیں بلکہ انیس سو اٹھاون  میں جب کراچی میں حالات کشیدہ ہوئے تو جنرل موسی  کو امن کی بحالی کے لیے خصوصی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس وقت صحافیوں نے پوچھا کہ آپ  امن کی بحالی کے لیے گولیاں چلائیں گے؟ ہر پاکستانی سے محبت کے جذبے کا اظہار کرتے ہوئے  جنرل موسی  نے جواب دیا  کہ کیا میں اپنے بھائیوں کو گولیوں سے قتل اور ہلاک کر سکتا ہوں؟ جواب یقینا نفی میں تھا، لیکن موجودہ دور میں  ان کے قبیلے کے لوگوں کو گلی کوچوں اور بازاروں میں گولیوں سے چھلنی کیا جا رہا ہے۔ ہر پاکستانی، ہر مذہب  اور ہر  قوم کے لوگوں سے محبت کرنا بھی ہزارہ قوم کا جرم ہے اتنی لاشیں اٹھانے کے بعد بھی یہ قوم ببانگ دہل پکار کر واضح انداز میں اس حقیقت کو بیان کر رہی ہے کہ یہ شیعہ سنی مسئلہ نہیں اہل سنت ہمارے بھائی ہیں۔ اہل سنت بھی ان پر ہونے والے ظلم و ستم خصوصا اس واقعے کی نہ صرف مذمت کر رہے ہیں  بلکہ دھرنے  میں شامل ہوکر مظلوم قوم کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس بات کی تصدیق اس واقعے سے  ہوجاتی ہے کہ جب ہزارہ ٹائون کے سانحے میں اس قوم کے سو افراد شہید ہوئے تو اس وقت  دھرنے اور اجتماع میں اہلسنت بھائی  بھی ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ جب خبروں کا وقت ہوا اور خبروں میں لاشوں کی تصویروں کے ساتھ  یہ خبر سنائی گئی  تو وہاں پر موجود اہل سنت کے دو جوان بے ساختہ یہ کہتے ہوئے چیخ اٹھے مظلوم  قبیلے کے اتنے بندوں کو پھرسے شہید کر دیا گیا ہے یہ اس قبیلے کے ساتھ  اہلسنت بھائیوں کی  قلبی محبت اور ہمدردی کی ایک مثال تھی۔ہزارہ قوم کا جرم یہ بھی ہے کہ صرف جنرل موسی خان ہی نہیں بلکہ ہزارہ سے تعلق رکھنے والی ایک دلیر بیٹی نے جنگی طیارے اڑاکر دشمنوں کو للکار ا تھا اس ملک کی حفاظت کے لیے جوان بھائیوں کے شانہ بشانہ  اس قوم کی بیٹیاں  بھی کھڑی ہیں،  اس جرم کی پاداش میں ہزارہ قوم کی خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا اورہزارہ خواتین کے سروں میں گولیاں مار کر کوئٹہ کی سڑکوں کو رنگین کر دیاگیا لیکن قاتل آج بھی آزاد ہیں۔اس قوم کے بزرگوں اور علما کا ایک  جرم یہ بھی ہے کہ وہ  اپنی اولاد کو اپنی قوم کو آئین و قانون ہاتھ میں لینے اور  اسلحہ بندوق اٹھانے کی  ترغیب دینے کے بجائے قلم اور بستہ اٹھانے اور تعلیم کی راہ پر چلنے کی ہدایت کرتے چلے آرہے ہیں ،لیکن ملک دشمن عناصر ریاستی اداروں کو نہ صرف دھمکی دے رہے ہیں بلکہ بلوچستان سمیت ملک کے قلب و اطراف میں آہنی ہاتھوں اور جدید ہتھیاروں کے ساتھ دہشت گردی بپا کر رہے ہیں ۔ اب تو داعش  سے منسلک گروہ اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ مختلف جگہوں سے اپنے بندوں کو  اسلحے اور طاقت کے زور پرآزاد بھی کروا چکا ہے۔ہزارہ قوم کا جرم یہ بھی ہے کہ وہ محنت اور علم کے ذریعے اپنا اور ملک کا نام اور مستقبل روشن کرنا چاہتی ہے۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کی طرف سے لاحق خطرات کی اطلاع ملنے کے باوجود اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر علم حاصل کر رہی ہے اور اس قبیلے کی ایک بیٹی نے گزشتہ سال  مقابلے کے امتحان میں بلوچستان کی سطح پر پہلی جبکہ ملکی سطح پر نویں پوزیشن حاصل کی ہے ۔اس قبیلے کا بڑا جرم یہ ہے کہ ذہین وفطین ،پراستعداد  اور پرصلاحیت ہے۔ اس سانحے میں  شہید ہونے والے مشتاق حسین کی خبر دنیا تک پہنچ چکی ہے کہ انہوں نے انٹرمیڈیٹ میں 1053 نمبر لے کر بلوچستان میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی اور تعلیمی اخراجات کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے بلکہ محنت مزدوری کرتے ہوئے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں وہ کوئلہ کی کان میں مزدوری کرنے گئے ہوئے تھے، اسی طرح شہید احمد کا خواب پورا نہ ہوسکا ۔ہزارہ قبیلے کا جرم یہ بھی ہے کہ یہ لوگ غربت کی حالت میں بھی محنت شاقہ کرتے  ہیں لیکن کسی بھی ملک دشمن اور اسلام دشمن عناصر کے سہولت کار بن کر زندگی گزارنے کو ننگ و عار سمجھتے ہیں۔ اپنے کاروبار تباہ ہونے کے بعد بھی وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر کوئلے کی کان میں جا کراپنی اولاد کی تعلیم اور دیگر ضروریات کو پوری کرنے کیلیے مزدوری کر رہے تھے ،دشمن  کتنا بزدل تھا۔ وہ غریب کی اس  کی اس طرح کی محنت اور عزم سے بہت ڈر اور خوف محسوس رہا تھا اس لیے اس راہ کو بھی مسدود کرنے کے لیے ان کو بے دردی کے ساتھ  شہید کر دیا گیا ۔ کوئٹہ کے ایک مزدوراور غریب گھرانے  کی بیٹی نے جب مقابلے کا امتحان پاس کیا تو خوشی کے اظہار کے  ساتھ ان کی آنکھیں اشک بار تھیں ، جب ان سے پوچھا گیا تو وہ کہنے لگی میری کامیابی کی خبر میرے والد تک  نہیں پہنچی کیونکہ وہ کوئلے کی کان میں مزدوری کر رہے ہیں ۔خدارا اس قوم پر رحم کیجیے جس نے اس ملک کو سنوارنے کے لیے دن رات محنت کی ہے ، اس ملک کی سرحدوں کی حفاظت کی ہے۔آج کتنا درد ناک منظر دیکھنے کو مل رہا ہے کہ اس  ملک کے محافظ،محبت کرنے والی وفادار  قوم کے بزرگ قرآن سر پر اٹھا کر عسکری قیادت سے حکمرانوں سے یہاں تک کہ سیاسی پارٹیوں کی قیادت سے زندگی کی بھیک اور تحفظ طلب کر رہے ہیں  یہ ظلم کی انتہا ہے اور یہ بھی سراسر ناانصافی ہے کہ  آج بھی ظالم و مظلوم اور قاتل ومقتول کو ایک ہی نظر سے دیکھا اور ایک ہی صف میں شمار کیا جارہا ہے'ریاست کے مقتدر  اداروں کو چاہیے کہ  خاموشی اور مصلحت کی زنجیروں کو  توڑ کر قاتلوں کو قرار واقعی سزا دیں۔ ان شہداکے قاتلوں کو گرفتارکرکے  پھانسی دے کر ہی ان ورثا کے زخموں کو مندمل کیا جاسکتا ہے۔