100

یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کی منظوری

صوبائی کابینہ نے گلگت بلتستان میں پانچویں جماعت تک یکساں نصاب تعلیم لاگو کرنے کی منظوری دی ہے صوبائی وزیر اطلاعات فتح اللہ خان' وزیر خزانہ جاوید علی منوا'مشیر خوراک شمس الحق لون نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے دوسروں صوبوں میں سنگل نیشنل کریکولم رائج کیا گیا ہے اور صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں بھی قومی سطح پر رائج کردہ نصاب کو  کلاس ون سے پانچویں جماعت تک پڑھایا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے اگلے دو ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔ پبلک اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں سمیت دینی مدارس میں بھی یکساں نصاب تعلیم پڑھایا جائے گا۔  گلگت بلتستان میں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں صوبائی حکومت کی خواہش ہے کہ مستقبل میں گلگت بلتستان کا اپنا ہی ٹیکسٹ بک بورڈ بنے۔یکساں نصاب تعلیم کا نفاذ خوش آئند ہے مگر اس حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں کہا جاتا ہے کہ بچپن میں سیکھی ہوئی تربیت کا اثر، عمر بھر ساتھ رہتا ہے اور وہ ایک اعتبار سے،کردار کا ایک مستقل حصہ بن جاتا ہے۔ اچھی اسلامی اقدار و روایات کے مثبت اثرات، زندگی کے آخری ایام تک ساتھ جاتے ہیں اور وہ بھی بڑی شدت کے ساتھ۔ اس عمر میں سیکھی ہوئی باتیں جن کو ہم امتحان کی تیاری کے لئے، کرتے ہیں، وہ  ذہن کا ایک مستقل حصہ بن جاتی ہیں اور بڑی عمر میں عمل کی ترغیب دینے کے لئے ممدو معاون ثابت ہوتی ہیں۔ضرورت ہے کہ جدید ترین علم اور تحقیقات کے پیش نظر نصاب مرتب کیا جائے اور ماہرین تعلیم کی خدمات حاصل کی جائیں۔ ایک ایک مضمون کے لئے الگ الگ کمیٹیاں بنائی جائیں اور ایک کنونیئر کے علاوہ کم از کم دس سے بارہ ماہرین کو ان میں شامل کیا جائے۔اگرچہ اس پالیسی سے تمام صوبوں، شہروں اور دیہی علاقوں کے بچے بلا صنفی، سماجی و معاشی امتیاز کم و بیش یکساں کورس پڑھیں گے اور ان کا امتحان بھی یکساں انداز میں لیا جائے گا۔ کئی لوگ یہ مانتے ہیں کہ اس طرح بچوں میں پائی جانے والی تفریق کو ختم کیا جاسکے گا اور مساوی مواقع کی دستیابی ممکن ہوسکے گی۔تاہم مسئلہ یہ ہے کہ یکساں نصاب پر اگر عمل درآمد ہوا تو اس سے تفریقات میں کمی لانے میں مدد نہیں ملے گی۔ پاکستان میں بچوں کا تعلق مختلف سماجی و اقتصادی طبقات اور مختلف تعلیمی پس منظر رکھنے والے خاندانوں سے ہے۔ بچوں کی تعلیم پر کہیں زیادہ سرمایہ مختص کیا جاتا ہے اور کہیں کم، تمام بچے زبان پر یکساں انداز میں عبور نہیں رکھتے ہیں، ان کا تعلق مختلف ثقافتی و مذہبی پس منظر سے ہے جبکہ یہ الگ الگ جغرافیائی ماحول میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ یکساں نصاب، ایک جیسی کتابوں یا یکساں امتحانی عمل سے تفریق میں کمی واقع نہیں ہوگی الٹا اس طرح تفریق میں اضافہ ہوسکتا ہے۔اگر امتحانات بہت ہی مشکل ہوئے تو ان میں کامیابی حاصل کرنے والوں اور ناکام ہوجانے والوں کے درمیان تفریق پیدا ہوگی۔ کسے ملازمتوں تک رسائی مل سکتی ہے۔یکساں تعلیمی زبان کا نفاذ عمل میں لانے سے اگر گھر میں بولی جانے والی یا مادری زبان نظر انداز ہوجائے تو یوں ہم درحقیقت سیکھنے کے عمل میں بچوں کے لیے مشکلات کر رہے ہوتے ہیں۔اگر نصاب اور کتب یکساں ہوں تو سندھ میں رہنے والے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے بچوں کو یکساں کتابیں پڑھنی ہوں گی اور یوں ان کی علاقائی ثقافتیں، روایات، تاریخ اور ادب نظر انداز ہوجائے گا۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان میں ایک قوم وجود میں لانے کے لیے یکساں نصاب ضروری ہے۔ اگرچہ یہ تو واضح نہیں کہ وہ حقیقی معنوں میں کیا کہنا چاہ رہے تھے، تاہم  قوم میں اتحاد و اتفاق کے پہلو کا تعلق صرف غیر مساوات کے خاتمے سے ہی ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے نظریاتی یکسانیت کے تصور کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔یہ ضروری نہیں کہ یکساں نصاب، کتب اور امتحانی طریقہ کار نے ایک بڑے اور گونا گونیت سے بھرپور لوگوں کے گروہ کو نظریاتی طور پر زیادہ یکسانیت یا ہم آہنگی سے بھرپور گروہ بنانے کی راہ ہموار کی ہے یا نہیں ۔ کیا اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے لازمی مضامین نے اس حوالے سے مدد فراہم کی؟ کیا اس حوالے سے کوئی ثبوت دستیاب ہے؟ آخر وہ کون سی بات ہے کہ جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ یکساں نصاب سے ہمیں ایک قوم بننے جیسے مشکل مقصد کا حصول ممکن ہوگا؟ جس کے نفاذ کی ہم زیادہ صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔اس قسم کے تجربے پر بھی ایک بڑی لاگت آئے گی۔ ہم یہ تو بڑی آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ اس نوعیت کے تجربے میں کوئی حرج نہیں کہ اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ یکساں نصاب، مجوزہ علمی کتابوں اور طے شدہ امتحانی نظام کو تمام اسکولوں میں متعارف کروانے میں ڈھیر سارا پیسہ اور سیاسی سرمایہ خرچ کرنا پڑے گا۔ ان وسائل کو اگر شعبہ تعلیم میں دیگر جگہوں پر خرچ کیا جائے تو زیادہ اچھی بات ہوگی۔ ہمیں اپنی توجہ ان متعدد اصلاحات پر مرکوز کرنی چاہیے جن کی تعلیمی شعبے میں اشد ضرورت ہے۔ کیا ہمیں اس یکساں نصاب متعارف کروانے سے زیادہ ان اصلاحات کو ترجیح نہیں دینی چاہیے؟پاکستان میں کم و بیش دوکروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ سرکاری یا کم فیس کے لینے والے نجی اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی اکثریت غیر معیاری تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ ان مسائل کو چھوڑ کر ہم اپنے وسائل، وقت اور سیاسی سرمایہ یکسانیت کے معاملات پر لگانے پر تلے ہیں۔ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یکساں نصاب، علمی کتب اور امتحانی عمل، کا نفاذ اگر ممکن بھی ہوتا تو بھی اس سے اسکولوں تک رسائی اور معیار جیسے اہم مسائل حل نہیں ہوں گے۔ بچوں کے اسکول میں داخلے کی شرح بڑھانے کے لیے زیادہ اسکولوں، اساتذہ، ٹرانسپورٹ کی سہولیات اور اسکولوں میں داخلے کا رجحان بڑھانے کی خاطر خصوصی مراعات دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ نصاب کی یکسانیت سے ان میں سے کسی ایک معاملے پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ معیارِ تعلیم کا بڑی حد تک تعلق کتب، اساتذہ کے فن تدریس اور نصابی علم، ٹیچر میں ترغیب پیدا کرنے اور تعلیم کی صورتحال کا تعین کرنے کے معیاری طریقے درکار ہوتے ہیں لیکن ان شعبوں میں سدھار لانے کے لیے یکسانیت کون سا کردار ادا کرسکتی ہے؟ ہم یکسانیت کو برابری سے جڑے مسائل ختم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم  کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یکسانیت کے ذریعے برابری قائم نہیں کی جاسکتی۔ بچوں کے حالات، ان کی ضروریات، صلاحیتوں اور خواہشات کی گونا گونیت پر مبنی فریم ورک کی حدود میں رہتے ہوئے برابری سے جڑے مسائل حل کرنا ہوں گے۔برابری، اسکولوں تک رسائی اور معیار سے جڑے مسائل کے حل کے لیے شعبہ تعلیم کو متعدد اور بنیادی نوعیت کی اصلاحات درکار ہیں۔ تاہم یکساں نصاب، کتب یا امتحانی نظام کے نفاذ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس عمل سے کوئی ایک بھی ایسا مسئلہ حل نہیں ہوگا جسے ہم حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگر یکساں نصاب سے متعلق اس اصلاحاتی عمل کا نفاذ ممکن ہو بھی جاتا تو اس کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے پڑیں گے جبکہ اس کے نتیجے میں تعلیم سے جڑے دیگر شعبوں کو ٹھیس بھی پہنچے گی۔بہرحال اس نکتہ نظر سے قطع نظر موجودہ حکومت کی جانب سے تمام پاکستانیوں کے مشترکات کی بنیاد پر یکساں تعلیم فریم ورک کی تشکیل کے منصوبے کا درست سمت میں  پہلے قدم کے طور پر خیرمقدم ہونا چاہیے لیکن  سنگل نیشنل کریکیولم یا یکساں قومی نصاب کے عنوان سے شائع ہونے والی دستاویز کا دائرہ بنیادی فریم ورک تک محدود نہیں۔ اس میں قومی سطح پر پائے جانے والے تنوع کو زیادہ اہمیت دیے بغیر یکساں تعلیمی نظام کی کوشش نظر آتی ہے اور اسی وجہ سے صوبوں کی جانب سے اس پر کڑی تنقید کی گئی۔قومی نصاب کے نفاذ کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور حکومت نے آئندہ تعلیمی سیشن کے لیے اس کے تحت نصابی کتب کی اشاعت کے احکامات بھی دے دیے ہیں۔ صوبائی حکومتوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ انہی خطوط پر نصابی کتب تیار کریں۔ بدقسمتی سے وفاقی وزارت تعلیم نے کئی رکاوٹوں کو نظر انداز کیا ہے۔ وفاق اور صوبوں کے مابین باہمی رابطہ بھی ناقص رہا ۔