پاکستان میں جدید بینکاری کا نیا دور، اسٹیٹ بینک نے پرزم پلس متعارف کرادیا جب کہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان میں رئیل ٹائم انٹربینک پیمنٹ سیٹلمنٹ سسٹم کے نئے ورژن پرزم پلس کے آغاز سے ملک میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا نیا باب کھل گیا ہے۔
وہ اسٹیٹ بینک میں پرزم پلس کی تعارفی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔تقریب میں اسٹیٹ بینک کے اعلی عہدے داران سمیت بینکنگ انڈسٹری کی چیدہ شخصیات عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک نے رئیل ٹائم سیٹلمنٹ کے زریعے کی جانے والی ٹرانزیکشنز کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ پرانے نظام کے تحت گزشتہ برس ایک ہزار 43 کھرب روپے مالیت کی ٹرانزیکشنز پروسیس کی گئیں، جو ملکی جی ڈی پی سے دس گنا زیادہ ہیں۔
ان میں سب سے زیادہ حصہ 730 کھرب روپے مالیت کی حکومتی سیکیورٹیز کے لین دین کا تھا، جب کہ حجم کے اعتبار سے 91 فیصد ٹرانزیکشنز تیسرے فریق کے کسٹمر ٹرانسفرز پر مشتمل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ موبائل بینکنگ ایپس کے 2 کروڑ 80 لاکھ، برانچ لیس بینکنگ کے 7 کروڑ 10 لاکھ اور انٹرنیٹ بینکنگ کے ایک کروڑ 70 لاکھ صارفین اس ڈیجیٹل تبدیلی کا ثبوت ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ پرزم پلس جدید عالمی معیار ISO 20022 پر مبنی ہے جو مالیاتی لین دین میں شفافیت، سیکورٹی اور باہمی ربط کو مزید مضبوط کرے گا۔ اس نظام میں لیکویڈیٹی مینجمنٹ ٹولز، مستقبل کی ادائیگیوں کی شیڈولنگ اور مرکزی سیکیورٹیز ڈپازٹری کے ساتھ مربوط فیچرز شامل ہیں، جو نیلامیوں، کولیٹرل مینجمنٹ اور اوپن مارکیٹ آپریشنز کو مزید سہل بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے متعارف کرایا گیا یہ نظام پاکستان کی مالیاتی صنعت اور کاروباری برادری کے لیے ایک انقلابی پیش رفت ہے۔